بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی
ماسکو: (شاہد گھمن) روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات، عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں اور پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم موجودہ بھارتی قیادت کی پالیسیاں جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں۔
ماسکو میں سفارت خانہ پاکستان میں روسی اور پاکستانی صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی تبادلے، فنکاروں کی آمدورفت، کرکٹ، موسیقی اور عوامی روابط فروغ پا رہے تھے لیکن موجودہ بھارتی حکومت کے دور میں یہ تمام سرگرمیاں تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی قدیم تہذیب اور مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو جیسے رہنماؤں کا احترام کرتا ہے، تاہم موجودہ بھارتی قیادت کی مسلمانوں اور پاکستان کے حوالے سے پالیسیاں بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ایک بڑی طاقت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے ہمسایہ ممالک پر دباؤ ڈالا جائے، بھارت کو اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے اور خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
.jpg)
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی زندگی اور زراعت کا بنیادی ذریعہ ہے، اس لیے پانی کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام اور ان پر نیک نیتی سے عمل ضروری ہے۔
افغانستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اس لیے پاکستان ایسے عناصر کی موجودگی کو قبول نہیں کر سکتا جو افغانستان سے کارروائیاں کرتے ہوں۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات صرف جغرافیائی نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی، لسانی اور خاندانی نوعیت کے ہیں، انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے طالبان کو مختلف مواقع پر بعض اقدامات کے نتائج سے بھی آگاہ کیا تھا اور بامیان کے تاریخی بدھ مجسموں کی تباہی سے قبل بھی انہیں ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ صرف فوجی طاقت سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل میں ہے۔
ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایک بڑی آبادی اور قدیم تہذیب رکھنے والا ملک ہے، اس لیے کسی بھی بڑی جنگ کے نتائج پورے خطے پر اثر انداز ہوں گے، جنگ شروع کرنا آسان لیکن اسے ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، اسی لیے پاکستان تمام فریقوں پر تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دے رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خلیجی خطے میں وسیع جنگ ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی، تجارت اور خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہوگی۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی نتائج ہوں گے، جبکہ بوشہر جوہری تنصیب سے متعلق کسی بھی خطرناک صورتحال کے بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
.jpg)
وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورۂ روس کے حوالے سے ایک سوال پر سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ دورہ منسوخ نہیں ہوا بلکہ بعض غیر متوقع حالات کے باعث مؤخر کیا گیا ہے، دونوں ممالک نئی تاریخوں پر رابطے میں ہیں اور وزیراعظم روس کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔
پاکستان اور روس کے درمیان براہ راست پروازوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں سے تجارت، سیاحت، تعلیم اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس میں پاکستانی طلبہ کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہونا چاہئے اور ویزا کے عمل میں آسانی دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگی۔
عالمی نظام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے اور موجودہ عالمی اداروں کو نئے عالمی حقائق کے مطابق زیادہ نمائندہ بنانے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ بدستور اہم ترین عالمی ادارہ ہے، تاہم اس میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔
ثقافتی تعاون سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان ثقافت، موسیقی، ادب، سیاحت، تعلیم اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط جتنے مضبوط ہوں گے، دوطرفہ تعلقات بھی اتنے ہی مستحکم ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments