مودی کی انتہاپسندانہ پالیسیوں نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
نئی دہلی: (دنیا نیوز) مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں کے باعث منی پور، ناگا لینڈ کے بعد اتراکھنڈ اور ہماچل میں بھی حالات کشیدہ ہوگئے۔
بھارت کا اپنا جریدہ "دی ہندو" مودی سرکارکی نااہلی اوربھارت کے ابتر اندرونی حالات سامنے لے آیا، اتراکھنڈ کی سرحد پر صورتحال انتہائی کشیدہ، نہنگ سکھوں نے سرحدی رکاوٹیں توڑ کر اپنے مقدس مقام ہیم کنڈ صاحب کی طرف مارچ شروع کردیا۔
دی ہندو کے مطابق سکھ مظاہرین کا کرن پریاگ واقعے میں گرفتار 4 نہنگ سکھوں کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، ہماچل پردیش اوراتراکھنڈ کی سرحد پر حالات اس وقت مزید کشیدہ ہوئے جب نہنگ سکھوں اور پولیس میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔
دی ہندو کے مطابق سکھ مظاہرین نے دونوں ریاستوں کے سنگم پر واقع کلہال چیک پوسٹ پررکاوٹیں توڑ کر اپنا مارچ آگے بڑھایا۔
ماہرین کے مطابق سکھوں کیخلاف مذہبی پابندیاں اور مودی سرکار کاظالمانہ رویہ بھارتی سکھوں میں احساسِ محرومی اور نفرت کو مزید ہوا دے رہا ہے، جبکہ بھارت میں روز بروز اٹھنے والے فسادات اور تحریکیں ثابت کرتی ہیں کہ مودی سرکار حالات پر کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔
جین زی تحریک سے لے کرسکھوں کے حالیہ احتجاج تک یہ ابھرتی ہوئی نئی لہریں بھارت کیلئے بڑے بحران کا پیش خیمہ ہیں۔