افغانستان میں غذائی بحران، 90 فیصد بچے متاثر، یونیسیف کی نئی رپورٹ جاری

کابل: (دنیا نیوز) افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں اور انتظامی نااہلی نے عوام بالخصوص بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے افغانستان میں غذائی بحران سے متعلق ہنگامی الرٹ جاری کردیا۔

یونیسیف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں وسیع غذائی عدم تحفظ، ناقص صحت اور صاف پانی کی کمی کے باعث بچے شدید غذائی بحران کا شکار ہیں، افغانستان میں کیے گئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 37 لاکھ افغان بچے شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ 90 فیصد افغان بچے روزمرہ کی خوراک میں صحت مند نشوونما کے لیے ضروری اجزاء حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فوری علاج اور اضافی خوراک کے محتاج 85 فیصد بچوں کی عمریں دو سال سے بھی کم ہیں، شدید غذائی بحران سے افغان لڑکوں کے مقابلے میں بچیوں میں جسمانی کمزوری اور لاغر پن کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، تاہم غذا کی اس شدید کمی نے بچوں کی اموات اور جسمانی کمزوری کے خطرات کو 6 گنا بڑھا دیا ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم معاشی استحکام اور انسانی جانیں بچانے کے بجائے اپنے نظریاتی ایجنڈے اور مسلح گروہوں کی پشت پناہی کو ترجیح دے رہی ہے، افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند پالیسیوں اور سنگین انتظامی نااہلی نے معصوم افغان شہریوں کو بھوک، افلاس اور محرومی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور فاقہ کشی نے عام شہریوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...