سوڈان ایسی کھائی میں دھنستا جارہا جس کے اثرات ناقابل تصورہیں: اقوام متحدہ کا انتباہ
نیروبی: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان ایک ایسی کھائی میں دھنستا جا رہا ہے جس کے اثرات ناقابل تصورہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پانچ روزہ دورہ سوڈان کے بعد کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ سوڈان میں لڑائی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لئے انسانی حقوق کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان لڑائی شروع ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں اور ہمارے سامنے ظلم و بربریت کی ایک داستان رقم ہو رہی ہے، تمام بااثر فریقوں بالخصوص علاقائی کرداروں اور ان عناصر سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا تاکہ تنازع کو ختم کیا جا سکے۔
وولکر ترک نے کہا کہ اگرچہ دونوں عسکری دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی نے پورے ملک اور اس کے عوام کو شدید متاثر کیا ہے تاہم امن، انصاف اور آزادی کے لئے جدوجہد کی روح ابھی ٹوٹی نہیں۔
انہوں نے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جن میں مروے ڈیم اور پن بجلی گھر بھی شامل ہیں جو کبھی ملک کی 70 فیصد بجلی فراہم کرتے تھے، ان پر آر ایس ایف کی جانب سے ڈرون حملے کئے گئے، جنہیں سنگین خلاف ورزیاں اور ممکنہ جنگی جرائم قرار دیا گیا۔
انہوں نے دونوں فریقین سے مطالبہ کیا کہ شہری آبادی کے لیے ناگزیر تنصیبات جیسے بازاروں، طبی مراکز، سکولوں اور پناہ گاہوں پر حملے بند کئے جائیں، انہوں نے جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جانے کو ’’وسیع اور منظم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے جسموں کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے، جو واضح جنگی جرم ہے۔
انہوں نے ماورائے عدالت ہلاکتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی، انہوں نے خبردار کیا کہ الفاشر میں ہونے والے مظالم کے دہرانے کا خدشہ کوردوفان کے علاقوں میں بڑھ رہا ہے، جہاں اکتوبر کے اواخر سے لڑائی میں شدت آئی ہے، جبکہ کادوگلی میں قحط جیسی صورتحال اور دیگر علاقوں میں بھی قحط کا خطرہ موجود ہے۔