ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر دانشمندی سے فیصلہ کرے: امریکی وزیر جنگ
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی وزیرِ جنگ اور دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر دانشمندی سے فیصلہ کرے، تاہم وقت اس کے حق میں نہیں رہا۔
پینٹاگون میں جنرل کین ڈین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری دباؤ اور ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رکھی جائے گی جب تک اسے ضروری سمجھا جائے گا، امریکا کو توانائی کے وسائل کی کوئی کمی نہیں اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
امریکی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز وہاں سے گزر نہیں سکتا، انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ بحری قزاقوں کی طرح مختلف جہازوں پر فائرنگ کر رہا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکی فوج نے متعدد بحری جہازوں کو قبضے میں لیا ہے اور مزید کارروائیاں بھی جاری رہیں گی، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور کشتیوں کو تباہ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ اور ایشیا نے دہائیوں تک امریکی سیکیورٹی سے فائدہ اٹھایا، تاہم اب مفت فائدہ اٹھانے کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اتحادیوں کو اپنی ذمہ داریاں خود بھی نبھانا ہوں گی۔
امریکی وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ امریکا کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے، اور ایران کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ ایک “اچھی ڈیل” قبول کر لے۔
اس موقع پر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کا کہنا ہے کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ اور گلوبل شپنگ پر ٹیکس عائد کرکے تنازعہ کو بڑھانا چاہتا ہے، دو ایسے جہاز قبضے میں لیے گئے جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے تھے۔