نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت نےبجلی 4 روپے 74 پیسےفی یونٹ مہنگی کردی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:نیپراکی جانب سےنوٹیفکیشن جاری کردیاگیا
  • بریکنگ :- بجلی اکتوبرکی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں مہنگی کی گئی،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- صارفین سےاضافہ دسمبرکےبجلی بلوں میں وصول کیاجائےگا،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- بجلی صارفین پر 60 ارب روپےسےزائدکااضافی بوجھ پڑےگا
  • بریکنگ :- کےالیکٹرک اورلائف لائن صارفین پراطلاق نہیں ہو گا
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

بھارت کی دنیا بھر میں بدنامی

شراب کی دکانیں کھول کر بھارت کی وفاقی سرکار اور صوبائی سرکاریں بری طرح سے بدنام ہو رہی ہیں۔ بدنامی تو انہوں نے اپنے گزشتہ کئی کارناموں سے بھی کمائی ہے لیکن اس وقت شرابیوں کا جو نظارہ بھارت کے شہروں کی سڑکوں پر دکھائی دے رہا ہے‘ ویسا بھارت میں پہلے کبھی نہیں دکھائی پڑا۔ دنیا بھر میں بھارت کی بے حد بدنامی ہو رہی ہے۔ شراب کی دکانوں پر ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو کلومیٹر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ اتنی بوتلیں لادے ہوئے گھر لوٹ رہے ہیں کہ عام لوگ انہیں دیکھ کر حیران ہیں۔ انہیں یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ بھارت میں اتنے شرابی ہیں۔ بیرونی ممالک میں جو لوگ ہمارے ٹی وی چینلوں کو دیکھ رہے ہیں‘ وہ پوچھتے ہیں کہ یہ بھارت ہے یا دارو بازوں کا کوئی ملک ہے؟ میں نے ان سے کہا ہے کہ بھارت سے کئی گنا زیادہ شرابیوں کے ملک یورپ اور امریکہ ہیں لیکن بھارت میں شراب سدا چھپ کر پی جاتی ہے۔ اب سے ساٹھ‘ ستر سال پہلے شراب کی دکانیں محلے کے باہر کسی دور دراز کے کونے میں ہوا کرتی تھیں‘ لیکن اب اس کی دکانیں بازاروں اور بستیوں میں ہیں۔ اسی لیے شرابیوں کی لمبی قطاریں لوگوں کا دھیان کھینچ رہی ہیں۔ اتنی لمبی قطاریں تو میں نے کبھی یورپ‘ امریکہ اور روس میں بھی نہیں دیکھیں۔ ہمارے یہاں سوشل دوری کے اصول کی دھجیاں اڑ گئیں۔ سرکار نے پہلے سے کوئی انتظام ہی نہیں کیا۔ اس میں پینے والوں کی غلطی کیا ہے؟ انہوں نے شراب پئے بنا 40 دن کاٹ دیے لیکن ہماری عظیم سرکاریں شراب کو بیچے بنا ایک دن بھی نہیں کاٹ سکیں۔ لاک ڈائون کو ڈھیلا کرتے ہی انہوں نے شراب کی دکانیں کھلوا دیں کیونکہ شراب سے انہیں لگ بھگ دو لاکھ کروڑ روپے ٹیکس ملتا ہے۔ ہمارے لیڈروں‘ جو اپنے آپ کو گاندھی‘ گولوکر‘ سردار پٹیل‘ جے پرکاش نارائن اور لوہیا کا پیروکار کہتے ہیں‘ کو ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ پیسوں کی خاطر اپنا ایمان لٹوانے پر آمادہ ہو گئے۔ آئین کی حکم عدولی پر اتارو ہو گئے ہیں۔ وہ چاہیں تو دو لاکھ کروڑ روپے اپنی ادویات اور حکمت والے نسخے بیچ کر اور عالمی منڈی میں سستے پڑے تیل کو جمع کر کے کما سکتے ہیں۔ اگر بہار اور گجرات شراب بندی کر کے بھی دندنا سکتے ہیں تو کیا دوسرے صوبوں کا کیا دیوالہ کھسک جاتا؟ صرف ایک دن میں ایک ہزار کروڑ روپے کی شراب بکوا کر ہماری سرکار نے کورونا جیسے شیطان کی خدمت نہیں کی ہے؟ شراب سے انسانوں کی قوت بڑھے گی یا کم ہو گی؟ بھاجپا اور سنگھ کی اصولوں میں ڈھلی بھارت کی وفاقی سرکار سے میں یہ امید کرتا تھا کہ وہ شراب سے پیسہ کمانے کی صوبوں کی اس مانگ کو خارج کر دیتی اور چالیس دن کی اس مجبوری کے صبر کو سدا کے لیے عادت بنا دیتی اور شراب کے غیر قانونی ہونے کا اعلان کر دیتی۔
کورونا میں بڑی نوٹنکیاں 
تالا بندی میں سرکار نے ڈھیل دے دی ہے۔ بیچ میں پھنسے ہوئے مزدور اور شاگردوں کی گھر واپسی کے لیے ریلیں چلا دی ہیں۔ اس سے لوگوں کو کافی راحت ملے گی لیکن ان کے ساتھ جڑے دو مسئلوں پر سرکار کو ابھی سے پالیسی بنانی ہو گی۔ ایک تو جو مزدور اپنے گائوں پہنچے ہیں‘ ان میں سے بہت سے لوٹنا بالکل نہیں چاہتے۔ آج ایسے درجنوں مزدوروں کے بارے میں اخبار رنگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ‘ چھ ہزار روپے مہینہ کے لیے اب ہم اپنے خاندان والوں سے دور نہیں رہ سکتے۔ گائوں میں رہیں گے‘ چاہے کم کمائیں گے لیکن مست رہیں گے۔ اگر یہ تبدیلی بڑے پیمانے پر چل پڑی تو شہروں میں چل رہے کارخانوں کا کیا ہو گا؟ اس کے مخالف پانچ سات کروڑ مزدور اپنے گائوں سے واپس کام پر لوٹنا چاہیں گے تو کیا ہو گا؟ وہ کیسے آئیں گے‘ کب آئیں گے اور کیا تب تک ان کی نوکریاں قائم رہ پائیں گی؟ گائوں پہنچے ہوئے لوگوں میں اگر کورونا پھیل گیا تو سرکار کیا کرے گی؟ سرکار کی زبان گھریلو نسخوں وغیرہ کے بارے میں لڑکھڑا رہی ہے۔ اس میں ہمارے لیڈروں کا زیادہ جرم نہیں ہے۔ وہ کیا کریں؟ وہ بیچارے اپنے نوکر شاہوں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ نوکر شاہوں کے تجربے لیڈروں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اپنے نوکر شاہ انگریزوں کے بنائے ہوئے دماغی غلامی کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کورونا سے متاثر ملک کے اضلاع کو ریڈ‘ اورینج اور گرین زون میں بانٹا ہے۔ اس کے دماغ میں ان کے لیے ہندی‘ اردو اور دیگر بھارتی زبانوں کے لفظ کیوں نہیں آئے؟ ملک کے لگ بھگ سو کروڑ لوگوں کو ان الفاظ کا پتا ہی نہیں ہے۔ اسی طرح کی نقل بڑی سطح پر بھی ہو رہی ہے۔ ملک کورونا مصیبت میں پھنسا ہوا ہے لوگوں سے تالیاں‘ تھالیاں بجوائی جا رہی ہیں۔ ایک طرف راحت کے لیے لوگوں سے عطیہ مانگا جا رہا ہے اور دوسری طرف بھارتی حکومت فوجی نوٹنکیوں میں کروڑوں روپے برباد کرنے پر اتارو ہے۔ چاروں فوجی سربراہ‘ پریس کانفرنس کریں گے۔ جب یہ اعلان ٹی وی چینلوں پر سنا تو سوچا کہ سرکار شاید کورونا جنگ میں ہماری فوج کو بھی متحرک کرنے کا بڑا اعلان کرے گی لیکن کھودا پہاڑ تو نکلی چوہیا۔ بھارتی فوج اب کشمیر سے کنیا کماری اور کٹک سے بھج تک پھول برسائے گی‘ اڑانیں بھرے گی اور بڑی نوٹنکی کرے گی‘ کورونا فائیٹروں کے احترام میں! اس سے بڑا مذاق کیا ہو سکتا ہے؟ کیا فوج کا یہی کام ہے؟ یہ ہمارے لیڈر اس لیے کروا رہے ہیں کیونکہ بالکل یہی کام ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں کروا رہے ہیں۔ 
مزدوروں کی واپسی 
کرناٹک کی سرکار نے اپنا فیصلہ بدل کر ٹھیک کیا۔ شمالی بھارت کے مزدوروں کی گھر واپسی کے لیے جو ریل گاڑیاں تیار تھیں‘ پہلے اس نے انہیں اچانک رد کر دیا تھا لیکن ہر طرف ہونے والی تنقید نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اگر ان مزدوروں کو 40 یا 45 دن پہلے ہی گھر واپسی کی چھوٹ مل جاتی تو ابھی تک یہ کام پر واپس لوٹ آتے لیکن صنعت کاروں اور بلڈرز کے چھکے چھوٹے ہوئے ہیں۔ یہ مزدور اگر اپنے گھر چلے گئے تو کارخانوں کا چلنا کیسے شروع ہو گا؟ لیکن ابھی جو آنکڑے سامنے آئے ہیں‘ ان سے تو یہ فکر دور ہو سکتی ہے۔ پتا چلا ہے کہ بینگلورو میں باہر کے پندرہ لاکھ مزدور ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک لاکھ لوگوں نے گھر لوٹنے کی درخواست دی ہے۔ اسی طرح گجرات میں 35 لاکھ مزدور میں سے صرف دو لاکھ لوگوں نے واپس گھر جانے کی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جو لوٹنا چاہتے ہیں‘ انہیں ابھی لوٹنے دیا جائے اور ان کے لیے اتنی پُر کشش تنخواہ اور سہولیات کا انتظام کیا جائے کہ وہ خود ہی کام پر لوٹ آئیں۔ اس ہدف کا مکمل ہونا سرکاروں کے متحرک تعاون کے بنا نہیں ہو سکتا۔ ایم پی کے وزیر اعلیٰ شوراج سنگھ چوہان نے اس متعلق کچھ ٹھوس شروعات کی ہیں۔ دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی اس پر غور کر سکتے ہیں۔
دوسرے صوبوں کے مزدوروں کی طرح تبلیغی جماعت کے تین ہزار بندے بھی گزشتہ ایک ماہ سے دلی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کورونا کو پھیلانے میں اس جماعت کے غیر ذمہ دارانہ برتائو اور سرکار کی لاپروائی کی میں کافی سخت الفاظ میں مذمت کر چکا ہوں‘ لیکن ان تین ہزار لوگوں کی نظر بندی (قرنطینہ) کے بعد اب گھر جانے کی اجازت ملنی چاہیے تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ تین مئی تک کرفیو جیسا لگا ہوا تھا لیکن اب کیا ہے؟ اب بھی انہیں جانے کیوں نہیں دیا جا رہا ہے؟ میری رائے تو یہ ہے کہ جو غیر ملکی تبلیغی بھی پھنسے ہوئے ہیں‘ ان پر سرکار اپنا دماغ کیوں خرچ کر رہی ہے؟ انہیں جیل میں بٹھا کر کھلانے پلانے سے بہتر ہے کہ انہیں اپنے ملک جانے دیا جائے۔ بھارت میں تبلیغیوں نے کورونا کا بھانڈا پھوڑ کر دیا ہے۔ ان کی سخت جانچ جاری ہے۔ اگر کوئی کسی کو گمراہ کر رہا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ بھارت سرکار کو اس معاملے میں سنجیدگی اختیار کرنا ہو گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں