جنگ بندی کیلئے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو گئیں: ایرانی سفیر
اسلام آباد: (دنیا نیوز) ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔
ایکس پر پیغام میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ مزید تفصیلات کے لیے انتظار کریں۔
اس سے پہلے ایرانی سفارتخانے نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ کی حالیہ پریس کانفرنس انسانی تاریخ میں ہونے والی ادراکی غلطیوں کی ایک عمدہ مثال تھی، وہ تکبر کی بیماری کا شکار نظر آتے ہیں، جو ایک المیہ خامی ہے اور حکمران کو گہرے دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 7, 2026
ایرانی سفارتخانے نے دنیا کو یاد دلایا کہ یاد رکھیں، جنگ اور جارحیت کا آغاز ایک ایسے سکول کو نشانہ بنانے سے ہوا جہاں 160 سے زائد معصوم بچے موجود تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان نے جنگ کو روکنے کے لیے ایک دو مرحلوں پر مبنی جنگ بندی کے لیے ایک فریم ورک ایران اور امریکا دونوں کو پیش کیا جسے ’اسلام آباد معاہدہ‘ کہا جا رہا ہے جبکہ ایران نے عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل طور پر جنگ روکنے اور امن حل کی جانب بڑھنے پر زور دیا ہے۔
علاوہ ازیں قطری نشریاتی ادارے کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے پہلے اہم مطالبات کو تسلیم کرانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق اس سے قبل ایران کی تجاویز 5 نکات پر مشتمل تھیں لیکن اب یہ امریکا کی پندرہ نکاتی تجاویز کے جواب میں دس نکات پر مبنی ہیں،ان میں پابندیوں کے خاتمے، یورینیم کی افزودگی پر کسی حد تک سمجھوتہ اور آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے پروٹوکول شامل ہیں۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس گزرگاہ سے حاصل ہونے والا ٹیکس ملک کی تعمیر نو اور جنگ میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لئے استعمال کیا جائے گا، ایران کا موقف ہے کہ وہ جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے محض جنگ بندی نہیں، یہ مطالبہ پورے خطے میں تمام محاذوں پر لاگو ہوگا جس میں حزب اللہ، حوثی اور دیگر علاقائی اتحادی بھی شامل ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ ان نکات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر ابتدائی طور پر کم از کم بنیادی اصولوں کے طور پر ان مطالبات کی منظوری نہ دی گئی تو سنجیدہ مذاکرات میں حصہ لینے کو تیار نہیں۔