نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 10 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 777 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 42 ہزار 944 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 336 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.78 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"FBC" (space) message & send to 7575

خواتین کا احترام!

آنکھوں دیکھا ایک سچا واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ بھاہ محمد علی مرحوم دیکھنے میں ببر شیر کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ چھ فٹ چار انچ قد کے ساتھ کھلے ہڈ پیر۔ بات کرتے تو سامنے والے کا خون خشک ہوجاتا۔ یہ پنجاب کے شہروں سمندری اور گوجرہ کے مابین ایک گاؤں مالووال کے رہنے والے تھے۔ چار بھائی تھے اور چاروں کے چاروں لمبے تڑنگے اور طاقتور لیکن محمد علی کی بات ہی الگ تھی۔ بڑے بوڑھے بتاتے تھے کہ انگریز دور میں ہرگاؤں میں ایک سرکاری سانڈ ہوا کرتا تھا جو ہروقت کھلا گھومتا رہتا تھا۔ یہ سانڈ کسی کے بھی کھیت میں گھس جاتا لیکن مجال ہے کہ کوئی اِس کو اپنے کھیت سے نکالنے کی جرأت بھی کر سکتا۔ ایک روز یہ سانڈ گھومتا پھرتا بھاہ محمد علی کے کھیتوں میں گھس گیا۔ محمد علی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، سانڈ کو مار مار کر اپنے کھیتوں سے نکال دیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ تو اس نے انگریز سرکار کی پولیس کو بھی نہ بخشا۔ یہ اُس دور کی پولیس تھی جس کے معمولی اہلکار کو دیکھ کر ہی لوگ کانپنے لگتے تھے۔ خیر بعد میں بڑی مشکلوں سے محمد علی کی جان بخشی ہوئی۔ وہ صرف دھڑلے والے ہی نہیں تھے کہ بلکہ پورا گاؤں اُ ن کی عزت کرتا تھا۔ اب آنکھوں دیکھا واقعہ سنئے۔ ایک روز محمد علی کے والد صاحب اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ گاؤ ں سے قدرے ہٹ کر چارپائیاں ڈالے اپنے دوستوں کے ساتھ حقہ پی رہے اور گپ شپ لگا رہے تھے۔ کچھ ہم جیسے بچے بھی اُن کی باتوں کو بغور سن رہے تھے۔ اِسی دوران محمد علی کے والد صاحب غصے سے لال بھبھوکا ہوکر کہنے لگے: دیکھو تو ذرا وہ کیسے اکڑاکڑ کر چلتا چلا آرہا ہے، سب کی نظریں گاؤں کی طرف اُٹھ گئیں۔ دیکھا تو بھاہ محمد علی سر میں خوب اچھی طرح تیل چپڑ کر اپنے گرد ایک گرم چادر لپیٹے چلے آرہے تھے۔ اُن کے والد مسلسل اُنہیں برابھلا کہتے جارہے تھے۔ سب نے پوچھا کہ بزرگوار ایسی کیا بات ہوگئی جو آپ اپنے ہی بیٹے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ذرا اُن کا جواب سنئے۔ کہنے لگے: یہ بے شرم ہوگیا ہے، اِس کی آنکھوں کا پانی مر گیا ہے، دیکھو تو کیسے تیل چپڑ کر اور بال بنا کر گاؤں کے اندر سے ٹہل رہا ہے، کیا اِسے نہیں معلوم کہ گاؤں میں مائیں‘ بہنیں ہوتی ہیں؟ یہ اُن کے سامنے ہی ایسے بن ٹھن کر چلا آرہا ہے۔ اِسی دوران وہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ پہلے تو اُن کے والد صاحب نے اُنہیں خوب برا بھلا کہا، وہ اپنے والد کے قدموں میں بیٹھ کر سب کچھ بہت تحمل سے سنتے رہے لیکن والد صاحب کا غصہ ٹھنڈا ہونے میں ہی نہیں آرہا تھا۔ اُنہیں سب سے زیادہ غصہ اِس بات پر تھا کہ اُن کے بیٹے کی جرأت کیسے ہوئی کہ وہ گاؤں کی ماؤں‘ بہنوں کے درمیان سے اِس طرح بن ٹھن کر گزرے۔ پھر اُنہوں نے ایک بچے کو گاؤں کی طرف بھگایا کہ جاؤ جا کر حجام کو لے کر آؤ۔ تھوڑی ہی دیر میں حجام موقع پر پہنچ گیا۔ اُسے حکم ہوا کہ بھاہ محمد علی کی ٹنڈ کردے، اِس کے سر پر ایک بھی بال نہیں دِکھنا چاہیے۔ اِس دوران دوسرے بزرگوں نے ان کے والد صاحب کی کافی منت سماجت کی کہ اس بار اِسے چھوڑ دو‘ بیچارے سے غلطی ہوگئی، لیکن سب درخواستیں رد کر دی گئیں۔ یہاں یہ ذہن میں رہے کہ اُنہوں نے کسی کو چھیڑا نہیں تھا۔ غلطی صرف یہ تھی کہ وہ بن سنور کر گاؤں کے بیچ میں سے گزرے تھے۔ پھر سب کے سامنے بھاہ جی کی ٹنڈ کردی گئی مگر اس پر بھی ان کے والد کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا، لہٰذا انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے تمہیں دوبارہ بن ٹھن کر گاؤں میں ٹہلتے دیکھا تو میں تمہاری گردن ہی اُتروا دوں گا۔ یہ سارا واقعہ میرا آنکھوں دیکھا ہے جو آج بھی یادوں کے گوشے میں محفوظ ہے۔ ایک طرف اس طرح کے واقعات کی محفوظ یادیں ہیں اور دوسری طرف آج کے حالات۔ جو کچھ آج ہورہاہے، وہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
ہم نے جہاں بہت سے اچھے سبق فراموش کردیے‘ وہیں خواتین کے احترام کا سبق بھی بڑی حد تک بھول گئے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اب حکومتی ادارے اِس حوالے سے بہت حساس دکھائی دے رہے ہیں۔ لاہور میں تو پولیس کی طرف سے متعدد ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے خواتین کو فوری طور پر پولیس کی مدد حاصل ہوسکتی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں سی سی پی او لاہور کی طرف سے خواتین کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا جہاں خواتین پولیس اہلکار ہی فرائض سرانجام دیتی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جب خواتین مدد کے لیے قائم کی گئی ہیلپ لائن نمبر پر کال کریں تو وہاں خواتین ہی اُن کی کال ریسیو کریں تاکہ فون کرنے والی خواتین اعتماد محسوس کریں۔ پھر ویمن سیفٹی ایپ بھی متعارف کرائی گئی جو خواتین اپنے موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کرسکتی ہیں۔ چند روز پہلے اِسی حوالے سے متعدد پولیس افسران سے بات ہوتی رہی کہ آخر ہمارے ہاں کیوں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے‘ اِس کے باوجود کہ غلط حرکات کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہوتی ہے‘ ایسے کسی بھی واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری حرکت میں آ جاتی ہے‘ ان واقعات میں کمی کیوں نہیں ہو رہی؟ اس حوالے سے تمام احباب اِس بات پر متفق نظرآئے کہ اِس میں والدین اور معاشرے کو بھی بہرحال اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگرچہ جب بچے باہر ہوتے ہیں تو والدین کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کررہے ہیں لیکن یہ تو ہوسکتا ہے کہ جب وہ گھروں پر ہوں تو اُن کے ساتھ خواتین کے احترام اور دیگر معاشرتی حوالوں سے گفتگو کو معمول بنایا جائے اور اس طرح ان کی اصلاح کی جائے۔
بعض اوقات تو حیرت سے زیادہ دکھ ہوتا ہے کہ آخر ہم کسی راہ پر چل نکلے ہیں۔ شاید معاشرے کے مجموعی چلن کو ٹریکل ڈاؤن افیکٹ بھی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اشرافیہ کی جانب سے اس ضمن میں کچھ اچھی مثالیں قائم نہیں کی گئیں۔ یہ تو سامنے کی بات ہے کہ جب بچے اپنے بڑوں کو گالم گلوچ کرتے دیکھیں گے تو وہ خود بھی یہی راستہ اپنائیں گے۔ ذرا دیکھیں تو سہی کہ آج سیاسی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف کیسی زبان استعمال کی جارہی ہے۔ کیسے ایک دوسرے کو بے لباس کرنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ بڑے قانون ساز ادارے یعنی پارلیمان میں جو کچھ ہوتا ہے‘ وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ شاید اِیسے ہی واقعات کا اثر ہے جو آج معاشرے میں نچلی سطح تک سرایت کرتا نظر آتا ہے۔
خواتین کو ہراساں کرنے کے گزشتہ پانچ ماہ کے اعدادوشمار میرے سامنے پڑے ہیں اور سر شرم سے جھکا جا رہا ہے۔ یہ ایسا ڈیٹا بھی نہیں کہ قارئین کے ساتھ شیئر کیا جا سکے، بس اتنا جان لیجئے کہ یہ رپورٹ ہمارے دکھ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ہرروز ایسی وڈیوز سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر سامنے آرہی ہیں جنہیں دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات کی بابت صرف بات کرلینے سے ہی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اِس کے لیے جہاں ہمیں اپنے معاشرتی رویوں کو بہتر بنانا ہوگا‘ وہیں متعلقہ اداروں کو بھی زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنانا ہوگی جس میں بنیادی کردار بہرحال پولیس کا ہی ہے۔ اگر پولیس کی طرف سے اِس تناظر میں ویمن سیفٹی ایپ یا خصوصی سیل قائم کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں تو اِس میں ہم سب کو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ پولیس حکام کو اس کے ساتھ ساتھ محکمانہ اصلاح پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ آئے روز جو پولیس کے خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات پیش آتے ہیں، اُن پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے۔ لامحالہ ایسے واقعات پولیس کے اچھے کاموں کو بھی پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اگر پولیس اہلکاروں کے اندازِ گفتگو میں ہی مثبت تبدیلی آجائے تو اِس بات کا زیادہ پرچار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ پولیس کے محکمے میں مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں۔ لوگ خود بخود ہی سمجھنے لگیں گے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ عمل کے اثرات بھاشنوں اور تقریروں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں