کیوبا میں ہر طرف بجلی بند، ٹرمپ نے قبضہ کرنے کی دھمکی دے دی
ہوانا، واشنگٹن: (ویب ڈیسک) کیوبا میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن ہو چکا ہے اور 1 کروڑ سے زائد گھر اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں، اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کیوبا کو آزاد یا اپنے کنٹرول میں لے سکتے ہیں اور دعویٰ کیا کہ کیوبا اس وقت ایک ’کمزور ملک‘ بن چکا ہے۔
کیوبا کی حکومت کی جانب سے اس بیان پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
عرب میڈیا کے مطابق کیوبا کی سرکاری بجلی کمپنی یونین ناسیونال الیکٹریکا کے مطابق قومی گرڈ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، اب تک صرف دارالحکومت ہوانا کے تقریباً 5 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کی جا سکی ہے جبکہ ہسپتالوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، یہ گزشتہ 4 ماہ میں تیسرا بڑا بلیک آؤٹ ہے۔
رپورٹس کے مطابق کیوبا کو 9 جنوری کے بعد سے تیل کی کوئی بڑی سپلائی نہیں ملی، یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکا نے ان ممالک کو بھی دھمکی دی جو کیوبا کو تیل فراہم کرتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیوبا اس وقت شدید توانائی کے بحران، معاشی بدحالی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے جبکہ امریکی دھمکیوں نے صورتِ حال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
کیوبا میں ملک گیر بلیک آؤٹ کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال شدت سے گردش کرنے لگا کہ کیا امریکا نے کیوبا پر حملہ کیا ہے؟ تاہم حکام کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیوبا اپنی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد تیل خود پیدا کرتا ہے، مگر یہ مجموعی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔