پہلی شادی چھپا کر دوسری شادی: خاتون کیخلاف مقدمہ خارج، لاہور ہائیکورٹ

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے پہلی شادی چھپا کر دوسری شادی کرنے کے الزام میں خاتون کے خلاف درج مقدمہ خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گھریلو جھگڑوں یا میاں بیوی کے درمیان غصے میں کہی گئی باتوں کو سنگین دھمکی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ معمولی نوعیت کے مقدمات میں پولیس مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر نہ مقدمہ درج کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کی تفتیش کر سکتی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواست گزار مقدس بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ صرف غصے میں کہے گئے الفاظ کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف سنگین دھمکی کا مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا، اگر مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے  ناقابلِ گرفتاری جرم  ہو تو پولیس مجسٹریٹ کی منظوری کے بغیر نہ مقدمہ درج کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کی تفتیش کا اختیار رکھتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بعد ازاں مقدمے میں سنگین دفعات شامل کر دینے سے ابتدائی قانونی خامی دور نہیں ہوتی، عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ مسیحیوں کے عائلی قانون کے تحت پہلی شادی برقرار ہونے کی صورت میں دوسری شادی کا معاملہ محض اس بنیاد پر پولیس کے ذریعے قابلِ تعزیر فوجداری جرم نہیں بنتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اسی طرح دھوکہ دہی کا سنگین جرم اسی وقت بنتا ہے جب کسی شخص کو مالی نقصان پہنچایا گیا ہو یا اس کی جائیداد ہتھیانے کی نیت اور عمل ثابت ہو۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار خاتون کے خلاف نہ کسی مالی نقصان کا الزام موجود ہے اور نہ ہی کسی جائیداد پر قبضہ یا اسے ہڑپ کرنے کا کوئی دعویٰ سامنے آیا ہے، اس لیے تعزیراتِ پاکستان کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی فوجداری مقدمہ ابتدا ہی سے قانون کے منافی درج کیا گیا ہو تو ہائیکورٹ ایسے مقدمے کو باقاعدہ عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر سکتی ہے تاکہ عدالتی نظام کا ناجائز استعمال روکا جا سکے۔

درخواست گزار مقدس بی بی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس نے مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر مقدمہ درج کیا، حالانکہ یہ ایک معمولی نوعیت کا معاملہ تھا جس میں پولیس کو براہِ راست کارروائی کا اختیار حاصل نہیں تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقدس بی بی کے خلاف الزام تھا کہ انہوں نے پہلے سے شادی شدہ عامر سہیل سے مبینہ طور پر جعلی نکاح نامے کی بنیاد پر شادی کی، جس پر عامر سہیل کی پہلی اہلیہ، جو مسیحی خاتون ہیں، نے ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔

تمام قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے درخواست گزار خاتون کے خلاف درج فوجداری مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...