طالبان رجیم کا بدترین اقتدار، خواتین کے بعد اب نوجوانوں کا بھی مستقبل تاریک

کابل: (دنیا نیوز) افغان خواتین پر پابندیاں لگانے کے بعد طالبان رجیم نے نوجوانوں کو بھی بنیادی حقِ تعلیم سے محروم کر دیا۔

عالمی جریدہ دی گارڈین کے مطابق اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت نے طالبان دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں شدید کمی کی نشاندہی کر دی۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے لاکھوں افغان شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، تاہم افغان طالبان کے زیر تسلط پڑھنے والے نوجوان طلبہ کی بدترین حالت پر کسی عالمی فورم پر بات نہیں کی جا رہی ہے۔

افغان طالبِ علم کا کہنا ہے کہ طالبان کے داڑھی اور لباس سے متعلق سخت قوانین کی خلاف ورزی پر طلبہ کو وحشیانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عالمی جریدہ کے مطابق تعلیمی شعبے کے تجربہ کار پروفیسرز کے چلے جانے سے افغانستان کی اعلیٰ جامعات کا معیار انتہائی خراب ہو چکا ہے، افغان طالبان کا مقصد تعلیمی اداروں کو مکمل مفلوج کر کے نوجوان نسل کو تباہ کرنا ہے۔

بھارتی صحافی دھرم جوت کے مطابق طالبان رجیم کی روزگار اور تعلیم پر عائد کڑی پابندیاں افغان عوام کے بنیادی حقوق کا بدترین استحصال ہیں، افغانستان پر مسلط طالبان رجیم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی بدترین مثال بن چکی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...