بچوں کیخلاف جرائم کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں کافی نہیں: خاقان شاہنواز
کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستانی اداکار و سوشل میڈیا انفلوئنسر خاقان شاہنواز نے کہا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا سخت سزائیں واقعی ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام کر پا رہی ہیں یا نہیں؟
خاقان شاہنواز نے حالیہ منتہا کیس اور بچوں کے ساتھ پیش آنے والے دیگر زیادتی کے واقعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک اہم بحث چھیڑ دی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنی ویڈیو میں خاقان شاہنواز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے صرف سخت سزائیں کافی نہیں۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر نے حالیہ منتہا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام نے ایک ملزم کے خلاف فوری کارروائی کی اور مجرموں کو سخت سزا دینے کا اعلان بھی کیا، تاہم اس کے باوجود کچھ ہی عرصے میں کمسن بچوں کے ساتھ اسی نوعیت کے مزید واقعات سامنے آ گئے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا سخت سزائیں واقعی ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام کر پا رہی ہیں یا نہیں؟
خاقان شاہنواز کا کہنا ہے کہ توجہ صرف مجرموں کو سزا دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسے واقعات کی بنیادی وجوہات پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ جنسی آگاہی، عوامی شعور اور بچوں کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتا ہے، حالانکہ ان مسائل پر مؤثر آگاہی ہی ایسے جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اداکار نے اس بات پر تنقید کی کہ معاشرے میں فوری اقدامات کو تو سراہا جاتا ہے لیکن دیرپا اور مؤثر حل تلاش کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
خاقان شاہنواز نے زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے آگاہی مہمات چلانے کے ساتھ ساتھ سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں عمر کے مطابق مناسب تعلیم اور شعور فراہم کرنا بھی جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر اداکار نے کہا کہ جب تک معاشرہ تعلیم، آگاہی اور اجتماعی ذمے داری کے ذریعے حقیقی تبدیلی کی جانب پیش رفت نہیں کرے گا، اس وقت تک ایسے افسوس ناک واقعات کی روک تھام ممکن نہیں ہو سکے گی۔