نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش
  • بریکنگ :- ہمارےپاس افسران کی کمی ہے،ایک افسر 4 کی جگہ کام کررہا،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- کراچی:آپ سیاسی بیان بازی مت کریں،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- کراچی:سیاسی بیان نہیں دےرہا،حقیقت بتارہاہوں،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- ہم جس افسرکوتعینات کرتےہیں وفاق واپس بلالیتاہے،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- ہماری حکومت سےپہلےفٹ پاتھ بھی لوگوں کودےدیئے،مرادعلی شاہ
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

باہر نہیں اندر دیکھیں!

کرتارپور راہداری کھول کر پاکستان نے پی آر کا ایک ماسٹر سٹروک کھیلا ہے۔ بلا شبہ اس اقدام کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان نے بقول نوجوت سنگھ سندھو 14 کروڑ سکھوں کے دل جیت لئے ہیں۔ لیکن یہ سدھو کا بیان ہے‘ سکھوں کی اصل تعداد اس سے کم ہے۔ بہرحال یہ سکھ برادری کی ایک دیرینہ خواہش اور مطالبہ تھا جو موجودہ حکومت کے دور میں مکمل ہوا ہے۔ لیکن یہ محض ایک آغاز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 9 نومبر کی افتتاحی تقریب کے بعد اصل امتحان اب شروع ہوا ہے اور وہ یہ کہ لگ بھگ 80 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے منصوبے کو دونوں اطراف کے سیاسی اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے‘ کیونکہ اس معاملے میں پوائنٹ سکورنگ بھی کی جائے گی اور کئی طرح کی افواہیں اور ہوائیاں بھی اڑائی جائیں گی تاکہ اس اچھے کام کے مثبت اثرات کو زائل کیا جا سکے۔ ایک بات تو سامنے آ بھی گئی کہ جس روز کرتار پور راہداری کا افتتاح تھا اسی روز بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ بھی سنایا۔ بہت سے ذہنوں میں یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ آیا یہ فیصلہ دو چار دن آگے پیچھے کر کے نہیں سنایا جا سکتا تھا۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے سوالات بہت سے ذہنوں میں کلبلاتے ہوں گے۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ کرتار پور راہداری کے حوالے سے کئی بھارتی دانشوروں نے خالصتان تحریک کے تناظر میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ سوال وہی ہے کہ کچھ لوگوں یا حلقوں کو ایک اچھے کام میں کیڑے نکالنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ بہرحال اہم ترین بات یہ ہے کہ جو سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں‘ جو ابہام بھی پیدا کئے جا رہے ہیں اور جو افواہیں بھی اڑائی جا رہی ہیں ان سب کو کرتار پور راہ داری کی بہترین انتظام کاری (Management) یعنی اعلیٰ ترین انتظامی سہولیات کے ذریعے اور سکھ یاتریوں کی خوشنودی حاصل کر کے کس طرح غیر مؤثر اور غیر متعلق بنایا جاتا ہے۔
موجودہ دور سمارٹ سفارت کاری اور موثر پیغام رسانی یعنی Strategic Communication کا ہے۔ امریکہ اور بھارت ایسے ممالک بھی اپنے چھوٹے چھوٹے اقدامات کو اس نوعیت کی کمیونی کیشن کے ذریعے اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس جدید دور میں پوری دنیا میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ سب کا حق بھی ہے جس سے کسی کو روکا یا محروم نہیں کیا جا سکتا۔ کرتار پور راہداری کھول کر یہی کام پاکستان نے بھی کیا ہے۔ اس موقع پر خاص طور پر تمام ذرائع ابلاغ نے خصوصی نشریات کا اہتمام بھی کیا لیکن یہ اہتمام زیادہ تر قومی ذرائع ابلاغ تک ہی محدود رہا۔ بیرونی ٹی وی اور اخبارات میں کرتار پور راہداری کی کوریج خاصی محدود رہی۔ اگر عالمی سطح پر بھی اس افتتاحی تقریب کی نشریات کا اہتمام کیا جاتا تو عالمی برادری میں پاکستان کا ایک اچھا امیج قائم ہوتا۔ 
عین کرتار پور راہداری کے افتتاح کے روز بھارت کی سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے ایک متفقہ فیصلے میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے دعوے کو قبول کر کے بھارتی مسلمانوں میں کھلبلی مچا دی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بھی ایسا ہی رد عمل دیکھنے میں آیا۔ اکثر ٹی وی چینلز بار بار بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو زیر بحث لاتے رہے اور اس طرح کئی گھنٹے ایک ایسے موضوع کے لئے وقف کر دیئے جس کا براہ راست پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ خالصتاً بھارت اور وہاں کے مسلمانوں کا معاملہ ہے۔ اس موضوع پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی خاصے سخت الفاظ میں اظہار خیال کیا لیکن سوچنے کی بات ہے کہ اس رد عمل سے کیا کرتار پور راہداری سے جڑے معاملات کی کوریج تو متاثر نہیں ہوئی؟ یہ بھی ایک قابل غور سوال ہے کہ کیا ہم نے اپنی تشہیر اور پاکستان کے تشخص کو بیرونی دنیا میں بہتر بنانے اور اس کے اس مذہب دوستی کے اقدام کو پوری دنیا میں معروف اور مشہور کرنے کا موقعہ بھارتی سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے پر مرکوز کر کے کھو تو نہیں دیا؟ ایک لمحے کے لئے ذرا تصور کریں کہ پاکستان میں کسی مندر یا چرچ کے حوالے سے یہاں کی سپریم کورٹ ایسی ہی نوعیت کا ایک متفقہ فیصلہ سناتی اور اُس پر بھارتی حکومت باقاعدہ مذمتی بیان جاری کرتی تو کیا ہماری حکومت اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار نہ دیتی؟ کیا مذکورہ فیصلہ بھارت کے مسلمانوں کا اندرونی معاملہ نہیں ہے؟ بالکل اسی طرح جیسے ہماری عدلیہ اپنے اندرونی معاملات کے حوالے سے اپنے فیصلے صادر کر رہی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری حکومت حقوق انسانی کے حوالے سے امریکی اعتراضات کو داخلی معاملہ قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے؟
حال ہی میں امریکی دفتر خارجہ نے دہشت گردی سے متعلق 2018 کی رپورٹ میں ایک بار پھر پاکستان کے حوالے سے ہرزہ سرائی کی ہے، مگر دفتر خارجہ‘ حتیٰ کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے بھی اس امریکی رپورٹ کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ اسے حقائق کے برعکس اور پاکستان کی قربانیوں سے چشم پوشی کے مترادف قرار دیا ہے۔ ہمارے دفتر خارجہ اور پی پی پی کے سینیٹر کا یہ رد عمل بالکل بجا اور منطقی ہے‘ کیونکہ یہ خالصتاً پاکستان کا داخلی معاملہ ہے، ایسے ہی جیسے جمہوریہ چین کی حکومت مسلسل مغربی پروپیگنڈے کو داخلی معاملات میں مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیتی رہی ہے کیونکہ قومی سلامتی سے متعلق امور کے فیصلے قومیں کسی کی ترجیحات کے مطابق نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے تحت کرتی ہیں۔
اس ساری عرض داشت کا مقصد محض ایک ٹھوس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت گوناگوں سیاسی اور اقتصادی مسائل سے دوچار ہے۔ جیسے اپوزیشن والوں کا کہنا ہے کہ حکومت سے کچھ ہو نہیں پا رہا اور ایسے ہی معاملات کو بنیاد بنا کر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے پہلے اسلام آباد میں دھرنا دئیے رکھا اور اب آزادی مارچ کے پلان بی کے تحت صوبوں میں سڑکیں بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک بھیجنے یا نہ بھیجنے کا معاملہ بھی ان دنوں حکومت اور اپوزیشن کے مابین ایک تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ملک کی اقتصادی صورتحال کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز ایف بی آر کے افسروں سے گفتگو اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آدھے ٹیکس محصولات قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتے ہیں، جس طرح چل رہے ہیں اس طرح ملک آگے نہیں جا سکتا۔ خارجہ محاذ پر بھی ہمارے ملک کو بھارت، افغانستان اور امریکہ کے گٹھ جوڑ کے باعث معاندانہ حالات کا سامنا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں نے حالات کو تشویشناک بنا رکھا ہے۔ یہ تمام تر صورت حال انتہائی محتاط رویے کی متقاضی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم دوسرے ممالک کے داخلی معاملات اور اپنے قومی مفادات کو خلط ملط نہ کریں۔ بھارتی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے‘ جبکہ کشمیر اقوام متحدہ کا مانا ہوا ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے لیکن دونوں معاملات میں حتمی فیصلہ بھارتی مسلمانوں اور کشمیری مسلمانوں نے کرنا ہے۔ اپنے کلیدی مسائل کو نظر انداز کر کے دوسروں کے معاملات پر لب کشائی سے ہماری نیک نامی یقینا نہیں ہو گی، اگرچہ ہمارا موقف اصولی ہو۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پاکستان کی سرحدوں سے باہر کے معاملات کے ٹھیکے دار بننے کی بجائے ہم حکومت کاری اور بین الصوبائی ہم آہنگی سے جڑے امور پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ یہی معاملات ہمیں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے میں مدد دیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں