اعضاء کا مکالمہ

انسانی جسم ایک دن بے حس وحرکت‘ بسترِ علالت پر پڑا تھا کہ تمام اعضاء نے اپنا اجلاس طلب کر لیا۔ دماغ نے تجویز دی کہ اچھا موقع ہے، ہم ایک دوسرے کے معاملات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کر لیں۔ دل کو اگرچہ دماغ سے اختلاف رہتا ہے اور دونوں کی بنتی بھی نہیں تاہم وہ بھی راضی ہوگیا۔ اجلاس میں آنکھوں، ہاتھوں، ناک، زبان، کان، معدہ، گردے، ٹانگوں، پائوں اور دیگر اعضاء نے بھی شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی۔ دماغ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور اوصاف کی بنا پر از خود اجلاس کا ماڈریٹر بن گیا۔
ناک نے کان سے کہا: مجھے سازش کی بو آ رہی ہے۔ جس پر کان اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا اور فوری بولا: بات سننے میں کوئی حرج نہیں۔
دل نے سب کو مخاطب کیا: میرا خیال ہے کارروائی کا آغاز کیا جائے، دماغ نے صورتحال بھانپتے ہوئے فوری مداخلت کی اور کہا کہ میں اجلاس کی کارروائی اور طریقہ کار آپ کو بتاتا چلوں۔ ہر کسی کو باری باری بات کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ زبان نے خاموشی توڑی اور گزارش کی کہ وہ گفتگو کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔ دل نے کچھ سوچنے کے بعد اس کی تائید کی اور دماغ نے رضامندی میں سر ہلا دیا۔ 
زبان: میں نے پہل اس لیے کی ہے کیونکہ زیادہ تر بولنے کا کام میں ہی کرتی ہوں اور کسی کے منہ لگنے میں بھی مجھے آگے کیا جاتا ہے۔ میں میٹھا بول دوں تو کیا بات ہے، بُرا بھلا بھی میرے حصے میں آتا ہے۔ اب یہ کام کئی بار خود کر جاتی ہوں لیکن (دماغ کی طرف دیکھتے ہوئے) اکثر ان کے کہنے پر کرتی ہوں۔ کبھی کبھار آپ محترم (دل) بھی میری مدد کرتے ہیں، لیکن اہم اور نازک مواقع پر دونوں ساتھ چھوڑ جاتے ہو۔ پریشانی، دکھ اور غم میں کئی بار حرکت نہیں کرپاتی ہوں۔ جھوٹ بولنے، غیبت کرنے اور چغلی کے لیے بھی مجھے ہی استعمال کیا جاتا ہے، یہ سب آپ (دماغ ) کے علم میں ہے۔ منہ سے بے ساختہ کوئی بات نکل جائے تو مجھے کالی زبان قرار دے دیا جاتا ہے۔ میرے دوسرے کام کا بھی سن لیں؛ ہر شے مجھ سے ہو کر ہی معدے میں جاتی ہے۔ زیادہ کھالو تو بُرا، غیر معیاری شے پر بدہضمی کا طعنہ ملتا ہے۔ زیادہ چلی تو چرب زبانی کی تہمت مقدر بن گئی۔ میں نے کسی کے لئے اچھے الفاظ بولے‘ اسے چاپلوسی کہہ دیا گیا۔ کسی بڑے کو جواب دیا تو زبان دراز کا لقب مل گیا۔ زبان نے بڑے رنجیدہ اور دکھی انداز میں اپنی بات مکمل کی۔
دماغ نے اسے گھورتے ہوئے پائوں سے کہا: اب آپ اظہارِ خیال کریں۔
پاؤں: ہم اکثر طے شدہ پروگرام کے تحت قدم اٹھاتے ہیں‘ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی جگہ بے اختیار چلے گئے۔ ہاں! یہ بھی ہوتا ہے کہ خوف اور دہشت کے مارے ہم اپنی جگہ پر کھڑے رہتے ہیں‘ جیسے زمین نے ہمیں پکڑ لیا ہو۔ جسم ہمیں لعن طعن کرتا ہے کہ تم نے ساتھ چھوڑ دیا مگر اس کی وجہ کبھی سمجھ نہیں آئی۔ پہلے ہمارا استعمال بہت زیادہ ہوتا تھا‘ اب ٹرانسپورٹ کی سہولتیں آگئی ہیں اس لیے سفر کم کرنا پڑتا ہے۔ ہاں! ایک بات نہیں سمجھ آئی کہ معافی مانگنے کے لیے لوگ ہمیں کیوں پکڑ لیتے ہیں۔ 
دماغ نے ہاتھوں کو اشارہ کیاکہ وہ بولیں۔انہوں نے کہا کہ دوسروں سے ملنے پر ہم مصافحے کا ذریعہ بنتے ہیں‘ غصے میں گال پر تھپڑ رسید کرنے پر اکثر افسوس اور دکھ ہوتا ہے۔ ہمیں دعا کے لیے اتنا نہیں استعمال کیا جاتا جتنا معافی مانگنے کیلئے ہمیں بلاجھجک جوڑ دیا جاتا ہے۔ 
کان نے فوراً گفتگو میں حصہ لیا اور کہا: بھائی جان ہمارے بغیر کوئی آواز دماغ تک نہیں پہنچ سکتی‘ جس کے بعد ہی کوئی ردعمل دیا جاتا ہے۔ اگر ہمیں استعمال کرکے عمل نہ کیا جائے‘ پھر بھی ہمیں ہی طعنہ ملتا ہے کہ ہم بند ہیں۔ جوئیں اگرچہ ہم سے دور ہوتی ہیں لیکن یہی کہہ دیتے ہیں کہ ہم پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہم پختہ ہوتے ہیں پھر بھی کچے قرار دیے جاتے ہیں۔
دماغ: اگر بات مکمل ہوگئی تو ناک کو موقع دیں۔
ناک: میں بُو سے زیادہ خطرے کو سونگھنے میں بھی تعاون کرتی ہوں حالانکہ اس کی کوئی بُو نہیں ہوتی۔ میں جیسی بھی ہوں‘ اپنا کام کرتی ہوں لیکن باتیں بنائی جاتی ہیں کہ نک چڑی ہوں۔ میری وجہ سے آنے والی چھینک صحت کے لیے اتنی مفید ہے لیکن کبھی اس کا شکر ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی‘ الٹا بُرا منایا جاتا ہے۔اس پر آنکھوں نے ناک کو گھورنا شروع کر دیا جس پر ناک نے خاموشی اختیار کرلی۔
آنکھیں: ہم جو دیکھ لیں اُسے جھٹلانا مشکل ہوتا ہے، زبان کو گلہ ہے کہ اسے بولنے نہیں دیا جاتا۔ ہم نے ایک بار جو دیکھا ہوتا ہے وہ ذہن پہ نقش ہو جاتا ہے‘ اب دماغ اسے فراموش کر دے تو اس میں ہم کچھ نہیں کر سکتیں۔ دکھ کے لمحات میں اور کبھی خوشی میں بھی جذبات زیادہ اُمڈ آئیں تو پُرنم ہو جاتی ہیں۔
معدے نے ہاتھ کھڑا کرکے بولنے کی اجازت چاہی۔ 
معدہ: میرے ساتھ بہت زیادتی ہوتی ہے۔ اچھا‘ بُرا‘ ٹھنڈا‘ گرم‘ سب کچھ میرے اندر انڈیل دیا جاتا ہے جس سے اکثر کام کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی‘ جانتے بوجھتے بھی مناسب اور متوازن خوراک کیوں نہیں لی جاتی اور دانتوں کو بھی چبانے کی فرصت کم ملتی ہے‘ سب کچھ ویسے ہی میری طرف پھینک دیتے ہیں۔
دل نے مداخلت کی اور کہا: اب میری باری ہے، جناب وہ کون سا مرحلہ ہے جب دماغ نے میری سنُی ہو۔ ہر پریشانی، دکھ اور غم کے موقع پر میں دھڑکتا ہوں۔ دل کے لہجے میں غصہ تھا‘ اس نے کہا: دماغ میرے موقف سے اختلاف کو جیسے اپنا فرض سمجھتا ہے۔ میں پورے جسم کا نظام چلانے کے لیے خون کی گردش کنٹرول کرتا ہوں، غصہ آنے پر دماغ سر پر خون سوار کر لیتا ہے‘ اس کے اندر نجانے کیا چل رہا ہوتا ہے۔
دماغ نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: زیادہ تر شرکا مجھے ہدف بنا رہے ہیں، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں جسم کو کنٹرول رکھنے کے لئے تمام اعضا سے تعاون کرتا ہوں بلکہ ان کی رہنمائی کرتا ہوں‘ اس میں سب سے اہم کام سوچنے کا ہے۔ آپ کو معلوم نہیں کئی بار میں خود مائوف بلکہ سُن ہو جاتا ہوں۔ میرے ساتھ آپ کی ناراضی بجا لیکن میں بھائی دل سے کہوں گا کہ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ حقائق مدنظر رکھ کر کوئی فیصلہ کیا جائے‘ اسی لیے میں جذبات کو ثانوی حیثیت دیتا ہوں۔
دل: یقین اور ایمان میری وجہ سے پیدا ہوتا ہے، تم تو اس میں بھی بحث کرنے پر آ جاتے ہو۔
دماغ: میں استدلال کو بنیاد بناتا ہوں، جس کے لیے سوچنے کا عمل وقت طلب ہوتا ہے۔ اب اس پر تم مجھے ہمیشہ موردِ الزام ٹھہراتے ہو۔
دل: مجھ پر سب اعتبار کر لیتے ہیں مگر تمہارے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
زبان: میں دل کی سنتی ہوں تو دماغ مجھے بولنے سے روک دیتا ہے جبکہ دماغ کی مرضی پر بغیر وجہ بھی چلتی رہتی ہوں۔
آنکھیں: ہم نے دیکھا ایک شخص حادثے کے بعد سڑک پر لاوارث گرا ہے، پھر بھی اسے نہیں اٹھایا۔
دل: میں نے تو کہا تھا کہ اس کی مدد کی جائے۔
دماغ۔ تم لوگ جذباتی ہو، ایسا کرنے سے نئے پھڈے میں پڑ جانا تھا، جس کے لیے میرے سمیت کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔
دل (بڑبڑاتے ہوئے): بے حسی تم پر ختم ہے۔
دماغ: میں زیادہ تر میں آپ سب کو حقائق پر مبنی مشورے دیتا ہوں۔
زبان: تمہیں معلوم ہے کہ ہم سب کو بھی روزِ محشر گواہی دینا ہے، ہم نے کیا کچھ کیا، جب جسم کا مالک خاموش ہوگا، کچھ اس وقت کا ہی سوچ لو۔
دل دماغ سے مخاطب ہوا کہ میں اب بھی دعاگو ہوں کہ تم بڑا پن دکھانے کے بجائے حقیقی طور پر قائدانہ کردار ادا کرو۔ اور سب کو اچھے کا مشورہ دو۔
ابھی یہ بحث جاری تھی کہ گھنٹی بجی۔ خطرے کی۔ ایک جھٹکے سے سب خاموش ہوگئے۔
اور پھر جسم ساکت ہوگیا۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں