امریکا کا غزہ منصوبے کے تحت حماس سے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا نے غزہ کے حوالے سے ایک نئے منصوبے کے تحت حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں سے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے کا تحریری مطالبہ کیا ہے جسے تجزیہ کاروں نے تنظیم کے ’سیاسی طور پر ہتھیار ڈالنے‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے نمائندوں نے مارچ کے وسط میں قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران یہ دستاویز پیش کیں۔
غزہ کے لیے یہ نیا منصوبہ امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جبکہ اسرائیل کی جاری جنگ اور فوجی قبضے کے باعث علاقے شدید انسانی بحران کا شکار ہیں۔
عرب میڈیا مطابق امریکی تجویز ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے پر مبنی ہے جو اکتوبر میں ہونے والے امریکی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے سے متعلق ہے۔
منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرے گی تاہم تعمیرِ نو کا آغاز اسی وقت ہوگا جب حماس اور دیگر گروہ اپنے ہتھیار مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کریں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں غزہ کے لیے مقرر امریکی ایلچی نکولائے ملادینوف نے فلسطینی دھڑوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس فریم ورک کو ’بغیر تاخیر‘ قبول کریں۔
اِن کا کہنا تھا کہ غیر مسلح ہونے کا عمل باہمی اصول پر مبنی ہوگا اور یہ اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے گا۔
دوسری جانب ماہرین نے امریکا کے حماس سے اس نئے مطالبے کو موجودہ علاقائی صورتحال کو استعمال کرتے ہوئے غزہ کے سیاسی مستقبل کو نئی شرائط کے تحت تشکیل دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔