نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئندہ انتخابات میں آئی ووٹنگ اورای وی ایم کےاستعمال کامعاملہ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیرشبلی فرازکی چیف الیکشن کمشنرسےملاقات
  • بریکنگ :- ملاقات میں الیکشن کمیشن کےممبرسندھ اوربلوچستان بھی شریک
  • بریکنگ :- انتخابی ترمیمی بل 2021 پرعملدرآمدسےمتعلق تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- ای وی ایم اورسمندرپارپاکستانیوں کوووٹنگ کےحق پربات چیت،ذرائع
  • بریکنگ :- شبلی فرازکی پائلٹ ٹیسٹنگ کےلیےای وی ایم کی فراہمی کی یقین دہانی
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی الیکشن کمیشن کوبھرپورمعاونت کی ہدایت،ملاقات میں گفتگو
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاکہناہےانتخابات میں جدت کاراستہ اختیارکیاجائے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن ای وی ایم کی خصوصیات بارےفیصلہ کرے،وفاقی وزیرشبلی فراز
  • بریکنگ :- رواں ماہ الیکشن کمیشن کی 3 کمیٹیاں رپورٹس جمع کرائیں گی،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- حکومت اورالیکشن کمیشن میں کوآرڈی نیشن مزیدبہتربنانےکیلئےرابطوں پراتفاق
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

میانمار میں بغاوت


بھارت کے پڑوسی ملک میانمار (برما یا براہمدیش) میں پیر کے روز صبح سویرے حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا‘ اس کے صدر بن منٹ اور سپریم لیڈر مسز آنگ سان سوچی کو نظر بند کر دیا گیا اور فوج نے ایک بار پھر ملک پر قبضہ کر لیا ہے۔ میانمار میں یہ فوجی بغاوت صبح سویرے ہوئی، جبکہ دوسرے ممالک میں یہ کام عام طور پر رات کے وقت ہوتا ہے۔ میانمار کی فوج نے حکومت کا تختہ اتنی آسانی سے اس لئے پلٹ دیا ہے کہ وہ پہلے ہی سے تخت کے نیچے گھسی ہوئی تھی۔ انہوں نے 2008 میں جو آئین بنایا تھا اس کے مطابق پارلیمنٹ کے 25 فیصد ممبرز کا فوجی ہونا لازمی تھا اور اگر ایک منتخب کردہ عوامی حکومت تشکیل دی جاتی ہے، تو پھر بھی، وزارت داخلہ، دفاع اور سرحد کی تین وزارتوں کو فوج کے پاس رکھنا لازمی تھا۔ جب 20 سال کی فوجی حکومت کے باوجود 2011 میں انتخابات ہوئے تھے، تو سوچی کی پارٹی 'نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘ کو واضح اکثریت ملی تھی اور انہوں نے حکومت تشکیل دی تھی۔ فوج کی رکاوٹ کے باوجود سوچی کی پارٹی نے حکومت چلائی، لیکن فوج نے سوچی پر ایسی پابندیاں عائد کر دی تھیں کہ وہ حکومت میں کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں لے سکتی تھیں، تاہم ان کی جماعت فوجی آئین میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتی رہی۔ جب نومبر 2020 میں پارلیمنٹ کے انتخابات ہوئے تو ان کی پارٹی نے 80 فیصد ووٹوں کی بنیاد پر 440 میں سے 315 سیٹیں جیت لیں۔ فوجی نواز پارٹی اور قائدین دیکھتے ہی رہ گئے۔ اب یکم فروری کو، جب نئی پارلیمنٹ کو جمع ہونا تھا، صبح ہی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔
فوج نے متعدد وزرائے اعلیٰ، وزراء اور واضح الفاظ میں رہنمائوں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ اس نے ابھی اگلے ایک سال کے لئے اس ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ نومبر 2020 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی یا کرائی گئی تھی اور تقریباً ایک کروڑ جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ میانمار کے الیکشن کمیشن نے اس الزام کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن بالکل صاف شفاف ہوا ہے۔
میانمار میں ابھی تک فوج کے خلاف کوئی بڑے مظاہرے نہیں ہوئے ہیں، لیکن دنیا کے تمام بڑے ممالک نے اس فوجی بغاوت کی شدید مذمت کی ہے اور فوج سے کہا ہے کہ وہ جمہوری نظام کو فوری طور پر بحال کرے، بصورت دیگر اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ بھارت نے بھی جمہوریت کی وکالت کی ہے لیکن چین صاف صاف بچ کر نکل گیا ہے۔ وہ اس معاملے میں بالکل غیر جانب دار نظر آتا ہے۔ اس نے برمی فوج کے ساتھ طویل عرصے سے تعاون کیا ہے۔ یاد رہے کہ برما 1937تک ہندوستان کا ایک صوبہ تھا۔ میانمار کی جمہوریت کے حق میں کھڑے ہونے کی حکومت ہند پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بائیڈن کی بھارت پالیسی نئے امریکی صدر جوزف بائیڈن نے حلف لیتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے 17 فیصلوں کو ختم کرتے ہوئے منقسم امریکی دلوں کو جوڑنے کا عزم کیا ہے۔ بھارتیوں کو ان کی کابینہ اور انتظامیہ میں جتنا کچھ ملا ہے، امریکہ میں آج تک کسی صدر کی انتظامیہ میں نہیں ملا۔ نائب صدر بننے والی پہلی خاتون کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کا نام کملا ہیرس ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کملا ہیرس گزشتہ سابق نائب صدور کے مقابلے میں زیادہ با اثر کردار ادا کریں گی۔ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی لاطینی امریکہ‘ چین، روس، یورپ اور میکسیکو کیلئے کیسی ہو گی، اس پر الگ بحث ہو سکتی ہے‘ لیکن ہماری پہلی دلچسپی یہ ہے کہ بھارت کے بارے میں اس کی پالیسی کیا ہو گی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی قومی مفاد کے تحفظ کی اہمیت بائیڈن اور کملا کیلئے خاصی اہمیت کی حامل ہو گی، لیکن اس بنیاد پر، بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات پہلے کے مقابلے میں بہتر ہونے کا امکان ہے۔ جب تک چین کے ساتھ امریکہ کی سرد جنگ جاری رہے گی، بحرالکاہل کے خطے میں بھارت اور امریکہ مل کر کام کریں گے، لیکن ٹرمپ کے برعکس، بائیڈن ہمت کے ساتھ کام کریں گے۔ وہ شاید ہی بھارت کو چین کے خلاف اکسانے کی کوشش کریں گے۔ اسی طرح، وہ پاکستان کے ساتھ نرم سلوک کریں گے تاکہ وہ افغان بحران حل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ وہ ایران پر ٹرمپ کی پابندیوں کو بھی کالعدم قرار دیں گے اور اوباما کی طرح درمیانی راستہ تلاش کریں گے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے سے، بائیڈن یورپی ممالک کی تعریفیں بٹوریں گے اور بھارت ایران تعلقات کو بھی فروغ ملے گا۔ چا بہار منصوبہ اور وسطی ایشیاء کے زمینی راستے کھلیں گے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسی کو پلٹنا بھارت کو ایک خاص فائدہ دے گا۔ ویزا پالیسی میں تبدیلی سے امریکہ میں بھارتیوں کیلئے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا۔ یہ سچ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی مودی سرکار کے کچھ فیصلوں کی مخالفت کرتی رہی ہے، جیسے آرٹیکل 370 کو ہٹانا، شہریت میں ترمیم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی، وغیرہ‘ لیکن جب ٹرمپ آنکھوں پہ پٹی ڈال کر ان کی حمایت کر رہے تھے تو ٹرمپ مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کو تو اس کی مخالفت کرنا ہی تھی۔ وہ مودی سے زیادہ ٹرمپ کی مخالفت کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ جس طرح کے اشارے مودی نے بائیڈن انتظامیہ کو بائیڈن کی آمد کے پہلے ہی دن کے بعد سے دیا ہے اس کا اثر بھی پڑے گا۔
بجٹ ایسا کہ بھارت بدلے! مانا جا رہا تھا کہ بھارت کا اس سال کا بجٹ کرشماتی ہو گا، کیونکہ ملک اس سال میں جن پریشانیوں سے گزرا‘ وہ غیر معمولی تھیں۔ قدرتی طور پر، اس بجٹ میں ملک کی فوری معاشی اور مالی صورت حال کی تائید کیلئے بہت کوشش نظر آتی ہے‘ لیکن کیا یہ وہ موقع نہیں جب ملک میں حقیقی سوشلزم کی بنیاد مضبوط ہو۔1976 میں ہمارے آئین میں سوشلزم کی اصطلاح کو شامل کیا گیا تھا، لیکن آج بھی بھارت میں طبقاتی، اشرافیت اور قدامت پرستی جاری ہے۔ عوام اور اشرافیہ‘ دونوں کی دنیا الگ الگ آباد ہے۔ عام لوگ بھارت میں رہتے ہیں اور اشرافیہ انڈیا میں رہتی ہے۔ انڈیا اور بھارت کے درمیان کھڑی اس ناقابل تسخیر دیوار کو توڑنے کیلئے اس بجٹ کو غیرمعمولی کہا جا سکتا ہے‘ لیکن یہ کیسے ہوگا؟ یہ تب ہوسکتا ہے جب بھارت کے 140 کروڑ شہری پانچ چیزوں سے تقریباً بے نیاز ہو جائیں۔ ان چیزوں کو حاصل کرنے کیلئے ان کو کوئی خاص کوشش کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ پانچ چیزیں کیا ہیں؟ روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج۔ انسان کو انسان بننے کیلئے کم از کم ان پانچ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے! ریاست نامی کسی تنظیم کا پہلا فرض اپنے ہر شہری کیلئے انتظامات کرنا ہے۔ یہ پانچ چیزیں ریاست ہند میں موجود ہیں لیکن ہر ایک کیلئے قابل رسائی نہیں۔ یہ چیزیں100 کروڑ سے زیادہ لوگوں کیلئے نایاب ہیں۔ انکے پاس کم سے کم بھی دستیاب نہیں۔ کیا کوئی حکومت ایسا بجٹ لاسکتی ہے جو ملک کے ہر شہری کو یہ پانچ چیزیں مہیا کرے؟ یہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ تعلیم اور طب کو بالکل مفت بنایا جائے۔
ان دونوں میں جاری غیر سرکاری لوٹ مار پر فوری طور پر پابندی عائدکی جائے اور بجٹ ایساہو جس سے لوگوں کو سستے داموں سرکاری قیمتوں پر روٹی، کپڑا اور مکان مل سکے۔ کروڑوں افراد کو ابھی تک سستے اناج مل رہے ہیں۔ حکومت فضول خرچی پر انکم ٹیکس کیوں نہیں لگاتی؟ وہ کیوں غیرجانبداری کے بھارتی نظریے پر عملدرآمد نہیں کرتی؟ وہ بھارتی قوم کو بھارتی خاندان میں تبدیل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی؟ کیا کسی خاندان کا کوئی فرد برہنہ اور بھوکا رہتا ہے؟ چاہے وہ کامیاب ہو یا نااہل، اچھا یا برا، کمانے والا یا بیروزگار، صحت مند یا اپاہج۔ کیا اس کو کھانے کیلئے روٹی، پہننے کیلئے کپڑا، سونے کیلئے بستر اور بیماری کی صورت میں دوائی ملتی ہے یا نہیں؟ کیا ہم بھارتی قوم کو اتنے بڑے کنبے میں تبدیل نہیں کرسکتے؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں