نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں مبینہ عسکریت پسندکی گرفتاری کابھارتی پروپیگنڈا
  • بریکنگ :- پاکستان نےمبینہ عسکریت پسندسےمتعلق بھارتی میڈیاکاپروپیگنڈامستردکردیا
  • بریکنگ :- ایک عسکریت پسندکی گرفتاری اوردوسرےکی ایل اوسی پرہلاکت کی خبریں بےبنیادہیں
  • بریکنگ :- جھوٹی خبروں کامقصددنیاکی توجہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سےہٹانا ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- پاکستان بھارتی مظالم سےمتعلق دستاویزی ثبوت دنیاکےسامنےپیش کرچکاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- درحقیقت ہزاروں بےگناہ کشمیری نوجوان بھارتی جیل میں قیدہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- نوجوان کشمیریوں کوبوقت ضرورت عسکریت پسندکےطورپرپیش کیاجاتاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت پرجب بھی عالمی برادری کادباؤبڑھتاہےوہ یہ ہتھکنڈےاستعمال کرتاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارتی اشتعال انگیزیوں کےباوجودپاکستان صبرکامظاہرہ کررہاہے،ترجمان دفترخارجہ
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

مذبح خانوں پرپابندی غیر قانونی

اتراکھنڈ کی سرکار نے ضلع ہریدوار میں چل رہے مذبح خانوں پر روک لگادی تھی لیکن وہاں کی ہائی کورٹ نے اس روک کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ یہ ہے کہ جنہوں نے پابندی لگانے کی درخواست دی تھی ان کی دلیل غلط تھی۔ریاستی حکومت کی پابندی کو دو الگ الگ درخواستوں کے ذریعہ چیلنج کیا گیا تھا۔درخواست گزاروں کی جانب سے کہا گیا کہ اتراکھنڈ حکومت نے اتر پردیش میونسپل ایکٹ 1916ء میں ترمیم کر کے ہریدوار ضلع میں مویشیوں کے مذبح خانوں پر پابندی عائد کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مذبح خانوں پر روک لگنے سے ہریدوار کے اُن شہریوں کے کی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے جوگوشت کھاتے ہیں۔ یہ معاملہ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اتراکھنڈ کے 72 فیصد لوگ جن میں ہندو‘ مسلمان‘ سکھ اور عیسائی بھی شامل ہیں‘ گوشت خور ہیں اس لئے یہ صرف اقلیتوں کامعاملہ نہیں یہ معاملہ ہیومن رائٹس کا بھی ہے۔ ہر شخص کا اپنا حق ہے کہ وہ کیا کھائے گا یہ وہ خود طے کرے‘ سرکار کو کیا حق ہے کہ وہ لوگوں کو گوشت یا شکا ر کرنے سے منع کرے۔ عدالت کا یہ فیصلہ قانونی لحاظ سے بالکل ٹھیک ہے لیکن اس مدعے سے جڑے دو نکات ہیں جن پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے وہاں مذبح خانے بند کئے جانے کی مانگ فطری لگتی ہے۔ اگر وہاں گوشت نہیں بکے گا تو مسلمانوں کو پریشانی ہوگی تو مانسا ہاری ہندوؤں کو بھی پریشانی ہوگی۔
کابل میں اب بھارت کیا کرے
افغانستان کے بارے میں بات کرنے کیلئے بھارت کے وزیر خارجہ پچھلے دو تین ہفتوں میں کئی ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں اور ابھی تک انہیں کوئی راستہ دکھائی نہیں پڑ رہا ہے‘ لیکن اگلے ایک ہفتے میں دو غیر ملکی مہمان دہلی آرہے ہیں۔ایک افغان آرمی چیف اور دوسرے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے نئے صدر۔دہلی میں افغانستان کے آرمی چیف جنرل ولی محمد احمد زئی اگر یہ مطالبہ کریں کہ طالبان کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت فوجوں کو کابل بھیجے تو بھارت کو اس طرح کی بات ہر گز قبول نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح کی تجویزببرک کارمل نے 1981 میں جب میرے سامنے رکھی تھی تووزیر اعظم اندرا گاندھی سے پہلے ہی میں نے اس مطالبے پر عمل درآمد سے معذوری کا اظہار کر دیا تھالیکن نجیب اللہ کے دور میں بھارت نے افغان فوجیوں کو ٹریننگ اور ساز و سامان کی مدد ضرور دی تھی۔ اب بھی میڈیا میں پرچار ہو رہا ہے کہ بھارت مشین گنیں چپ چاپ کابل بھجوا رہا ہے‘ بعض حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت نے اپنی فوج اور ہتھیار کابل بھیجے۔ اس طرح کے اقدامات کے بجائے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کو بھجوانے کی بات کی جا سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا صدر مالدیپ کے وزیر خارجہ کو چن لیا گیا ہے‘وہ بھارت کی پہل اور مدد سے ہی وہاں تک پہنچے ہیں۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر دہلی آرہے ہیں اور جنرل اسمبلی کا صدر ہونے کے ناتے وہ کابل میں امن دستے کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ اس بندوبست کی مخالفت کوئی نہیں کرے گا۔اگر یہ تجویز جنرل اسمبلی میں اتفاق رائے سے پاس ہوگئی تو سلامتی کونسل میں اس کے خلاف کوئی ملک ویٹو نہیں کرے گا۔یہ خیال تھا کہ چین شاید ان امن دستوں کی مخالفت کر سکتا ہے لیکن پاکستان اور چین چونکہ خود بھی افغان خانہ جنگی سے تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اس لیے افغانستان میں ہر طرح کی امن کوششوں کی وہ حمایت جاری رکھیں گے۔ اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی طالبان مخالف نہیں ہے۔ امن دستے رکھنے کے سال بھرمیں افغانستان میں غیر جانبدار عام چنائو کروائے جاسکتے ہیں۔ اس میں جو بھی جیتے چاہے طالبان ہوں یا کوئی اور‘ اپنی سرکار بناسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی امن فوج میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کے بجائے یورپی اور افریقی ممالک کے فوجیوںکو تعینات کیا جائے۔ افغانستان کی دونوں پارٹیوں‘ طالبان اور حکومت سے امریکہ‘ روس‘ چین‘ ترکی اور ایران بھی بات کررہے ہیںلیکن بھارت کی طالبان سے سیدھی بات چیت کیوں نہیں ہو رہی؟ بھارتی وزارتِ خارجہ کی یہ سوچ حیران کن ہے۔
جاسوسی کا دوسرا پہلو
سرکارکی جانب سے جاسوسی کولے کر آج کل بھارت اور دنیا کے کئی ملکوں میں زبردست ہنگامہ مچ رہا ہے۔ پیگاسس کے جاسوسی سافٹ ویئر سے جیسے جاسوسی آج کل ہوتی ہے ویسی جاسوسی کاتصور آچاریہ کوٹلیہ اور نکولا مکیاولی(اطالوی چانکیہ) کر ہی نہیں سکتے تھے۔ اُن دنوں نہ ٹیلیفون ہوتے تھے اور نہ کیمرے‘ موبائل فون اور کمپیوٹر کاتو تصور بھی نہیں تھا لیکن جاسوسی ہوتی تھی اور باقاعدہ ہوتی تھی۔ کئی کئی طریقوں سے ہوتی تھی۔ جن کی جاسوسی ہوتی تھی ان کے پیچھے لوگوں کو دوڑایا جاتاتھا‘ ان کی باتوں کو چوری چھپے سناجاتاتھا۔ان کے گھریلو نوکروں کو پٹایا جاتاتھا‘انہیں پھسلانے کیلئے عورتوں کو بھی استعمال کیا گیا تھا لیکن آج کل جاسوسی بہت آسان ہوگئی ہے۔ جس کی جاسوسی کرنا ہو اس کے کمرے‘ اس کے کپڑوں پر یا اس کی چیزوں پر مائیکروچپ فٹ کردیجئے آپ کو سب کچھ پتا چل جائے گا۔ ٹیلیفون کو ٹیپ کرنے کی روایت تو سبھی ملکوں میں موجود ہے لیکن آج کل موبائل فون سب کا پسندیدہ آلہ بن گیا ہے۔ وہ چوبیس گھنٹے ساتھ رہتا ہے۔ ماناجاتاتھا کہ جو کچھ واٹس ایپ پر بولا جاتا ہے وہ ٹیپ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ای میل کی کچھ سروسزکے بارے میں ایسا ہی خیال تھا لیکن پیگاسس سپائی ویئر نے یہ بھرم بھی دور کردیا ہے۔ جو کچھ سیٹیلائٹ اور مائیکرو کیمروںسے ریکارڈ کیا جاسکتا ہے اس سے بھی زیادہ پیگاسس جیسے سپائی ویئر سے کیا جاسکتا ہے۔پیگاسس کو لے کر دنیا کے درجنوں ملک آج کل پریشان ہیں۔ کئی صدور اور وزرائے اعظم بھی اس کی پکڑ میں آ چکے ہیں۔ ان کی خفیہ سرگرمیاں اور نجی زندگی بھی اجاگر ہو گئی ہے۔ اب سے 52سال پہلے جب میںپہلی بار ملک سے باہرگیا تو ہمارے سفیر نے پہلے ہی دن جاسوسی سے بچنے کی احتیاطیں مجھے بتائی تھیں۔اپنے درجنوں غیر ملکی دوروں میں مجھے جاسوسی کا سامنا کرنا پڑا‘ امریکہ‘ روس‘ چین اور افغانستان میں ایک سے ایک مزیدار اور مضحکہ خیز تجربات ہوئے۔ میرے گھر آنے والے غیر ملکی نیتاؤں اور سفیروں پر ہونے والی جاسوسی بھی ہم نے دیکھی۔ غیر ملکی حکومتیں ہم پر جاسوسی کریں تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ہماری اپنی حکومت جب یہ کرتی ہے تو لگتا ہے کہ یا تو وہ بہت ڈری ہوئی ہے یا پھر وہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنی داداگیری قائم کرنا چاہتی ہے۔ایسا کرنا شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت میں 300 سے زائد شخصیات کی جاسوسی کی گئی جن میں ججز‘ کارپوریٹ نمائندے، سیاستدان اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے علاوہ 40 سے زائد صحافی بھی شامل ہیں۔حزبِ اختلاف اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے سوال اٹھانے اور حکومت سے سوال پوچھنے کی وجہ سے ہنگامہ آرائی جاری ہے۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی 500 سے زائد نمایاں شخصیات نے اس مدعے پر چیف جسٹس آف انڈیا کے نام ایک کھلے خط میں ان سے مبینہ پیگاسس جاسوسی کے معاملے میں مداخلت اور حکومت سے جواب طلب کرنے کی اپیل کی ہے۔چیف جسٹس کو خط لکھنے والوں میں صحافی‘ مصنف‘ انسانی حقوق کے کارکن‘ وکلا‘ طلبہ اور فنکار شامل ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں