اخبار پڑھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے اشتہاروں پر نظر پڑی تو اچانک ایک اشتہار میں ایک شناسا ٹیلیفون نمبراور پتہ نظر آیا۔ دیئے ہوئے نمبر پر فون ملایا تو میرا خیال درست نکلا۔ یہ میرے دفتر کے ایک ساتھی تھے جو اپنی کار فروخت کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ’’کیا بات ہے بھئی؟خیریت تو ہے‘‘؟میں نے پوچھا’’ کیاکسی نئے ماڈل کی گاڑی پسند آگئی ہے‘‘۔ ’’خاک گاڑی پسند آنی ہے‘‘ وہ اکتا کر بولے’’پتہ نہیں تم کونسی دنیا میں رہتے ہو۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ آج کل کی مہنگائی میں محدود وسائل کے اندر گاڑی رکھنا کتنا مشکل کام ہے‘‘۔ ’’یہ بات تو درست ہے‘‘ میں نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے پوچھا’’اشتہار کے جواب میں کوئی گاہک آئے؟‘‘ ’’ہاں آئے‘‘ وہ بولے ’’لیکن مطلوبہ قیمت سے آدھی قیمت لگاتے ہیں‘‘ ۔ ’’چلو اﷲ مہر بانی کرے گا ‘‘میں نے کہا ’’اگر آج کوئی بات نہ بنی تو کل اپنی کار دفتر میں لے آنا۔ ایک کار ڈیلر ہیں جو میرے جاننے والے ہیں۔ انشاء اﷲ کام بن جائے گا‘‘۔ اگلے دن میں اپنے کام میں مشغول تھا کہ میرے دو ساتھی اپنے کمرے سے اٹھ کر میرے پاس آ گئے اور بتایا کہ وہ اپنی گاڑی لے آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں انہیں اپنے واقف کار ڈیلر کے پاس لے چلوں۔ فون کیا۔ ملک صاحب مل گئے۔ ہم بھاگم بھاگ ان کے پاس پہنچے۔ ملک صاحب نے کار کا بغور جائزہ لیا اور مراقبے میں چلے گئے ۔ اس وقت ان کے چہرے پر وہی تاثرات تھے جو پطرس کے دوست مرزا صاحب کی بائیسکل کو دیکھ کر مستری کے ہوں گے۔ دراصل بات ہی کچھ ایسی تھی۔ گاڑی کے چاروں طرف رگڑیں لگی ہوئی تھیں اور حادثات کے نشان تھے۔ گاڑی کا اصل رنگ جگہ جگہ سے خراب ہوچکا تھا اور کسی اناڑی مستری کی کارکردگی کی وجہ سے داغ دھبے مزید نمایاں ہورہے تھے۔ ٹائروں کی حالت نا گفتہ بہ تھی۔ کافی عرصہ برائے فروخت رہنے کی وجہ سے اندرونی صفائی کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ ’’ملک صاحب۔آپ کچھ بول نہیں رہے‘‘میں نے اس ناگوار خاموشی کے وقفے کو ختم کرنے کیلئے کارڈیلر کو مخاطب کیا۔ لیکن ملک صاحب نے میری بات کا جواب دینے کی بجائے کار کے مالک سے چابی لے کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور کار کا انجن سٹاٹ کردیا۔ انجن کی آواز بھی خاصی روح فرسا تھی۔ انجن کو چالو حالت میں چھوڑ کر ملک صاحب گاڑی سے باہر نکلے اور بونٹ کھول کر اس کے اندر سردے دیا۔ پھر کا رکے مالک سے مخاطب ہوئے۔ ’’آپ انجن کی آواز سن رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے پوچھا ’’جی ہاں سن رہا ہوں‘‘ کار کے مالک نے کھسیانے لہجے میں جواب دیا۔ ’’آپ کو کسی درجے میں یہ کار کے انجن کی آواز لگتی ہے؟‘‘ ملک صاحب نے پوچھا ’’کیا مطلب؟‘‘ میرے دوست کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے۔ ’’مطلب واضح ہے‘‘ ملک صاحب بڑے اطمینان سے بولے’’ایسی آواز کسی پرانے ٹرک انجن کی ہوتی ہے جس کا سائلنسر پھٹا ہوا ہو‘‘ پھرپوچھا ’’یہ کار آپ نے کسی ڈرائیونگ سکول کو تو نہیںدی ہوئی تھی‘‘۔ ’’جی نہیں کسی ڈرائیونگ سکول کے پاس تو نہیں تھی‘‘میرے دوست نے ندامت سے کہا۔’’لیکن میری بیوی اور بیٹا کار چلانا سیکھتے رہے تھے‘‘۔ ملک صاحب نے ایک لمبی ہوں کی اور پھر مجھ سے مخاطب ہوئے۔ ’’آپ کے دوست کی گاڑی کی اچھی قیمت ملنی چاہیے کیونکہ یہ پرانی نہیں ہے لیکن دیکھنے اور چلانے میں پرانی گاڑیوں سے بھی بدتر ہے۔ اس لئے جو قیمت آپ کے دوست کے ذہن میں ہے وہ کوئی دینے کو تیار نہیں۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ آپ کے دوست اس کو بیچنے کا پروگرام فی الحال موخر کردیں اور کچھ پیسے اس پر خرچ کرکے اس کی حالت بہتر بنائیں۔ اگر وہ اس پر تیار ہوں تو پھر میں اس کا ذمہ لیتا ہوں‘‘۔ یہ مشورہ سن کر میں نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھا۔ مزید پیسے خرچ کرنے کے تصور سے اس کی کیفیت اس بکرے کی سی ہورہی تھی جس سے پوچھا جائے کہ وہ قربانی کیلئے تیار ہے یا نہیں۔ بہرحال میرے حوصلہ دلانے پر وہ مان گئے اور ہم گاڑی ملک صاحب کے سپرد کرکے دفتر واپس آ گئے۔ تقریباً دس روز کے بعد حسب وعدہ ملک صاحب کا فون آیا کہ آپ کی گاڑی تیار ہے اور گاہک بھی۔ سارے کام چھوڑ کر خوشی خوشی ان کے پاس پہنچ گئے۔ ملک صاحب کسی سے کوئی بات کررہے تھے ۔کچھ دیر تو صبر کیا لیکن پھر پوچھ ہی لیا کہ کدھر ہے ہماری گاڑی ، ملک صاحب نے تعجب سے ہماری طرف دیکھا اور بولے حد ہے آپ صاحبان پر ! اپنی گاڑی بھی نہیں پہچانتے اور پھر ایک چمکتی دمکتی نئی نویلی سی کار کی طرف اشارہ کردیا۔ یقین تو نہ آیا لیکن بغور جائزہ لیا تو یہ وہی کار تھی جسے چند دن پہلے ہم بڑی خستہ حالت میں یہاں چھوڑ گئے تھے۔ سب رگڑیں بڑی مہارت سے صاف کردی گئی تھیں۔ خراب جگہوں پر پینٹ اتنا اچھا ہواتھا کہ اصلی پینٹ سے مل گیا تھا۔ ٹائر نئے ڈال دیئے گئے تھے۔ اندرونی صفائی بہت شاندار تھی۔ انجن سٹاٹ کیا تو ایسے لگا جیسے گاڑی ابھی فیکٹری سے تیار ہو کر آئی ہو۔ ’’ملک صاحب۔یہ آپ نے کمال کردیا’’ میں نے خوش ہو کر ان کو داد دی۔ ’’یہ کوئی کمال نہیں ‘‘ ملک صاحب بولے۔ ’’یہ مارکیٹنگ کا بنیادی اصول ہے کہ آپ کسی چیز کو بھی اس کی بدترین حالت میں نہیں بیچ سکتے۔ پہلے اس کا حلیہ بہتر کرنا ہوگا۔ اگر آپ گھر بیچنا چاہتے ہیں تو اس کی مرمت کرانی پڑے گی۔ اگر چلتا ہوا کاروبار بیچنا چاہتے ہیں تو خسارے کا کچھ کرنا پڑے گا۔ اسی اصول کے تحت آپ کی کار پر جو خرچ کیا گیا ہے وہ بہت ضروری تھا جس کے بغیر مناسب قیمت پر یہ فروخت نہیں ہوسکتی تھی۔ اب وہ صاحب جو دوسرے کونے میں کھڑے ہیں اس گاڑی کے مناسب دام لگا چکے ہیں جو آپ کے دوست چاہتے ہیں اور جن سے مرمت کا خرچ بھی نکل آئے گا۔ اگر قبول ہو تو بسم اﷲ کیجئے۔ اندھا کیا چاہے سوائے دوآنکھوں کے ۔ میرے ساتھی نے فوراً ہاں کردی اور مطلوبہ رقم کا چیک جیب میں ڈال کر خوشی خوشی ہم وہاں سے چل دیئے۔ اس کے باوجود میرا ساتھی کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ ’’کیا سوچ رہے ہو‘‘ میںنے پوچھا؟ ’’یا رمیں سوچ رہا ہوں ‘‘ وہ بولا’’کہ ہم اپنی قومی فضائی کمپنی کے حصے فروخت کررہے ہیں ایک ایسی قیمت پر کہ اس سے کم قیمت شاید ہوہی نہیں سکتی‘‘ ’’توپھر؟‘‘ میں نے بیزاری سے پوچھا’’کار بیچ کر جو رقم ملی ہے اس سے پی آئی اے کے شیئر خرید لیں؟‘‘ ’’نہیں میں یہ نہیں سوچ رہا‘‘میرا ساتھی بولا’’میرے دماغ میں یہ خیال آرہاتھا کہ جس طرح ہم نے کار کو ٹھیک حالت میں لاکر اسے اچھی قیمت پر بیچا ہے ۔ اسی طرح پی آئی اے کی خرابیاں ٹھیک کرکے ہم اس کی ڈھنگ کی قیمت وصول کیوں نہیں کرسکتے۔ اگر اسے بیچنا اتنا ہی ضروری ہے‘‘ ’’مثلاً کیا کِیا جائے‘‘ میں نے پوچھا۔ ہماری ایئر لائن کے پاس بہت سے منافع بخش روٹس ہیں جن سے جہازوں کی قلت کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ لیز پر جہاز لے کر ان روٹس پر چلائے جائیں اور فالتو لوگوں کو فارغ کیا جائے۔ ’’سنو میرے نادان اور عقل سے پیدل دوست ‘‘میں نے کہا’’تم ایک گاڑی بیچ کر بہت سیانے ہوگئے ہو۔ لیکن ہمارے اوپر بیٹھ کر فیصلے کرنے والے ہم سے کئی گناسیانے ہیں اور بہت آگے دیکھتے ہیں۔ اگر ان کی سوچ ہماری طرح معمولی اور عامیانہ ہوئی تو ان کے پاس ملک وقوم کے اثاثے بیچنے کا اختیار نہ ہوتا۔وہ بھی آج تمہاری طرح ایک پرانی گاڑی بیچنے کیلئے دھکے کھا رہے ہوتے۔