نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہورہائیکورٹ،اسموگ پرقابوپانےسےمتعلق کیس کی سماعت
  • بریکنگ :- لاہور:ڈی آئی جی موٹرویز،ڈپٹی ڈائریکٹرماحولیات عدالت میں پیش
  • بریکنگ :- لاہور:چیئرمین ماحولیاتی کمیشن کی رپورٹ عدالت میں جمع
  • بریکنگ :- لاہور:رپورٹ فوکل پرسن کمال حیدرنےجمع کرائی
  • بریکنگ :- لاہور:ایم ٹیگ پرسختی سےعملدرآمدکرائیں،جسٹس شاہدکریم
  • بریکنگ :- ایم ٹیگ کےبغیرگاڑیوں کاداخلہ بندکردیا،ڈی آئی جی موٹرویز
  • بریکنگ :- لاہور:ہمیں عملدرآمدکیلئےوقت نہیں چاہیئے،ڈی آئی جی موٹرویز
  • بریکنگ :- ایم ٹیگ کی خریداری سےمتعلق آگاہی مہم شروع کررکھی ہے،ڈی آئی جی
  • بریکنگ :- لاہور:8 لاکھ افرادایم ٹیگ پررجسٹرڈہیں،ڈی آئی جی موٹرویز
  • بریکنگ :- ایم ٹیگ استعمال نہ کرنیوالوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے،عدالت
  • بریکنگ :- عدالت کافصلوں کی باقیات جلانےوالوں کیخلاف فوری کارروائی کاحکم
  • بریکنگ :- جوفصلوں کی باقیات جلائےگاوہاں کےافسرکیخلاف کارروائی ہوگی،عدالت
  • بریکنگ :- لاہور:عدالت نےسماعت 9 دسمبرتک ملتوی کردی
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

ممتا بینرجی مودی کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں

پانچ غیر ہندی بولنے والی ریاستوں کے انتخابی نتائج کے اسباق کیا ہیں؟ پہلا سبق یہ ہے کہ بھارت ایک متنوع جمہوریت ہے۔ اب یہاں ''ایک پارٹی اور ایک رہنما‘‘کی حکمرانی کام نہیں کر سکتی۔ ہوسکتا ہے کہ بی جے پی آسام میں جیت گئی ہو لیکن تین بڑی ریاستوں مغربی بنگال ‘ تامل ناڈو اور کیرالہ میں ہار گئی۔ پڈوچیری میں وہ فاتح اتحاد کی رکن ہے۔ مغربی بنگال کی 200 نشستوں پر اس کا دعویٰ ہوائی قلعہ ثابت ہوا ۔ کیرالہ میں انہوں نے میٹرومین سریدھرن کو بھی داؤ پر لگا دیا ‘ لیکن اس سے قبل انہوں نے اپنے پاس محفوظ ایک نشست بھی گنوادی۔ دوسرے لفظوں میں اب مرکز میں بی جے پی حکومت کو شمال اور جنوب کی مضبوط حزب اختلاف کی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی کی سیاست کرنا ہوگی۔ داداگیری چلانا مشکل ہوگا۔بی جے پی بنگال میں ہار ی ہے لیکن اس نے 72 سیٹیں جیتی بھی ہیں۔ بنگال اور آسام جیسے غیر ہندی بولنے والے اور سرحدی صوبوں میں بی جے پی کے غلبے کی وجہ کیا ہے؟ بی جے پی ایک طویل عرصے سے حزبِ اختلاف اور ہندی علاقائی پارٹی رہی ہے۔ کیا ان علاقوں میں اس کا اضافہ قومی اتحاد کے عروج کی علامت نہیں ہے؟ یہ نمو بی جے پی کے اپنے کردار اور وژن میں توسیع کے بغیر نہیں ہوگی ۔کانگریس کا تقریبا ًتمام ریاستوں میں پیچھے رہ جانا قومی سیاسی اتحاد کے نقطہ نظر سے اچھا نہیں ہے۔ اس سے اس کی قیادت اور پالیسی کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے ‘ لیکن اتنے وسیع بھارت کو ایک دھاگے میں رکھنے کیلئے ایک طاقتور فوج اور مضبوط حکومت کے ساتھ منظم آل انڈیا پارٹی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کیا کمیونسٹ پارٹی کے کمزور ہونے پر طاقتور سوویت یونین ٹوٹ گیاتھایانہیں؟بنگال میں ترنمول کانگریس ‘ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور کیرالا میں مارکسسٹ پارٹی کی زبردست کامیابی ان کی خالص مقبولیت اور خدمات کی بنیاد پر رہی ہے ‘ لیکن ہمیںیہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کانگریس تینوں ریاستوں میں بُری طرح ہار چکی ہے اور بی جے پی بھی پیچھے رہ گئی ہے۔دوسرے لفظوں میں آل انڈیا پارٹیوں کے بجائے صوبائی پارٹیوں کا پرچم بلند ہوا ہے۔ یعنی ان ریاستوں میں بنگلہ ‘ تامل اور ملیالی قومیت غالب رہی ہے۔ مرکزی حکومت کو ان تینوں ریاستوں کے ساتھ انتہائی احتیاط برتنا ہوگا۔ان انتخابات نے یہ بھی ثابت کردیا کہ فرقہ واریت کا ٹرمپ کارڈ کبھی کبھی الٹا پڑجاتا ہے۔ آسام میں ‘ جہاں شہریت کے سوال کو کارپٹ کے نیچے منتقل کرنا پڑا ‘ وہیں بنگال میں بی جے پی کو زیادہ تر ہندو ووٹوں کا حصہ نہیں مل سکا۔ وہ الگ ہوگئے۔ اقلیتوں کو ان کے خوف نے ممتا کی طرف کھینچ لیا اور بنگالی اور غیر بنگالی قانونی دعویداروں نے ہندو ووٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا۔ ممتا بینرجی نے بنگالی اور بیرونی شخص کا بھوت پیدا کیا لیکن خود کو برہمن اور وفادار ہندو ثابت کرنے کیلئے کس چیزکا سہارا نہیں لیا؟ دیدی اس کھیل میں مودی پر غالب آگئیں۔ ٹوٹی ہوئی ٹانگوں اور پہیے والی گاڑی کے ساتھ ہمدردی نے پورے ملک کی توجہ مبذول کرلی۔ دوسری طرف ‘ رابندر ناتھ ٹیگور جیسی داڑھی اور ڈھاکہ یاترا بھی کام نہیں کرسکی۔
اس انتخاب نے ممتا بینرجی کو بنگال کا لاجواب لیڈر بنایا اور انہیں آل انڈیا مہم جوبنادیا۔ بنگال میں ان پانچ ریاستوں کے انتخابات میں سب سے زیادہ مہم چلائی گئی تھی کیونکہ بی جے پی نے بہت کوشش کی ‘ مجھے یاد نہیں ہے کہ کسی بھی صوبائی انتخابات میں ‘کسی بھی مرکزی پارٹی نے کبھی ایسا کیا تھا۔ وزیر اعظم کے علاوہ وزیر داخلہ ‘ وزیر دفاع ‘ پارٹی صدر ‘ درجنوں وزرا‘ وزیر اعلیٰ ‘ سینکڑوں ارکانِ پارلیمنٹ ‘ ہزاروں بیرونی کارکن اور بی جے پی کی طرف سے بھاری رقم بہانے کے باوجود ممتا کی بال نہیں روکی جا سکی‘ بلکہ ممتا کی سیٹوں اور ووٹوں میں اضافہ ہوا۔ ممتا کو موصول ہونے والی ہمدردی سے انہیں حزب ِاختلاف کے تقریباً تمام صوبائی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہوگئی۔ متعدد اپوزیشن کے وزرائے اعلیٰ ‘سابق وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزر ا ترنمول کانگریس کو جتانے کیلئے بنگال پہنچ گئے۔ کیا اب یہ قائدین پورے ملک میں مودی کے خلاف ممتا کوگھمانے کی کوشش نہیں کریں گے؟ ممتا کو مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے بنگال جنگ میں اپنے آپ کو ممتا کے برابر کھڑا کیا۔ بنگال میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ کا چہرہ نہیں تھا‘ اترپردیش میں کھیلے گئے اسی کارڈ کو بنگال میں شکست دی گئی۔یہ ناممکن نہیں کہ ممتا اب اگلے تین سالوں میں ملک کے تمام اپوزیشن رہنماؤں کو متحد کردیں۔ یہ کام آسان نہیں ہے ‘ کیونکہ اگرچہ آج کل کورونا کی وبا کی وجہ سے مرکزی حکومت کی شبیہ دھندلا رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی آل انڈیا لیڈر مودی کا مقابلہ کرنے کیلئے سامنے نہیں آیا۔ ممتا نے انتخابات سے قبل ہی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی۔ کانگریس اور مارکسسٹ پارٹی کیلئے ممتا کو متعدد وجوہات کی بناپر رہنما تسلیم کرنا مشکل ہوگا۔ اس طرح ‘ معلوم نہیں کہ کیا ممتا ان معنی میں خود کو ترقی دے سکے گی جو ہندوستان کے تمام لوگوں میں مقبول ہونے کیلئے ضروری ہے؟ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا اس کے انتہائی جذباتی ‘ اس کی عجیب ہندی اور انگریزی اور اس کے انداز بیان سے کروڑوں غیر بنگالی ووٹرز متاثر ہوں گے۔اگر ملک کی تقریباً تمام اہم پارٹیاں مودی مخالف اتحاد تشکیل دیتی ہیں اور ممتا کو قائد سمجھتی ہیں تو کانگریس اور کمیونسٹ بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ پھر بھی انہیں جے پرکاش نارائن جیسے نامور اور بے باک قائد کی ضرورت ہوسکتی ہے ‘ جیسے 1977ء میں اندرا گاندھی کے خلاف ہواتھا۔
کورونا سے سیکھیں سبق
پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ حکومت ‘ میڈیا اور عوام کی توجہ کورونا پر مکمل طور پر قابو پانے میں صرف ہو گی لیکن ہلاکتوں کے جواعدادوشمارسامنے آرہے ہیںوہ افسوسناک اور مایوس کن ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر جگہ لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہ کتنا درست ہے ‘ کچھ معلوم نہیں۔ ایسے ہزاروں اور لاکھوں لوگ ہیں جن کو یہ تک نہیں معلوم کہ ان کوانفیکشن ہوا ہے یا نہیں؟ وہ صرف خوف کی وجہ سے ڈاکٹروں کے پاس نہیں جا رہے۔ زیادہ تر لوگوں کے پاس ڈاکٹروں کی فیس کی ادائیگی کیلئے رقم نہیں ہے تو ہسپتالوں میں ان کے داخلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ ریٹائرڈ سفیر ‘ معروف فلمی ستارے اور قائدین کے لواحقین بھی ہسپتال میں داخل ہونے کے انتظارمیں دم توڑ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہسپتال میں بیڈ کے اہل ہیں وہ بھی کراہ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو محل نما بنگلوں میں رہنے اور گھر سے باہر فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہنے کے عادی ہیں یا تو وہ متعدد مریضوں والے کمروں میں پڑے ہوئے ہیں یا ہسپتال کے برآمدے میں پڑے ہیں۔ بہت سے لوگ جوداخل نہیں ہوسکے ہیں ‘ وہ اپنی گاڑی میں یا ہینڈ کارٹ پر پڑے آکسیجن لے کر اپنی جان بچا رہے ہیں ‘ لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ مصیبت کی اس فضا میں ہمارے ملک میں بھی ایسی درندے ہیں جو بے شرمی سے منشیات کی کالابازاری کررہے ہیں۔ گزشتہ 15‘20 دنوں میں روزانہ ایسی اطلاعات آرہی ہیں۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کئی شہروں میں لوگ مر رہے ہیں مگرسلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ ہورہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ہماری عدالتیں اور حکومتیں کیا کر رہی ہیں؟ وہ خصوصی آرڈیننس جاری کرکے فوری طور پر ان لوگوں کو کیوں سزا نہیں دیتے؟ حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ آکسیجن کی کمی نہیں ‘ پھر ملک کے ہسپتالوں میں افراتفری کیوں ہے؟اب یہ کورونا شہروں سے دیہات میں منتقل ہوچکا ہے اور درمیانے اور نچلے طبقے میں بھی گھس آیا ہے۔ ان لوگوں کیلئے جن کے پاس کھانے کیلئے کافی روٹی نہیں ہے ‘ مفت اور فوری علاج کا انتظام کیوں نہیں کیا جاتا؟ ملک کے لاکھوں قابل افراد آگے کیوں نہیں آرہے ہیں؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں