ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل سے حاصل آمدن کے تحفظ کیلئے ہنگامی حکم نامے پر دستخط کردیئے
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کی بنیاد پر امریکا کو ہونے والی آمدنی کے تحفظ کے لیے ایک ہنگامی حکمنامے پر دستخط کر دیئے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کئے جانے کے امریکی صدر کے حکم پر عمل کے بعد ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے ہنگامی حکمنامے پر دستخط کر کے امریکی دولت کے تحفظ کا اقدام کرنےکی راہ ہموار کر دی ہے، وائٹ ہاؤس نے اس جاری کردہ حکمنامے کے ساتھ دیگر صفحات بھی منسلک کئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام صدر ٹرمپ نے امریکی آئل کمپنیوں کے انتظامی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اس ملاقات میں امریکی آئل کمپنی ایگزون موبل کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ جب تک اصلاحات نہیں کی جاتیں وینزویلا سرمایہ کاری کے قابل حالات والا ملک نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ایگزون اور کونوکو فلپس نامی امریکی کمپنیوں نے 2007ء میں وینزویلا کے اس وقت کے صدر ہوگو شاویز کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تھا اور ہوگو شاویز نے امریکی سرمایہ کار کمپنیوں کے حصص وینزویلا کے قبضے میں لے لیے تھے، تب سے یہ امریکی کمپنیاں وینزویلا سے اپنا سرمایہ واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں،اس وقت امریکا کی جس واحد کمپنی کو وینزویلا میں آئل کمپنی کے طور پر کام کا لائسنس میسر ہے وہ شیوران ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس کے تحت صدر ٹرمپ وینزویلا کو امریکی قومی مفادات کے خلاف اقدامات سے روک رہے ہیں، اس حکمنامے کے ذریعے وینزویلا کو امریکی آئل کمپنیوں کے وسائل ضبط کرنے سے روک کر ان کوششوں سے بھی وینزویلا کو روک دیا گیا ہے جو وینزویلا کے اقتصادی وسیاسی استحکام کے لیے امریکی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔