نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:پریکٹس کرکےاسکلزبہتر بنا سکتےہیں،وسیم اکرم
  • بریکنگ :- دنیاکےٹاپ کرکٹرزاپنی فٹنس کاخیال رکھتےہیں،وسیم اکرم
  • بریکنگ :- کراچی:فٹنس آپ کےاپنےہاتھ میں ہے،وسیم اکرم
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

کاروباراور سرمایہ کاری کا قاتل

اجازت دیجیے کہ ہم آغاز میں ہی اس کالم کا انجام بیان کر دیں اور اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچنے کی وجوہات پر نظر ڈالیں۔
جب تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اٹھارہویں صدی کے کسی بانکے کی مانند بیرونی سرمایہ کاروں کا بازو مروڑنے کا کام ترک نہیں کرتا‘ رابن ہُڈ کی مانند جو ہمیشہ مال غنیمت کی تلاش میں سرگرداں رہتا تھا‘ خاص طور پر چھوٹے و متوسط کاروبار کرنے والے لوگ پاکستان سے دور دور ہی رہیں گے۔پاکستانی معیشت کے بارے میں یورپ و امریکہ سے آئے ہوئے یا اسلام آباد میں مُقیم اعلیٰ سطحی سفارت کاروں سے متعدد بار ہونے والی گفت و شنید سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس حوالے سے محتاط اور متذبذب سا رویہ رکھتے ہیں۔
خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے بارے میں ایک نکتے پر متفق  ہیں  کہ پاکستان کی بیوروکریسی یا دوسرے لفظوں میں سُرخ فیتہ...آہنی ڈھانچہ...مسلسل رکاوٹیں پیدا کرتا ہے اور انحطاط پذیر ہے۔ ٹیکس کا ہمارا نظام استخراجی ہے اور اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ اِس کا واحد مقصد صرف اُس محدود سی اشرافیہ کو فائدہ پہنچانا ہے جو خائن اور مفاد پرست مالیاتی بیوروکریسی کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اُن کے ذاتی کاروباروں میں اضافے کیلئے راضی ہو جائے۔ یہاں ایسی چند مثالیں پیش کرنا بے معنی نہ ہوگا جو حالیہ برسوں میں ایف بی آر کی اختیار کردہ پالیسیوں اور کاروبار کو نچوڑ لینے کی کوششوں کی عکاس ہیں، ان مثالوں سے ہمارا نقطہ نظر واضح ہو جائے گا۔
سویڈن کی ایک کمپنی نے لاہور میں ایک پلانٹ لگایا، پلانٹ میں استعمال ہونے والے درآمدی میٹریل پر ڈیوٹی 5 فیصد تھی۔ ایف بی آر کے جادو گروں نے صرف اٹھارہ ماہ کے عرصے میں چار گُنا اضافہ کر کے اس ڈیوٹی کو 20 فیصد پر پہنچا دِیا۔اس کار گُزاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ کمپنی کے لاگت کے تمام تر تخمینے درہم برہم ہو گئے کیونکہ یہ تخمینے اس حوالے سے لگائے گئے تھے کہ ڈیوٹیوں کی یہ شرح کم از کم ایک برس کیلئے ہوگی۔اسی طرح ایک یورپی کمپنی نے 2016ء میں لاہور میں ایک پیکجنگ یونٹ لگایا۔ ایف بی آر کے شکاریوں نے کمپنی کے عہدیداران کو زِچ کر دیا۔ ایف بی آر کے پانچ مختلف ڈیپارٹمنٹس کے اہلکاران جا و بے جا ان کے سر پر سوار رہنے لگے۔ اب اس عمل میں کچھ کمی آئی تو ہے، یاد رہے کہ کمی آئی ہے معاملہ ختم نہیں ہوا، اور اس کمی کے لیے بھی بلند ترین سطح سے مداخلت کی گئی اور شکایت وزیراعظم تک پہنچائی گئی۔
ایک اور یورپی کمپنی نے ارادہ کیا کہ وہ اپنا علاقائی دفتر یہاں قائم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں آئی ٹی سے منسلک ہزاروں نوکریاں پیدا ہوتیں۔ کمپنی کا ہدف تھا کہ نوجوان پاکستانی پیشہ وروں کو سارے ایشیا میں بھجوایا جائے لیکن ایف بی آر افسران کی خود غرض اور مفاد پرستانہ جبلت کو یہ گوارا نہ ہوا، بجائے اس کے کہ ایسی کاوش کرنے والی کمپنی کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ان سے مستقلاً ایسے مطالبات کیے جاتے رہے کہ تنگ آ کر کمپنی نے یہ منصوبہ ترک کردینے میں ہی عافیت جانی۔
ایک جرمن کمپنی کے پاکستانی نژاد چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی کہ وہ پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔ یہ بے چارہ اب اُس سامان پر تازہ عائد کردہ ڈیوٹیوں کے جھنجھٹ سے نپٹنے کے لیے بے حال ہو چکا ہے جو کراچی پہنچنے والا تھا۔ جو سامان کچھ عرصہ قبل پرانی ڈیوٹیوں کے حساب سے منگوایا جا چکا اُس پرنئی ڈیوٹی عائد کر دینے کی کوئی تُک آپ کو سمجھ آتی ہے؟
2008سے2019کے درمیانی عرصے میں تو ایف بی آر نے کسی صاحبِ اختیار ڈاکو کی مانند کام کیا۔ ایڈوانس ٹیکس وصول کیے یا بیرونی کمپنیوں کی بقایا جات کی رسیدوں پر بھی ٹیکس موصول کر لیے۔ اکثر موبائل کمپنیاں اس طریقہ کار کے سامنے کھڑی ہو گئیں اور نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں اپنا وقت اور وسائل قانونی کارروائیوں میں جھونکنے پڑے۔
ایف بی آر میں بیٹھے ٹھگوں کو بہت کم اندازہ ہوتا ہے یا وہ اپنے مفادات کی خاطر اس چیز کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ کھینچا تانی کرنے والے ان تمام اعمال کی داستانیں پاکستان سے باہر ایسی جگہوں تک پہنچ جاتی ہیں جو بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ شاید انہیں بالکل علم نہیں کہ ان کی یہ حرکات پاکستان میں کاروباری و سرمایہ کاری ماحول کے بارے میں معلومات کیلئے مرکزی ڈیٹا بینک میں شامل ہو جاتی ہیں۔
کسٹمز کے ایک افسر نے حالیہ دِنوں میں ہونے والی ایک نجی گفتگو میں اعتراف کیا کہ بیرونی سفارتی مشنوں کی ضروریات کے لیے آنے والے سامان کے ساتھ کاغذی کارروائی میں ہیر پھیر کر کے ان کے محکمے نے سرکاری محصولات کی مد میں حکومت کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اعدادو شمار کی جعل سازی وہ عمومی طریقہ ہے جس کی مدد سے ایک ہندسے والے اعداد کو دہرے ہندسوں میں تبدیل کر لیا جاتا ہے‘ اور یہ سب کُچھ غیرملکی سفارت خانوں کے نام پر کیا جاتا ہے۔ (اس خاص موضوع پر تفصیل سے بات الگ سے کسی مضمون میں کروں گا۔)
میرے غیر ملکی دوستوں نے جن چیزوں کی نشاندہی کی آئیے اُن پر بھی ایک نظر ڈال لیں:
1۔ کاروبار کرنے میں سہولت کے حوالے سے آنے والی بہتری قابل تحسین ضرور ہے لیکن اگر گورننس کے شعبے پر توجہ نہ دی جائے تو اس کامیابی کی اہمیت بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کاروبار کے حوالے سے اپروچ میں بہتری لائی جائے۔اگر یہ دونوں کام نہیں کیے جاتے تو مجموعی صورتحال میں بہتری پیدا نہیں ہو سکتی۔ 
2۔ وعدے بہت اچھے ہیں لیکن ٹیکس کے معاملات میں کسی بات کے یقینی نہ ہونے سے ممکنہ سرمایہ کار یہاں کا رخ نہیں کریں گے۔ جب تک سرمایہ کاروں کے ضابطوں کے بارے میں یقینی بات سامنے نہیں آئے گی، کم از کم کسی خاص مدت تک کے لیے ... پانچ سال کے لیے... تب تک کوئی بیرونی کمپنی یہاں اپنی گردن پھنسانے کے لیے نہیں آئے گی۔
3۔ پیچیدہ طریقہ کار: سرمایہ کاری کے لیے قواعد و ضوابط کو سادہ بنایا جائے اور پھر ان پر اُستواری دکھائی جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہی وہ کلید ہوگی جس کی مدد سے بیرونی سرمایہ کاری کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
4۔ ملکی معیشت اُس وقت تک ٹیک آف نہیں کر سکتی جب تک نئے کاروباراور متوسط و چھوٹی فرموں (سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز) کی مدد اور اُن کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی کہ وہ سروس سیکٹر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ حکومت کاروبار بڑھانے کے لیے جو بھی منصوبے بنائے اُس کا مرکز یہی نئے کاروبار اور ایس ایم ایز ہونی چاہئیں۔
5۔ ای کامرس اور ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی طور پر زور دیا جائے۔ لاگت میں کمی، استعداد کار میں بہتری اور فوری فیصلہ سازی اُسی وقت ممکن ہو پائے گی جب پاکستان میں اداروں کے اندر ای گورننس کا چلن عام ہوگا۔
ایک بیرونی سرمایہ کار کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان برطانوی دور جیسے دیو ہیکل گورننس کے نظام سے نجات پانا چاہتا ہے تو اس کے لیے واحد دستیاب راہ ڈیجٹیلائزیشن ہی ہے۔ ان بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ایف بی آر کا محکمہ اٹھارہویں صدی کے رابن ہُڈ جیسا ہے جو ان کے بازو مروڑ کر اُن سے پیسہ نکلوانا چاہتا ہے اورہل من مزید کی صدا ہمہ وقت اس کے لبوں پر ہوتی ہے۔اس کے لیے جو چند بڑی کمپنیاں اس کے خصوصی نشانے پر ہیں ان میں موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں سر فہرست ہیں۔
جب تک اس آہنی ڈھانچے میں دراڑ نہیں ڈالی جاتی... بیورو کریٹک طرزِ عمل فیصلہ سازی اور اس پر عملدرآمد میں رکاوٹ بنتا ہے...حقیقی بہتری، نمو اور ترقی کے لیے کی جانے والی اصلاحات ایک دور افتادہ خواب سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوں گی۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں