نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نسلہ ٹاورکیس کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت
  • بریکنگ :- کراچی:سپریم کورٹ کاایک ہفتےمیں نسلہ ٹاورگرانےکاحکم
  • بریکنگ :- عدالت کاعمارت گرانےکیلئےجدیدٹیکنالوجی استعمال کرنےکاحکم
  • بریکنگ :- کراچی:تمام اخراجات نسلہ ٹاورکےمالک سےلیےجائیں،عدالت کاحکم
  • بریکنگ :- اگر وہ اخراجات ادانہ کرے تواس کی جائیدادضبط کرلی جائے،عدالت
  • بریکنگ :- کمشنرکراچی ایک ہفتےمیں نسلہ ٹاورگراکررپورٹ دیں،عدالت
  • بریکنگ :- عدالت نےگزشتہ سماعت پر 27 اکتوبرتک نسلہ ٹاورگرانےکاحکم دیاتھا
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

سی پیک: پُر جوش چین‘ مایوس کن پاکستانی بیورو کریسی

سی پیک کے تحت چین پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ سڑکوں کا جال پھیل چکا ہے اور اس میں توسیع جاری ہے۔آزاد تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) یکم دسمبر سے لاگو ہو چکا ہے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے یعنی انڈسٹریلائزیشن کے لیے منصوبہ بندی و عملدرآمد پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ جہاں تک بیجنگ کا تعلق ہے تو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو(بی آر آئی) کا یہ پرچم بردار منصوبہ کچھ جھٹکے سہنے کے بعد ایک بار پھر پورے طور سے ٹریک پر چڑھ چکا ہے۔ اوائلِ نومبر میں گوادر ائیر پورٹ اور وہاں بجلی گھر کا افتتاح کیا گیا۔ ایم ایل1- منصوبے کے لیے تکنیکی مالی معاونت پر بات چیت جاری ہے۔ مغرب میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے باوجود سینکڑوں ملین ڈالر کے مزید منصوبے بھی پائپ لائن میں موجود ہیں۔
یہ چین کا حصہ ہے ‘جو بتدریج غیر متزلزل عزم کے ساتھ سامنے آ رہا ہے‘لیکن کیا پاکستان کا جواب بھی اتنا ہی پُرجوش ہے؟ نا تجربہ کاری اور بے کل کر دینے والی یہ کہانی ایک المیہ واقعے سے سمجھی جا سکتی ہے۔ جنوری سے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے نہایت کم شرح سود والے قرض اور اس میں ایک بلین ڈالر تک توسیع کی منظوری دے رکھی ہے‘ لیکن گورننس کے ڈھانچے میںموجود نااہلی اور شاید پاکستان تحریک انصاف حکومت کے سٹیٹس کو مخالف نظام کی بدولت اس رقم کو خرچ نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان کو اس وقت مالی وسائل کی کتنی اشد ضرورت ہے اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسرا‘ پانچ برس قبل سی پیک کے افتتاح کے ساتھ ہی چین نے پاکستان کے سامنے ایک اندازہ رکھا تھا کہ اسے کم و بیش آٹھ لاکھ نیم تربیت یافتہ ایسے پاکستانی کارکن درکار ہوں گے جو روبوٹکس اور چینی زبان سے آشنائی رکھتے ہوں۔ اس کا مطلب تھا کہ ہمیں گوادر یا جہاں مناسب ہو ووکیشنل ٹریننگ اور زبان سکھانے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کی ضرورت تھی۔ مگرابھی تک کسی پاکستانی حکومت نے شاید ہی اس جانب توجہ مرکوز کی ہو‘ حالانکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونے تک ہمارے پاس اس حوالے سے کچھ نہ کچھ افرادی قوت تو دستیاب ہونا چاہیے تھی۔
اب یہ سوچنے کا وقت آنے والا ہے کہ اگر ہُنر مند افرادی قوت ہی دستیاب نہ ہوگی تو چینی انڈسٹری پاکستان کیسے منتقل ہو سکتی ہے؟ اگر ہُنر مند افراد ہی پیدا نہیں کیے جائیں گے تو حکومت اور بیوروکریسی روزگار کے نئے مواقع کس طرح پیدا کر لیں گے؟
تیسرا‘ 9 خصوصی معاشی زونز (ایس ای زیڈ) پر کام سست روی کا شکار اور صوبوں اور مرکز کے مابین فٹ بال بنا ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں ابھی تک ایک بھی زون تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ چینی حکومت اپنے خصوصی زونز میں صنعت کاروں کو پیداواری یونٹ قائم کرنے کی دعوت دینے سے پہلے ہر شے کا بندوبست کرتی ہے...زمین سے لے کر یوٹیلٹی سروسز تک۔ ہمارا حال یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے ان خصوصی معاشی زونز کی برق رفتارتکمیل کے معاہدے کر کے عملدرآمد کا سارا عمل نظام کے اندر موجود کرگسوں کے حوالے کر دیا ہے‘ مثال کے طور پر صوبائی بیوروکریسی‘ محکمہ مال کے حکام اور نچلے درجے پر موجود جوڈیشل نظامِ جہاں حکم امتناع ہر شے پر حکمرانی فرماتا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ چینی دوستوں کو چاہیے کہ اپنا پیسہ لائیں‘ زمین خریدیں اور مقامی اداروں‘ عدالتوں اور یوٹیلٹی سروسز کے حصول کے لیے خود دربدرخوار ہوتے پھریں۔حتیٰ کہ گوادر کے لیے فوری طور پر درکار ضروریات مثلاًپانی‘ بجلی‘ ایئرپورٹ‘ ووکیشنل ٹریننگ سنٹر وغیرہ کی فراہمی بھی نیپرا اور کرپٹ اورسست رفتار صوبائی بیوروکریسی کے سر ڈال دی گئی اور اس کا نتیجہ مجرمانہ تاخیر کی صورت میںنکلا۔
ہمیںاپنی کاہلی اور بیوروکریسی کی سُستی کا بوجھ بیجنگ کے دوستوں پر لادنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سسٹم میں موجود پیچیدگیوں کا علاج کرنا ہماری ذمہ داری ہے...حقیقی معنوں میں ایک ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ‘نہ کہ ان کی وجہ سے ہم سارے چینی کام کا بیڑہ ہی غرق کر ڈالیں۔چوتھا‘ چین نے آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) لاگو کر دیا ہے‘ لیکن ہم نے چین کو قابلِ برآمد اشیا اوراپنی مصنوعات کے ممکنہ خریداروں کی نشاندہی کے حوالے سے اب تک کیا کام کیا ہے؟ پانچواں‘ جن شعبوں میں پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری کی فوری ضرورت ہے ان کی نشاندہی اور چینی سرمایہ کاروں کی رہنمائی کرنے کے لیے ہماری تیاری کس مرحلے پر پہنچی ہے؟ 
اس وقت پاکستان کی جانب سے فعال اور پیشگی منصوبہ بندی کے فقدان پر چینی مایوسی نقطہ ٔعروج کو چھو رہی ہے‘ لیکن حکام اس سب کچھ کے باوجود نشاندہی کرتے ہیں کہ ان معاملات کی وجہ سے سی پیک سے منسلک سرگرمیوں یا ان کی رفتار میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ بیجنگ میں حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے رہنما اپنی کہی ہوئی بات پر قائم ہیں اور وہ سی پیک کو شاندار اور قابلِ تقلید کامیابی میں ڈھالنا چاہتے ہیں‘ لیکن تالی تو دونوں ہاتھوں سے ہی بج سکتی ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ بہت سی چیزوں کا انحصار پاکستان کی سول ملٹری قیادت اور بیوروکریسی پر ہے کہ وہ یکجان ہو کر اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کتنی صراحت سے کام کر سکتے ہیں؟بیجنگ میں ہونے والی بات چیت اور گرمجوش میزبانی سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سب کچھ اب پاکستانی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے بے مثل تزویراتی تعلقات کو محفوظ رکھنے کے لیے کاروباری معاملات میں غیر ضروری طور پر ہیجان انگیز اور مشکوک حرکات سے گریزکریں۔ اعلیٰ سطحی سول ملٹری قیادت کو اپنے نیچے موجود ان عناصر پر کڑی نظررکھنے کی ضرورت ہے‘ جو دونوں ممالک کے مابین شکوک کے بیج بونے کے لیے کوشاں ہیں۔ 
چینی حکام اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات سی پیک کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری یا چند ارب ڈالر کے قرضوں سے ماورا حیثیت کے حامل ہیں۔ان تعلقات کی نوعیت سے لاعلمی اور وزرا کی سطح پر ناتجربہ کاری کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی دنوں میں بہت بڑی غلط فہمیوں نے جنم لیا تھا‘ تاہم اگر یہ سب کچھ نہ بھی ہوا ہوتا تو بھی پاکستانیوں کی بہت بڑی اکثریت اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ امن اور سکیورٹی کا تصور اب معنوی اعتبار سے کہیں زیادہ جامع بن چکا ہے۔ شورش زدہ ہمسائیگی جتنا خود اس ملک کے لیے خطرے کا سبب ہے اتنا ہی وہ چین کے لیے بھی خطرہ ہے‘ لہٰذا اب ہمیں چین کے اندرون اور بیرون پر امن اُفقی ترقی کے فلسفے کو اپنانا چاہیے۔
سو‘ چین تو اب بھی پاکستان کے ساتھ مخلص ہے؛ حتیٰ کہ سی پیک کے اہداف سے سے بھی کہیں آگے تک۔ سی پیک تعاون میں توسیع اور سرد ‘ گرم چشیدہ ان تعلقات کی استواری کا انحصار بڑی حد تک پاکستان کے فیصلہ سازوں پر ہے کہ وہ چینی توقعات کے مطابق اپنا کردار ادا کریں اور ان منصوبوں پر برق رفتاری اور موثر انداز میں عملدرآمد کرائیں۔
سی پیک کے تحت چین پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ سڑکوں کا جال پھیل چکا ہے اور اس میں توسیع جاری ہے۔ چین تو اب بھی پاکستان کے ساتھ مخلص ہے؛ حتیٰ کہ سی پیک کے اہداف سے سے بھی کہیں آگے تک۔ سی پیک تعاون میں توسیع اور سرد ‘ گرم چشیدہ ان تعلقات کی استواری کا انحصار بڑی حد تک پاکستان کے فیصلہ سازوں پر ہے کہ وہ چینی توقعات کے مطابق اپنا کردار ادا کریں اور ان منصوبوں پر برق رفتاری اور موثر انداز میں عملدرآمد کرائیں

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں