شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پوتن کی متحرک سفارت کاری نمایاں
بشکیک:(دنیا نیوز) کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس نے بدلتی عالمی سیاست میں تنظیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت واضح کردی۔
اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی سفارتی سرگرمیاں نمایاں رہیں، جبکہ چین، بھارت، ایران، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روس کے بڑھتے روابط بھی نمایاں ہوئے۔
صدر پوتن نے اپنے خطاب میں کہا کہ 2001 میں چھ ممالک سے شروع ہونے والی ایس سی او اب کثیر قطبی دنیا کے آزاد اور بااثر مراکز میں شامل ہوچکی ہے، ان کے مطابق تنظیم کے رکن ممالک میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی رہتی ہے اور یہ ممالک عالمی جی ڈی پی کے ایک تہائی سے زیادہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
روس اور ایس سی او ممالک کے درمیان تجارت 2025 میں 400 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی، جبکہ باہمی لین دین میں قومی کرنسیوں کا حصہ 98 فیصد سے زائد ہوگیا ہے۔
اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تعاون، تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، مصنوعی ذہانت، افغانستان اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف امور پر توجہ دی گئی۔ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہوئے سیاسی و سفارتی حل پر زور دیا گیا، جبکہ افغانستان کو پرامن، آزاد اور دہشت گردی و منشیات سے پاک ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
پاکستان کے لیے اجلاس کا اہم پہلو وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب تھا،جس میں انہوں نے دہشت گردی، افغانستان، علاقائی رابطوں، توانائی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ پانی کے مسئلے کو بھی بھرپور انداز میں اٹھایا اور واضح کیا کہ پانی خطے کی لائف لائن ہے اور اسے سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ مشترکہ دریاؤں سے متعلق معاہدوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔
اجلاس میں شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان کوئی باضابطہ ملاقات نہیں ہوئی، تاہم بھارتی وزیراعظم کی موجودگی میں پاکستان کی جانب سے پانی کا مسئلہ اٹھانا سفارتی اعتبار سے اہم قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان نے آئندہ ایس سی او چیئرمین شپ کے لیے "تصور سے عمل تک: رابطہ، جدت اور مشترکہ خوشحالی" کا موضوع پیش کیا ہے، مصنوعی ذہانت، توانائی، غربت میں کمی، صحت، قدرتی آفات اور علاقائی رابطوں کو ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم نے 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او پلس اجلاس میں رہنماؤں کو شرکت کی دعوت بھی دی۔
پاکستان اور روس کے تعلقات کے حوالے سے بھی بشکیک اجلاس اہم رہا، وزیراعظم شہباز شریف کا مارچ میں ملتوی ہونے والا دورۂ ماسکو اب سال کے آخری حصے میں متوقع ہے، جبکہ پاکستان اور روس کے درمیان آٹھ سے دس معاہدوں اور 2030 تک اقتصادی روڈمیپ پر پیش رفت کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اگرچہ بشکیک میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پوتن کے درمیان مکمل باضابطہ ملاقات نہیں ہوسکی، تاہم گروپ فوٹو کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان مختصر گفتگو ہوئی۔ پاکستان کے لیے اب اہم مرحلہ یہ ہے کہ ملتوی شدہ دورۂ ماسکو کی نئی تاریخ طے ہو اور تجارت، توانائی، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور عوامی روابط سمیت دوطرفہ تعاون کو عملی شکل دی جائے۔
پاکستان روس تعلقات میں ویزوں کا معاملہ بھی ایک عملی رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے، کاروباری افراد اور نجی بنیادوں پر روس جانے والے پاکستانی طلبہ کو دعوت ناموں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے اقتصادی اور تعلیمی روابط کے لیے اس انتظامی مسئلے کا حل ضروری قرار دیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر بشکیک اجلاس نے واضح کیا کہ روس چین، بھارت، ایران، ترکیہ اور وسطی ایشیا سمیت مختلف ممالک کے ساتھ بیک وقت اپنے تعلقات آگے بڑھا رہا ہے، پاکستان کے لیے بھی ایس سی او چیئرمین شپ ایک اہم موقع ہے، تاہم اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان اسے عملی اقتصادی اور سفارتی نتائج میں کس حد تک تبدیل کرتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments