راکٹ سے خارج ہونیوالے دھویں سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ
لندن: (ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ راکٹ لانچ کے دوران خارج ہونے والے بلیک کاربن کے ذرات فضا کی بالائی تہوں میں زمین پر پیدا ہونے والی سیاہ راکھ کے مقابلے میں کہیں زیادہ عرصے تک موجود رہتے ہیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق سینکڑوں یا ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل میگا کانسٹیلیشنز کو خلا میں بھیجنے کے دوران پیدا ہونے والی یہ راکھ زمین کے موسمیاتی نظام پر ایسے اثرات ڈال سکتی ہے جنہیں ابھی پوری طرح سمجھا نہیں گیا، مگر وہ ممکنہ طور پر انتہائی سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور یو سی ایل کے ماہرِ فضائی کیمیا کونر بارکر کے مطابق راکٹ لانچ آلودگی کا ایک منفرد ذریعہ ہیں کیونکہ یہ نقصان دہ کیمیائی مادّوں کو براہِ راست فضا کی بالائی تہوں میں پہنچاتے ہیں اور زمین کے اس آخری نسبتاً صاف اور غیر آلودہ ماحول کو بھی آلودہ کر دیتے ہیں۔
2019 کے بعد سے خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہوا ہے اور فی الحال اس رفتار کے کم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ صرف اس سال ہی اتنے راکٹ لانچ ہو چکے ہیں جتنے پورے 2020 میں ہوئے تھے۔
خلائی صنعت کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال کے اختتام تک لانچز کی مجموعی تعداد 2025 کے ریکارڈ 329 لانچز سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
اس تیز رفتار اضافے کی بڑی وجہ امریکی کمپنی اسپیس ایکس کے فیلکن 9 راکٹ ہیں جبکہ چین نے بھی 2025 میں ریکارڈ 92 راکٹ لانچ کی کوششیں کی ہیں۔