نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:قومی ٹی 20کپ میں 6 ٹیمیں حصہ لیں گی
  • بریکنگ :- بلوچستان،سینٹرل پنجاب،خیبرپختونخواکی ٹیمیں شامل
  • بریکنگ :- ناردرن پنجاب،سدرن پنجاب اورسندھ کی ٹیمیں شامل
  • بریکنگ :- قومی ٹی 20 کپ سےورلڈکپ کی تیاری میں مددملےگی،چیئرمین پی سی بی
  • بریکنگ :- ملک کےتمام اسٹارکھلاڑیوں کی شرکت سےفائدہ ہوگا،رمیزراجہ
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

ہماری شاہ خرچیاں

کہتے ہیں کہ مالِ مفت دلِ بے رحم‘ ہر وہ پیسہ جس کے کمانے پر خرچ کرنے والے کا پسینہ نہ بہا ہو وہ ان پیسوں کی قدر و قیمت کا اندازہ کبھی بھی نہیں لگا سکتا۔ وطن ِ عزیز کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی حکمران آیا اس نے پاکستان کے عوام پر خرچ ہونے والا پیسہ اپنا سمجھ کر خرچ کیا بلکہ اگر کہا جائے کہ اُڑایا تو زیادہ مناسب ہوگا۔ آیئے ہم آپ کو کچھ ایسے واقعات یاد دلائیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح ہمارے حکمران عوامی وسائل کو ذاتی جاہ و جلال پر خرچ کرتے ہیں۔مثلاً ایک قصہ آپ کو ایک ایسے افسر کا سناتے ہیں جس نے امریکہ میں پاکستانی سفارتحانہ کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں اپنی خدمات انجام دی ہیں ‘ ان کا کہنا ہے کہ 1998ء میں وزیر اعظم پاکستان امریکہ گئے اور بلیئر ہاؤس اور سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں مقیم رہے۔ ایک دن فرمان جاری ہوا کہ ان کے اعلیٰ مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نامناسب ہوگا کہ کنبے کے افراد خریداری کیلئے شہر کے بازاروں میں نہ جائیں‘ لہٰذا یہ مطلوب ہے کہ دنیا کے اعلیٰ برانڈز بلیئر ہاؤس کے احاطے میں ہی اپنے سٹالز لگائیں‘ جس کے فی الفور انتظامات کیے گئے۔پاکستان کا امریکہ میں سفیر اپنے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ حاضر ِخدمت تھے۔ وزیر اعظم کا خاندان سارا دن شاپنگ میں مصروف رہا۔ ان کے اعزاز میں مقامی پاکستانیوں نے جو تقریب منعقد کی تھی وہ بھی شاپنگ کی نذر ہو گئی۔ وزیر اعظم شاپنگ کے دوران ایک سٹال کو نظرانداز کرکے آگے نکل گئے لیکن پھر کچھ سوچنے کے بعد اسی سٹال پر ایک مختصر دورہ کرنے کا فیصلہ کیا اور خیر سگالی کے طور پر 30ہزار ڈالر کی '' معمولی ‘‘رقم کا سامان خریدا۔ اس ادائیگی کے بعد جب کیش رقم ختم ہوگئی تو سوال پیدا ہوا کہ مزید رقم کا بندوبست کیسے کیا جائے‘ چونکہ وہاں پر سرکاری افسران بشمول سفیر موجود تھے اور انہیں اپنی وفاداری بھی ثابت کرنا تھی تو انہوں نے حل نکال لیا۔ سفارت خانے میں موجود خدمتگارِ اعلیٰ نے فنانس آفیسر کوٹیلیفون کرکے رقم کا بندوبست کرنے کو کہا مگر انہوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کیاکہ اس مد میں پاکستان سے کوئی رقوم نہیں بھیجی گئی‘ یعنی ان کے پاس چیک جاری کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا‘لیکن انکار پر نہ صرف سرزنش کی گئی بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ اب سفیر خود انہیں فون کرے گا۔ فنانس آفیسر نے کہا کہ میں یہ چیک کیسے جاری کر سکتا ہوں اور وہ بھی 30ہزار ڈالر کا‘ جس کا بظاہر کوئی جواز بھی نہیں ہے سوائے ''شاہی خاندان‘‘ کی شاپنگ کے۔ سفیر کے فون پر فنانس آفیسر نے کہا کہ جناب! یہ کام قواعد کی خلاف ورزی ہے جو میں نہیں کرسکتا۔ اس پر سفیر نے کہا کہ بھائی وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ان کے لیے کچھ بھی کرنا نا ممکن نہیں ہے۔فنانس آفیسر نے تحریری آرڈر کی درخواست کی جو اسے مل گیا۔ اس طرح 30 ہزار کا چیک کاٹا گیا۔ اب فنانس آفیسر کو خدشہ تھا کہ اگر بادشاہ سلامت نے پیسے واپس کرنا مناسب نہ سمجھا تو کیا ہوگا‘ لیکن کچھ عرصے کے بعد ان کو اپنے افسرنے بتایا کہ اکاؤنٹ میں پیسہ واپس آگیا ہے۔آدھے گھنٹے بعد بینک سے فون آگیا کہ وہ پیسہ واپس اسی جگہ پہ چلا گیا ہے جہاں سے آیا تھا۔دراصل اس سرکاری افسر کو مطمئن کرنے کے لیے ایک ترکیب استعمال کی گئی کہ چونکہ سفارتحانہ کے دو اکاؤنٹس تھے تو ایک اکاؤنٹ سے پیسے دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کئے گئے۔
اسی طرح جب محترمہ بینظیر بھٹو دوسری دفعہ وزیراعظم تھیں تو انہوں نے جرمنی کا دورہ کیا اور اپنی سرکاری مصروفیات کے دوران انہوں نے جرمنی میں پاکستانی سفیر کو کہا کہ آپ زرداری صاحب کو شاپنگ کے لیے لے جائیں تو سفیر صاحب نے خود مجھے بتایا کہ سفارتحانہ کے ہنگامی فنڈ میں کوئی 20یا 30ہزار مارک (اُس وقت جرمنی کی کرنسی ہوتی تھی) بھی اپنے ساتھ لے لئے ‘ جب وہ شاپنگ مال پہنچے تو تقریباً ایک گھنٹے کے اندر زرداری صاحب نے شاپنگ کرکے وہ سارے پیسے خرچ کردیے۔ اب چونکہ 30ہزار مارک ایک سفیر کے لیے ایک بہت بڑی رقم ہوتی تھی تو انہوں نے پروٹوکول والوں کو بتایا کہ زرداری صاحب نے اس طرح سرکاری پیسے خرچ کر دیے ہیں تو مہربانی کرکے ان کی واپسی کا بندوبست کر دیجئے گا۔ تین دفعہ درخواست کرنے کے بعد جب بینظیر صاحبہ واپس جارہی تھی تو سفیر صاحب نے پھر کسی کے ذریعے وزیراعظم صاحبہ کو یاد دلوایا تو ان کو بہت ناگوار گزرا اور سفیر صاحب کو جہاز کے اندر بلایا اور وفد کے ارکان کی موجودگی میں بلند آواز میں کہا کہ ہم آپ کے قرض دار ہیں؟ ہم نے آپ کوپیسے دینے ہیں؟ کتنے پیسے دینے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ اتنے پیسے تو وزیراعظم صاحبہ نے پیسے دیے اور کہا کہ اب آپ جاسکتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیسے یہ سیاسی اشرافیہ عوام کے پیسے کو اپنا حق اور ان کی واپسی کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
اسی طرح مارچ 2012ء میں صدر زرداری نے دوشنبہ (تاجکستان) کا دورہ کیا‘ اپنے ساتھ کوئی 50لوگوں کا وفد بھی لے کر گئے۔ تاجکستان ایک طرح سے کمزور ملک ہے تو وفد کے لیے جن گاڑیوں کا بندوبست تھا وہ شاید ان کے خیال میں ان کے شایانِ شان نہیں تھیں اس لئے وفد نے ان گاڑیوں میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور ان کیلئے دوسری گاڑیاں منگوائی گئیں۔ صدر صاحب کا وہ دورہ تقریباً48 گھنٹوں پر مشتمل تھا اور ان 48گھنٹوں میں اس وفد نے پورے سفارتحانہ کے چھ مہینے کے کل خرچ جتنا پیسہ اڑایا کیونکہ وفد میں شامل افراد نے عام ریسٹ ہاوسز میں قیام سے بھی انکار کر دیا تھا۔ان لوگوں نے بڑی بڑی گاڑیاں منگوائیں جیسے یہ پیسہ ان کی اپنی جیبوں سے خرچ ہورہا ہو لیکن نہیں! یہ عوام کا پیسہ تھا۔ایک بار نوازشریف جب یو این کے دورے پر امریکہ گئے تو اپنے ساتھ کوئی 25 صحافیوں کوبھی لے کر گئے۔تمام وفد کو دورے کے دوران کھانے پینے کے لیے پیسے ملتے تھے۔ ایک دن وزیراعظم صاحب نے وفد کو سیون سٹار ہوٹل میں ناشتے کے لیے بلایا اور یوںاپنی دریا دلی کا ثبوت دیا۔
میمو گیٹ کی وجہ سے جب حسین حقانی استعفیٰ دے رہے تھے تو اس وقت ہمارے سفارتحانہ میں سفیر کی صوابدید پر ایک ملین ڈالرکا خفیہ فنڈ تھا جس سے پاکستان کا امیج بہتر کرنا مقصود تھا‘ حقانی صاحب کے استعفیٰ ہی کے دن اس فنڈ میں سے پانچ لاکھ ڈالر نکلوا لئے گئے جس کا آج تک پتا نہیں چلایا جاسکا۔ بعد میں مَیں نے شیری رحمان صاحبہ سے اس فنڈ کا جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس فنڈ کو ختم کیا جاچکا ہے۔ایک دفعہ نوازشریف صاحب بطورِ وزیراعظم پیرس گئے ‘ مریم نوازشریف بھی ہمراہ تھیں‘ دورے کے دوران مریم بی بی کو ایک ڈنر سیٹ پسند آیا جس کی مالیت ڈیڑھ لاکھ ڈالر تھی جس کی پیمنٹ سٹیٹ بینک کے ذریعے کی گئی اور یہ واقعہ بھی سٹیٹ بینک کے ایک اعلیٰ افسر نے مجھے خود سنایا۔
زرداری صاحب 2011-12ء میں بطور صدر یو این اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ گئے وہاں ان کے لیے ایک خصوصی محفل موسیقی کا اہتمام کیا گیا‘ جس کے لیے دوفنکارائیں خصوصی طور پر کینیڈا سے بلوائی گئیں۔سفارتحانہ کے حکام کے مطابق اس خصوصی محفل میں آنے والی دونوں سنگرز کو 50ہزار ڈالر دیے گئے جس کا کوئی عکسی ثبوت یا عینی شاہد موجود نہیں ہے۔ ان چند واقعات سے آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ کیا ہمارے حکمران واقعتاً اس ملک کے غریب عوام کا درد سمجھتے ہیں؟ کیا یہ تھر میں بھوک سے مرنے والوں یا بلوچستان میں محرومیوں کے ساتھ زندگی گزارنے والوں یا ان جیسے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟ یا ان کی نمائندگی کرنے کے اہل ہیں؟ خاص طور پر جب یہ لوگ ملک کے اندر اور باہرعوامی وسائل کو اپنی خوشی اور مشہوری کے لیے خرچ کرتے ہیں... ذرا سوچئے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں