نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت نےبجلی 4 روپے 74 پیسےفی یونٹ مہنگی کردی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:نیپراکی جانب سےنوٹیفکیشن جاری کردیاگیا
  • بریکنگ :- بجلی اکتوبرکی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں مہنگی کی گئی،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- صارفین سےاضافہ دسمبرکےبجلی بلوں میں وصول کیاجائےگا،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- بجلی صارفین پر 60 ارب روپےسےزائدکااضافی بوجھ پڑےگا
  • بریکنگ :- کےالیکٹرک اورلائف لائن صارفین پراطلاق نہیں ہو گا
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

افغان بحران: بھارت طالبان سے گریزاں کیوں؟

افغانستان میں امریکی فوجیں 11ستمبر 2021ء تک واپس چلی جائیں گی۔امریکہ کے کل 3500اور نیٹو کے 8500 فوجی اپنے اپنے ملک واپس چلے جائیں گے‘ تب کیا ہوگا؟ افغانستان کی موجودہ حکومت کا خیال ہے کہ اس کے تین لاکھ فوجی امن و امان برقرار رکھنے کے اہل ہیں۔ ابھی جو بھی غیر ملکی فوجی وہاں ہیں وہ صرف وہاں ہیں‘طالبان سے لڑنے کا اصل کام افغان فوجی کر رہے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر پہلا سوال یہ ہے کہ افغانستان کے بیشتر حصوں پر طالبان کا قبضہ کیوں ہے؟ ایک اندازے کے مطابق طالبان نے بڑے شہروں کے علاوہ ہر جگہ اپنی انتظامیہ قائم کرلیا ہے۔ ان کی حکومت ‘ ٹیکس وصولی اور شرعی عدالتیں وہاں سرگرم ہیں۔ دوسرا ‘ دوحہ میں طالبان کے ساتھ سمجھوتہ ہونے کے باوجود افغان فورسز ان کے حملوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہی ہیں؟ تیسرا ‘ اگر کابل میں اشرف غنی کی حکومت مضبوط ہے تو غیر ملکی افواج کا انخلا جو یکم مئی کو ہونا تھا اسے اگلے چار ماہ تک کیوں ٹال دیا گیا ہے؟اسی لئے تمام گھبرائے ہوئے ہیں کہ امریکی واپسی کے بعدپتا نہیں کیا ہوگا؟ کیا ویسا ہی تو نہیں ہوگا جیسا سوویت افواج کی واپسی کے بعد نجیب اللہ سرکار کے ساتھ ہوا تھا؟ نجیب اللہ کی حکومت گر ا دی گئی تھی ‘ مجاہدین کی حکمرانی قائم ہوگئی تھی اور نجیب اللہ کو پھانسی دے دی گئی تھی اور تقریباً اگلے 8‘9 سال تک مجاہدین اور طالبان کابل میں جمے رہے اور افغانستان انتشار اور بنیاد پرستی کی رسی پر لٹکا رہا۔ 2001ء میں امریکی افواج کی آمد کے بعد حامد کرزئی کی جمہوری حکومت تشکیل دی گئی‘ لیکن پہلے کرزئی اور اب غنی حکومت کو طالبان امریکہ کی کٹھ پتلی حکومتیں کہتے رہے ہیں۔طالبان کو یقین ہے کہ افغان فوج راتوں رات پلٹ جائے گی اور وہ ان کی حمایت کرے گی۔ طالبان بنیادی طور پر پشتونوں کی تنظیم ہے‘ اس کے علاوہ ‘ طالبان کو پاکستان کی حمایت بھی حاصل ہو گی۔ ادھرروس اور چین کے ساتھ بھی ان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے جبکہ ان کے جانی دشمن امریکہ کے سا تھ ان کی بغل گیری کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے؛چنانچہ جیسے ہی امریکی فوجوں کی واپسی ہوئی‘ کابل پر طالبان کا قبضہ ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ ایسی صورتحال میں بھارت کا کیا ہو گا ؟ میری سب سے بڑی تشویش یہی ہے؟ 56سال پہلے میں نے افغانستان کے بارے میں تحقیق شروع کی تھی‘ اس کا گوشہ گوشہ میں نے دیکھا ہے‘ اس کے پٹھان ‘تاجک ‘ازبک‘ہزارہ‘ہندو‘سکھ لوگوں سے میرا روز مرہ کا تعلق رہا ہے۔ اس کے بادشاہ ظاہر شاہ اور اب تک کے تمام صدور اور وزرائے اعظم سے میرا گہرا تعلق رہا ہے۔ میں نے افغان لوگوں میں بھارت کے تئیں بے پناہ محبت اور احترام پایا ہے۔افغانستان کی تعمیرِ نو میں بھارت نے جو تعاون کیا ہے کسی اور قوم نے نہیں کیا۔ بھارت نے افغان پارلیمنٹ ہاو ٔس تعمیر کرایا ‘ہسپتال ‘سکول ‘ سڑکیں ‘ ڈیم ‘ مواصلاتی نظام ‘ فوجی تربیت جیسے بہت سے کام انجام دیے۔ بھارت نے زرنج دلآرام سڑک تعمیر کی جس سے افغانستان میں براستہ ایران تجارتی راہداری شروع ہوئی۔ اب خلیج فارس کے راستے سے پوری دنیا کے ساتھ اس کا تجارتی معاملہ ہو سکتا ہے۔بھارت نے افغان کی تعمیر نو میں تقریباً تین بلین ڈالر خرچ کئے ہیں لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ افغان بحران کے حل میں بھارت کا کردار تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ‘ جبکہ افغانستان میں پیدا ہوئی دہشت گردی بھارت کو متاثر کرتی رہی ہے۔ بھارت کی تقریباً تمام حکومتیں مجاہدین اور طالبان سے دوری رکھتی رہی ہیں لیکن ان رہنماو ٔں سے میری ملاقاتیں کابل ‘ قندھار ‘ پشاور ‘ تہران ‘ لندن اور نیویارک میں برابر ہوتی رہی ہیں۔ 1999ء میں بھارت کا ہائی جیک کیا گیا طیارہ قندھار سے بازیاب کروانے میں طالبان رہنماؤں سے براہ راست میں نے رابطہ کیا تھا اور ہمیں اس میں کامیابی ملی تھی۔ طالبان رہنما پاکستان کے حامی ہیں لیکن وہ بھارت کے مخالف نہیں ہیں۔ پاکستان کی حمایت ان کی ضرورت ہے‘ مگر وہ بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات استوار کرسکتے ہیں۔ طالبان افغانستان میں اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں آریائی نسل ہونے پربھی فخر ہے۔ اپنا اقتدار قائم کرنے کے بعد وہ پاکستان کے لیے بھی دردِ سر بن سکتے ہیں کیونکہ جن پشتونوں نے تین بار انگریزوں اور ایک ایک بار روسیوں اور امریکیوں کو زیر کر دیا وہ بھلا کسی کے غلام بن کر کیسے رہ سکتے ہیں؟ اب توروس ‘ چین اور امریکہ بھی طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں مگر پتہ نہیں کیوں بھارت خوفزدہ ہے؟ بھارت کو چاہئے کہ طالبان کے گروہوں کے ساتھ بات چیت کا ماحول بنا کر رکھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کابل کی اشرف غنی حکومت کو چھوڑ دے۔ اگر بھارت چاہے تو وہ اس بحران کے حل میں پاکستان کا تعاون بھی حاصل کرسکتا ہے‘ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے قائدین اور وزارتِ خارجہ کے افسران افغانستان کی داخلی سچائیوں سے واقف ہیں یا نہیں؟ اور کیا ان کے پاس پورے جنوبی ایشیا کے لیے قائدانہ صلاحیت بھی ہے یا نہیں ؟
ایشین نیٹو نہیں ‘ ایشین فیڈریشن
فرانس اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ Raisina Dialogue میں ہمارے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کسی بھی ایشین نیٹو کے حق میں نہیں ہے۔ وہ روس اور چین کے وزرائے خارجہ کے بیانات پر رد عمل کا اظہار کررہے تھے جنہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ ‘ بھارت ‘ جاپان اور آسٹریلیا کی چوکڑی کو ایشین نیٹو کا آغاز قرار دیا۔اگر چین اور روس ہند بحر الکاہل کے خطے میں امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک تعاون کے اس اتحاد کا موازنہ یورپ کے فوجی اتحادسے کر رہے ہیں تو یہ حد سے زیادہ ہے ‘ لیکن ان کا خوف مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہے۔ یہ قدرتی بات ہے کہ بھارت چین محاذ آرائی کے دوران امریکہ کی طرف سے اپنایا جانے والارویہ بھارت موافق تھا۔ روس اور چین بھی قریب تر بڑھ رہے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ملکوں کے قائدین امریکہ مخالف ہونے کی وجہ سے بھارت کی طرف انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے بھی مشتعل ہیں کہ اگر کوئی چینی جہاز بھارت کے کھلے سمندر میں داخل ہوتا ہے تو بھارتی فوج فوراً اس کا پیچھا کرتی ہے اور پاکستانی کشتیاں تک پہنچ جاتی ہیں ‘ پھر انہیں پکڑ لیاجاتاہے‘لیکن سات اپریل کو امریکی جنگی جہازبھارتی خصوصی اقتصادی زون میں داخل ہوا لیکن بھارتی وزارت خارجہ نے صرف اس کی باضابطہ طور پر مخالفت کی۔ امریکہ کی طرف بھارت کی یہ نرمی روس اور چین کو بہت تکلیف دے رہی ہے۔اس حقیقت کے باوجود ‘ روسی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ بھارت کے ساتھ روس کے تعلقات انتہائی قریبی ہیں اور وہ صرف وہی ہتھیار پاکستان کو فروخت کررہا ہے جو دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے استعمال ہوگا۔ بھارت کو امریکہ کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھنا ہوں گے‘ یہاں تک کہ چین کے ساتھ بھی وہ انکاؤنٹرپالیسی کو برقرار نہیں رکھ رہا ہے لیکن حیرت ہے کہ اس کے پاس بھارت کے ایشین کردار کا ایک عمدہ نقشہ نہیں ہے۔بھارت کو نیٹو کی طرح ایشین یا جنوبی ایشین فوجی اتحاد تشکیل نہیں دینا چاہئے ‘ لیکن کون اسے یورپی یونین کی طرح ایشین یا جنوبی ایشین یونین بنانے سے روک سکتا ہے؟ اگر بڑے ایشین فیڈریشن میں چین کی طرف سے مسابقت کا امکان موجود ہے تو بھارت صرف جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کا فیڈریشن تشکیل دے سکتا ہے۔ اس فیڈریشن میں مشترکہ منڈی ‘ مشترکہ پارلیمنٹ ‘ عام کرنسی ‘ آزادانہ نقل و حرکت وغیرہ کا نظام کیوں نہیں ہوسکتا؟ اس کے فوائد اتنے ہیں کہ وہ پاکستان کے اعتراضات کو بھی ختم کردیں گے اور ادھ موا سارک بھی اُٹھ کھڑاہو گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں