نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےمقامی حکومتوں سےاختیارات چھین لیےہیں،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ حکومت کےنئےنظام کومستردکرتےہیں،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےجعلی مقامی حکومت کااعلان کیا،اسدعمر
  • بریکنگ :- آئندہ 2 ہفتےمیں وزیراعظم کراچی کادورہ کریں گے،اسدعمر
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان گرین لائن کاافتتاح کریں گے،اسدعمر
  • بریکنگ :- کراچی کادیرینہ مطالبہ مردم شماری رہاہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےفیصلہ کیاہر 5 سال بعدمردم شماری کرائی جائےگی،اسدعمر
  • بریکنگ :- دسمبر2022 میں مردم شماری مکمل کردی جائےگی،اسدعمر
  • بریکنگ :- وفاق کی معاونت سےکراچی کی ترقی کاسفرشروع ہوچکاہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ کےعوام کےساتھ ظلم برداشت نہیں کیاجائےگا،اسدعمر
  • بریکنگ :- کراچی ترقی کرےگا تو پاکستان ترقی کرےگا،اسدعمر
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

زراعت قانون: ’’دام باندھو‘‘پالیسی کو نافذ کریں

پنجاب کی قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قانون نافذ کیا ہے جس کا مقصد کاشتکاروں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت دینا ہے۔ اس قانون کی حمایت بی جے پی کے دو ممبران اسمبلی کو چھوڑ کر تمام پارٹیوں کے ایم ایل ایز نے کی ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے ساتھ کوئی بھی سرکاری قیمت سے نیچے گندم اور دھان کی فصل بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی خرید سکتا ہے۔ جو بھی اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا‘ اسے تین سال قید ہوگی۔ بڑے پیمانے پر ایسا لگتا ہے کہ یہ قانون کسانوں کو زبردست تحفظ فراہم کرے گا‘لیکن اس ہموار سڑک پر بہت سے گڑھے بھی نظر آتے ہیں۔یہ قانون صرف گندم اور دھان کی خرید و فروخت پر لاگو ہوگا ، دوسری فصلوں پر نہیں۔ یہ قانون ان کاشتکاروں سے بالکل غافل ہے جو جوار ، مکئی وغیرہ کاشت کرتے ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی اس قانون سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ دوسرا ‘یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر کسان اپنی گندم اور دھان کی فصل کو منڈیوں میں لے آئے۔ اگر وہ انہیں کھلی منڈی میں کم قیمت پر بیچ دیتے ہیں اور نقد لیتے ہیں تو حکومت اسے کیسے پکڑے گی؟ اگر کوئی کسان سرکاری امدادی قیمت سے زیادہ پر فروخت کرنے پر نہیں پکڑا جاتا ہے ، تو کم قیمت پر فروخت کرنے پر وہ کیسے اور کیوں پکڑا جائے گا؟ کسان اپنے گھر میں فصل کو بوسیدہ کرنے کے بجائے اسے کسی بھی قیمت پر بیچنا چاہتا ہے۔ اگر پنجاب کا کسان اپنا سامان ہریانہ یا ہماچل پردیش کو فروخت کرنا چاہتا ہے تو اس پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہو گا۔ حکومت کا سرکاری قیمت کوقانونی حیثیت دینا یا امدادی قیمتوں کی حمایت کرنا‘ اس سے کہیں بہتر ہے کہ اس کے اختیارنہ کرنے پر سزا دی جائے۔ پنجاب کے کسان پنجاب کی کانگریس حکومت کے اس قانون سے راحت محسوس کریں گے اور راجستھان اور چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومتیں بھی اس طرح کے قوانین منظور کرنا چاہتی ہیں۔ دوسری طرف، کیا گورنر پنجاب اس قانون پر اپنی مہر لگائیں گے ، یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔ لیکن وزیر زراعت نریندر تومر کا ردعمل کافی متوازن ہے‘انہوں نے کہا ہے کہ مرکز اس قانون پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔بہتر ہوگا اگر بھارتی رہنما زراعت کے قانون کو سیاسی فٹ بال نہ بنائیں۔ در حقیقت اس موضوع پر کل جماعتی اجلاس میں کھلی بحث ہونی چاہئے کہ کاشتکاروں کو نہ صرف ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملنی چاہئے بلکہ صارفین کو بھی لوٹ سے بچانا چاہئے۔ اگر ہمارے قائدین اس موقع پر ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی ''دام باندھو‘‘ پالیسی پر کچھ پڑھیں اور لکھیں تو کسانوں کے ساتھ 140 کروڑ صارفین کو بھی راحت ملے گی۔
بھارت میں دو انقلاب ضروری ہیں!
بھارت میں فوری طور پر دو انقلابوں کی ضرورت ہے۔ ان دو انقلابوں کیلئے پہلے ایک قوم تشکیل دینا ہوگی۔ بھارت میں اس وقت کوئی قوم نہیں ہے۔ یہاں ایک'' ہندوستان ‘‘اور دوسرا ''انڈیا‘‘ہے۔ 1947ء میں ہم گاندھی اور نہرو کو ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے ، لیکن بھارت اور ہندوستان کی تقسیم کا کون ذمہ دار ہے؟ دہلی میں اب تک جتنی حکومتیں، پارٹیاں اور قیادتیں تشکیل پائی ہیں‘ کون سی ایسی بڑی جماعت ہے جو مرکز یا ریاستوں میں حکمرانی نہیں کرتی رہی ، لیکن کسی نے بھی تعلیم اور صحت میں بنیادی تبدیلی نہیں کی۔ سبھی اپنی ٹرینیں انگریزوں کی پٹریوں پر چلا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے ایک نئی تعلیمی پالیسی وضع کی ہے۔ اس میں کچھ قابل ستائش امور ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ ہمارے بچے ہندوستانی زبانوں کے ذریعے تعلیم حاصل کریں گے لیکن ملازمتیں انہیں انگریزی کے ذریعے ملیں گی۔ صرف مجبور لوگ ہی اپنے بچوں کو بے روزگاری میں دھکیلیں گے۔ جو لوگ انگلش میڈیم سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ ملازمت ، حیثیت اور سامان پر قبضہ کریں گے۔یہ ضروری ہے کہ پورے ملک میں نظام تعلیم ایک جیسا ہو۔ غیر سرکاری سکولوں اور کالجوں کو ختم نہیں کیا جانا چاہئے لیکن ان میں اور گورنمنٹ سکولوں‘ کالجوں میں کوئی فرق نہیں ہوناچاہئے۔ نہ تو کوئی فیس، نہ میڈیم اور نہ ہی معیار۔ لازمی انگریزی کو سرکاری ملازمتوں سے ختم کیا جائے۔صحت اور طب کے شعبے میں یہ انقلاب ضروری ہے کہ دوائی کے معاملے میں بھارت بہت پسماندہ ہے۔ انڈیاکے لوگ 25‘25 لاکھ خرچ کرکے کورونا کا علاج کروا رہے ہیں لیکن دیہی ، غریب ، دلت اور قبائلی لوگوں کیلئے معمولی دوائیں بھی میسرنہیں ہیں۔ پھر ہم کیا کریں؟ تمام غیر سرکاری ہسپتالوں پر سخت قوانین نافذ کریں تاکہ وہ مریضوں کو لوٹ نہ سکیں۔ بہت سے سیاستدانوں اور افسران نے مجھ سے پوچھا کہ اگر یہ پابندیاں غیر سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں پر عائد کی گئیں تو تعلیم اور طب کی سطح نہیں گرے گی؟ کیا وہ سرکاری ہسپتالوں اورسکولوں کی طرح نچلی سطح پر نہیں آجائیں گے؟ میرا مشورہ ہے کہ صدر سے لے کر نیچے تک تمام ملازمین اور منتخب عوامی نمائندوں کیلئے یہ لازمی کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو صرف سرکاری سکولوں میں پڑھائیں اور اپنے اہل خانہ کا علاج صرف سرکاری ہسپتالوں میں کرائیں۔پھر دیکھنا راتوں رات تعلیم اور طب کے شعبوں میں انقلاب آتاہے یانہیں؟
پانڈورنگ شاستری جیسا کوئی اور نہیں
آج پانڈورنگ شاستری اٹھاولے کی 100 ویں سالگرہ ہے۔ میں ان کا موازنہ کس سے کروں؟ پچھلے 100 سالوں میں بہت سے ایسے بڑے آدمی ہوئے ہیں جن کے نام سنہرے حرفوں میں عالمی تاریخ میں درج ہیں ، لیکن اٹھاولے نے تنہا یہ معجزاتی کام دکھایا ہے ۔ مہاراشٹر اور گجرات میں خاص طور پر اور بھارت اور 30 دیگر ممالک میں ان کے پانچ لاکھ سے زیادہ پیروکار ہیں۔اب سے تقریباً 25 سال قبل میرے سینئر ہم جماعت ڈاکٹر رمن سریواستو اور گاندھیائی مسٹر راجیو وورا نے مجھے اٹھاولے کی سوادھیائے موومنٹ پر غور کرنے کی تاکید کی تھی۔ ان کے اصرار پر میں نے آٹھ دن مہاراشٹر کے جنگلوں، ساحلوں اور پہاڑیوں میں گزارے۔ وہاں میں روزانہ قبائلیوں ، دلتوں، دیہاتیوں، ناخواندہ غریبوں اور ماہی گیروں سے ملتا تھا اور ہر رات دادا (اٹھاولے) کے عقیدت مندوں میں میری تقریر ہوتی تھی۔ میری تقریروں میں مجھ پر جو ردعمل ہوتا تھا ، ممبئی کے شری مہیش شاہ ہر رات فون پر دادا کو کہتے تھے۔ میں نے یہ بات اس وقت سنی جب میں نے ممبئی میں دادا سے پہلی بار کسی بڑے فنکشن میں ملاقات کی۔ دادا نے مجھے بتایا کہ سوادھیائے کے بارے میں آپ کا ردعمل وہی ہے جیسے ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کے تھے۔ اس کے بعد دادا کے رہنے (2003ء) تک ہر تقریب میں وہ بطور مہمان مجھے فون کرتے تھے۔ ان کے ساتھ میں نے ممبئی ، راج کوٹ، پونے وغیرہ میں متعدد اجلاسوں سے خطاب کیا۔ان کے سالانہ تہواروں میں 20 سے 25 لاکھ عقیدت مندوں کی شرکت ایک عام بات تھی۔ میں نے بہت سے ممبرپارلیمنٹ ، وزرا، وزرائے اعلیٰ ، گورنرز اور نائب وزرائے اعظم کو ان کے جلسوں میں سٹیج کے نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ ایک عظیم سکالر اور کمال کے سپیکر تھے۔وہ ایک بہت ہی محبت کرنے والے اور پرجوش شخص تھے۔2003ء میں انہوں نے مجھے فون کیا‘ جب ان کے ڈاکٹروں کو ذیابیطس کی وجہ سے ان کی آدھی ٹانگ کاٹنا پڑی۔ اس دن میں دبئی میں تھا۔ اگلے دن جب میں ان سے ممبئی میں ملا تو انہوں نے کہا کہ میں اس سودھیائے تحریک کیلئے آپ کا مقروض ہوں۔ آپ اسے چلائیں۔ اس میں 50 لاکھ عقیدت مند ہیں۔ اس کے 400 کروڑ روپے کیاثاثے ہیں اور یہ بہت سے ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ میرے دادا کی یہ جانشینی لینے سے انکار کرنے پر ، انہوں نے اسے اپنی بھانجی جے شری تالوالکر کے حوالے کردیا۔ آج ملک کو دادا جیسے عظیم انسان کی اشد ضرورت ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں