وزیراعظم کی قائد مسلم لیگ ن سے ملاقات، معاشی وسیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

لاہور:(دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے جاتی عمرہ میں اہم ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک تھے جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شہبازشریف نے نواز شریف کو عالمی کشیدگی کے پاکستان پر اثرات سے آگاہ کیا اور پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال اس وقت کنٹرول میں ہے، حکومت نے عالمی حالات کے باوجود پٹرولیم سپلائی برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کر لئے۔

وزیراعظم نے نواز شریف کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے دباؤ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر کم سے کم بوجھ منتقل کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی، یہ بھی مجبوراً قیمتیں بڑھائی گئیں۔

شہباز شریف نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے، ایران اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی پر رابطے جاری ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں پاکستان کو مزید تیل ملنے کی امید ہے، اضافی تیل کی فراہمی سے پاکستان کی پٹرولیم صورتحال مزید بہتر ہونے کا امکان ہے، حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی،گزشتہ چند دنوں میں خطے کے اہم ممالک سے رابطے کئے جب کہ سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک سے سفارتی رابطے سے متعلق آگاہ کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے جب کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کیلئے کردار ادا کر رہا ہے اورکسی بھی بحران سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔

دوسری جانب قائد مسلم لیگ ن نوازشریف نے علاقائی کشیدگی کے باوجود توانائی سپلائی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو توانائی کے بحران سے بچنے کیلئے متبادل اقدامات کرنا بہترین اقدام ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات انتہائی حساس ہیں، حکومت کو دانشمندانہ معاشی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ مشکل حالات میں عوامی ریلیف کو ترجیح دینا ضروری ہے، حکومت کو معیشت  مستحکم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، قومی اتحاد اور موثر حکمت عملی سے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں