نئی سرکاری جامعات کے قیام کیلئے ایچ ای سی کا نیا فریم ورک تیار
پشاور: (دنیا نیوز) ملک بھر میں سرکاری جامعات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نئی جامعات کے قیام کے لیے جامع فریم ورک تیار کر لیا، جس کے تحت مقررہ شرائط پوری کیے بغیر کسی نئی یونیورسٹی یا کیمپس کے قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق نیا فریم ورک وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر قائم کی گئی کمیٹی نے تیار کیا ہے، جس کے بعد ایچ ای سی نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور دیگر صوبوں کو اس حوالے سے مراسلہ بھی ارسال کر دیا ہے۔
فریم ورک کے مطابق کسی بھی نئی جامعہ کے قیام سے قبل متعلقہ ادارے کو اس کی ضرورت، قیام کی وجوہات، وژن اور مشن واضح طور پر پیش کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ایچ ای سی کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی بھی یونیورسٹی کا نیا کیمپس قائم نہیں کیا جا سکے گا۔
دستاویز کے مطابق نئی یونیورسٹی کے لیے کم از کم 40 کنال اراضی کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ یونیورسٹی کے مجموعی بجٹ کا کم از کم 5 فیصد تحقیق و ترقی (ریسرچ) کے لیے مختص کرنا ہوگا۔
مزید برآں، جامعات کو اپنی آمدن کا کم از کم 10 فیصد حصہ طلبہ کی سکالرشپس کے لیے مختص کرنا لازمی ہوگا، فریم ورک میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ جامعات طلبہ کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کے لیے علیحدہ فنڈ قائم کریں۔
ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ نئے فریم ورک کا مقصد جامعات کو مالی، انتظامی اور دیگر مسائل سے محفوظ رکھتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور نئے اداروں کے قیام کو مؤثر منصوبہ بندی کے تحت یقینی بنانا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments