نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- امریکی محکمہ ادویات نےکورونامکس اینڈمیچ حکمت عملی کی اجازت دےدی
  • بریکنگ :- شہری فائزر،موڈرنااورجانسن اینڈجانسن کی تیسری ڈوزلگواسکتےہیں ،امریکی میڈیا
  • بریکنگ :- کسی بھی کمپنی کی 2خوراکوں کےبعدان کمپنیوں کی کورونابوسٹرشاٹ لگوائی جاسکتی ہے
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

پاکستان کے سب سے بڑے دشمن

اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی پہچان یا شناخت ضروری ہے۔ یہ پہچان قبیلے‘ قوم یا ملک کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ دنیا کی ایک بڑی آبادی اسی پہچان اور شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انفرادی طورپر ہم جتنی بھی ترقی کرلیں‘ ہماری پہچان اجتماعی طور پر پاکستانی کے حیثیت سے ہی ہوگی۔
پچھلے دنوں وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کچھ ایسے خیالات کا اظہار کیا کہ نیا پاکستان ایک بٹن دبانے سے نہیں بن سکتا‘ یہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہوگا اور جب تک ہم اپنے آپ کو صدقِ دل سے پاکستانی قبول نہیں کریں گے‘ جب تک ہم اپنی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ میں خود داری نہیں لائیں گے‘ جب تک ہم اپنے آپ پر فخر نہیں کریں گے تب تک نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔وزیراعظم صاحب کے اس بیان کے تناظر میں میں اسی حوالے سے اپنے کچھ ذاتی تجربات بیان کرنا چاہوں گا کہ یہی وہ مقام ہے کہ جہاں پر ہمارے ملک کے بڑے بڑے لوگ غیر ملکیوں کے سامنے اپنے ملک پر بے جا تنقید کرکے اپنا وقار اور قومی عزت‘ دونوں ہی کھو بیٹھتے ہیں۔
گزشتہ دنوں یورپی ملک کے ایک سفیر نے میرے ساتھ دو سابقہ سفیروں اور وزیراعظم سیکرٹریٹ میں تعینات اہم شخصیت کو افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کے لیے ڈنر پر بلایا۔ جب ہم ان سے ملے تو وہ بہت زیادہ شکریہ ادا کررہی تھیں کہ کس طرح پاکستان نے ان کے لوگوں کو افغانستان سے نکلنے میں مدد کی۔ وہ بہت خوش تھیں اور انہوں نے پاکستان‘ پی آئی اے‘ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور حکومت کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔ اسی حوالے سے ایک اور مسئلہ بھی زیر بحث آیا جس میں ہمارے کچھ اداروں کی کمزوری بھی ظاہر ہورہی تھی۔ یہ مسئلہ زیر بحث آنے کی دیر تھی کہ ہمارے وہ تین معزز صاحبان بول پڑے اور ملک کے برائیوں کے پل باندھ دیے کہ جی کیا کریں‘ یہاں یہ مسئلے ہیں‘ یہ مائند سیٹ ہے‘ ان لوگوں نے اتنی باتیں کیں کہ مجھے خود کو برا محسوس ہونے لگا کہ یہ کیا بول رہے ہیں اور کس کے سامنے یہ باتیں کر رہے ہیں۔ غیرملکی سفیر صاحبہ حیرت سے ہمیں دیکھ رہی تھیں کہ ہم تو افغانستان پر بات کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور انہوں تو نے اپنا کچا چٹھا کھول دیا ہے۔ بلاشبہ ہمارے ملک میں کمزوریاں ہوں گی‘ ہماری اشرافیہ نے بے شمار غلطیاں کی ہیں جن کے نتائج ہم بھگت بھی رہے ہیں، اسی وجہ سے پاکستان مسائل کا شکار بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں یہ برائیاں وہاں بھی بیان کرنی چاہئیں جہاں پاکستان کی اس قدر تعریف ہو رہی ہو؟ بے چاری سفیر صاحبہ نے موضوع کو بدلنے کے لیے مجھ سے افغانستان کے حوالے سے پوچھا تو جو کچھ میرے ذہن میں تھا‘ میں نے بتا دیا۔ میں نے پھر ان تین صاحبان کے سامنے تھوڑا سا تاسف اور افسوس کا اظہار بھی کیا کہ سفیر صاحبہ نے تو ہمیں افغانستان پر بحث کے لیے بلایا تھا اور ان کو بھی ہم لوگوں نے اپنی کہانیوں میں الجھا دیا۔
اسی حوالے سے مجھے ایک اور ڈنر بھی یاد آ گیا‘ جس کا بندوبست ایک امریکی ادارے کے ایک عہدیدار نے کیا تھا۔ اس ڈنر میں ہمارے کچھ سیاسی لوگ بھی مدعو تھے۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے پارلیمانی اراکین اس امریکی عہدیدار کے ساتھ بہت ہی عاجزانہ انداز میں گفتگو کررہے تھے۔ کوئی خود اعتمادی یا خود داری ان میں نظر نہیں آرہی تھی۔ میں سوچتا رہا کہ ہمارے پارلیمانی اراکین کیسے غیروں کے سامنے اپنا ہر مسئلہ اس طرح کھول سکتے ہیں‘ یہ کون سی پاکستانیت کی علامت ہے؟
چند سال پہلے ایک جرمن دوست کے ساتھ پاکستان کے حوالے بات چیت چل رہی تھی تو ان کا یہ کہنا تھاکہ پاکستان کے دشمن پاکستان کے اپنے ہی لوگ ہیں‘ خاص طورپر وہ لوگ جو اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ جب اپنے مفاد کی بات آتی ہے تو یہ لوگ دو دو‘ تین تین پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں‘ ہر حکومت میں نظر آتے ہیں‘ لیکن جب غیر ملکیوں کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں تو پاکستان کی بے توقیری کو اپنی بے توقیری نہیں سمجھتے اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔
ایک بار ایک جرمن نائب سفیر کے ساتھ ملاقات ہوئی‘ وہاں پر بھی ہمارے کچھ سیاسی رہنما موجود تھے‘ ان میں سے ایک صاحب ڈپٹی سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ تقریباً سارے رہنما جرمن ڈپٹی سفیر سے سیاسی اور مالی معاونت کے لیے التجا کر رہے تھے‘ جیسے وہ کوئی صومالیہ‘ نائیجیریا یا افغانستان کے سیاستدان ہوں۔ ایسی بے شمار کہانیاں ہیں جن کو ایک پاکستانی کی حیثیت سے سوچ سوچ کر انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ اگر ہماری اشرافیہ‘ ہمارے نمائندے، ہمارے پارلیمانی اراکین اسی ذہنیت کے ساتھ ہماری رہنمائی کریں گے تو پاکستان کیسے ترقی کرے گا؟
جب وزیراعظم عمران خان نے امریکیوں کو اڈے دینے کے حوالے سے ''قطعاً نہیں‘‘ کہا اور کھل کر کہا کہ پاکستان کا مستقبل چین کے ساتھ منسلک ہے تو اس پر ہمارے بعض رہنما ناراض ہوگئے کہ اتنی کھل کر بات نہیں کرنی چاہئے۔ جو لوگ نپی تلی بات کرتے تھے‘ انہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کتنا خوش کیا اور پاکستان کی کتنی عزت کروائی؟
پاکستان اب بھی برطانیہ کی کورونا ریڈ لسٹ میں شامل ہے حالانکہ پاکستان کی کورونا کے حوالے سے کار کردگی بہت اچھی رہی ہے جس کو بڑے بڑے عالمی اداروں نے بھی تسلیم کیا۔ چھ جولائی کو برطانوی جریدے اکانومسٹ میں ایک خصوصی رپورٹ شائع ہوئی جس میں پاکستان کو کورونا کے خلاف اچھی کارکردگی دکھانے والے پچاس ممالک کے فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا جبکہ بھارت اسی فہرست میں چھیالیسویں نمبر پر ہے۔ کیا اس بات پر ہمیں فخر نہیں ہونا چاہئے؟ اب یہاں حکومت کی بھی کمزوری ظاہر ہوتی ہے کہ چھ جولائی کو چھپنے والے رپورٹ کا پاکستان کو چند دن پہلے ہی علم ہوا‘ کیا ہمارا سفارتخانہ برطانیہ میں سویا پڑا تھا کہ اتنے معتبر جریدے میں چھپنے والی رپورٹ سے بے خبر رہا؟ اسی رپورٹ کو بنیاد بنا کر برطانیہ کے ساتھ کورونا ریڈ لسٹ کے حوالے سے بات ہوسکتی تھی۔
2018ء میں کینیڈا سے ایک دس رکنی پارلیمانی وفد پاکستان آیا‘ اس وفد کے سربراہ نے پاکستان میں کچھ دن قیام کے بعد مجھ سے کہا کہ پاکستان کا منفی تشخص اجاگر کرنے میں پاکستان کے اپنے لوگوں کا ہی ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے پاکستان آنے کا پلان ترتیب دیا تو ہمیں آپ کے اپنے ہی لوگوں نے منع کیا کہ پاکستان میں تو حالات خراب ہیں لہٰذا آپ نہ جائیں۔ جب وفد واپس جانے لگا تو ان صاحب سے میری دوبارہ ملاقات ہوئی‘ انہوں نے مجھے کہا کہ پاکستان کا تشخص بیرونی دنیا میں تب تک تبدیل نہیں ہوگا جب تک پاکستان کے عام عوام اور اشرافیہ‘ دونوں پاکستان کو اور بحیثیت پاکستانی خود کو قبولیت نہیں بخشیں گے‘ یعنی اپنے پاکستانی ہونے پر فخر نہیں کریں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں