آزاد کشمیر میں ن لیگ کی پوزیشن مزید مستحکم، ساجد اقبال عباسی کا اتحاد اور نئی حکومت کی حمایت کا اعلان
مظفرآباد: (محمد اسلم میر) آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 14 دھیرکوٹ سے کامیاب عوامی دستِ بازو کے رکن اسمبلی ساجد اقبال عباسی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد اور نئی حکومت کی حمایت کا اعلان کردیا، جس سے حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگئی۔
ساجد اقبال عباسی کے بعد مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 26 ہوگئی جبکہ پیپلز پارٹی 12 ارکان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ساجد اقبال عباسی کے مسلم لیگ ن کی ٹیم کا حصہ بننے کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ ساجد اقبال عباسی حلقے کی تعمیر و ترقی کے لیے مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دھیرکوٹ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ فیصل اعجاز نے انتخاب لڑا تھا تاہم پارٹی عوام کے فیصلے کا احترام کرتی ہے، راجہ فیصل اعجاز اور ساجد اقبال عباسی بھائیوں کی طرح مل کر دھیرکوٹ کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، بالخصوص مظفرآباد اور میرپور ڈویژن کے عوام نے پارٹی کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے، امید ہے کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرے گی۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کی اشد ضرورت ہے اور نئی حکومت کو آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مجموعی طور پر تقریباً 56 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جو جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔
انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دھرنے میں بیٹھے افراد کو بھی اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور ان میں سے 99 فیصد محب وطن ہیں۔ کشمیری بھائیوں کا پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا ملک کے دیگر شہریوں کا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی نتائج پر اعتراضات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ الزامات لگانے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جائے، الیکشن کمیشن اور قانون موجود ہیں، فیصلے آئین و قانون کے مطابق تسلیم کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کو تبدیل کرنے کا کسی کو اختیار نہیں، آزاد کشمیر اسمبلی آئین و قانون کے مطابق تشکیل پائے گی اور نئی حکومت آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بااختیار انداز میں کام کرے گی۔
نئے صوبوں کے معاملے پر سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس حوالے سے تفصیلی جواب پریس کانفرنس میں دیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام طبیعت کی خرابی کے باعث پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوسکے۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے ساجد اقبال عباسی کو مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا فیصلہ دھیرکوٹ کی تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اہم ثابت ہوگا۔
شاہ غلام قادر نے انتخابات کے انعقاد پر آزاد کشمیر الیکشن کمیشن، بالخصوص چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کو مبارکباد پیش کی اور انتخابی عمل میں سکیورٹی فورسز کے کردار کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کےعلاج میں کوتاہی ہوئی تو ذمہ دار جیل اور عدلیہ ہو گی: رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہا کہ ساجد اقبال عباسی کا مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون پارٹی اور نئی حکومت کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
ساجد اقبال عباسی نے اس موقع پر مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد اور نئی حکومت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسمبلی کے اندر اور باہر مسلم لیگ ن کا ساتھ دیں گے۔
انہوں نے مسلم لیگ ن کی جانب سے دی گئی دعوت قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے ساتھ اتحاد کر رہے ہیں، انہوں نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں عزت دی اور پارٹی کے ساتھ چلنے کا موقع فراہم کیا۔
ساجد اقبال عباسی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اس وقت مایوسی ہے جسے ہم سب مل کر دور کریں گے۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، وہ حلقے کے عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور اسمبلی کے اندر اور باہر مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل طارق فاروق نے پارٹی قیادت اور کارکنان کی جانب سے ساجد اقبال عباسی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد نئی حکومت کی تشکیل اور اس کے مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے سیاسی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔
پریس کانفرنس میں طارق فضل چوہدری، مصطفیٰ بشیر عباسی اور مرتضیٰ جاوید عباسی بھی موجود تھے۔
یاد رہے دنیا نیوز اور روزنامہ دنیا نے ساجد اقبال عباسی کے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کی خبر پانچ روز پہلے دی تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments