نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال

کراچی: (دنیا نیوز) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں نیا انتظامی یونٹ بننے سے کوئی قتل و غارت گری نہیں ہوگی، ہم پاکستان کو توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔

کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے سے رہ رہے ہیں، اگر قتل و غارت گری ہونی ہوتی تو شہر میں موجود مسائل اور محرومیوں پر اب تک حالات خراب ہوچکے ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بننے کی صورت میں کراچی میں رہنے والے اردو بولنے والے لوگ سندھی بھائیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کریں گے اور قتل و غارت گری یا ہنگامہ آرائی ہوگی، تاہم یہ خدشہ بے بنیاد ہے۔

مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں نہیں دی جاتیں، حتیٰ کہ ان کے بقول 18 سالہ دور حکومت میں ایک چپڑاسی کی نوکری تک نہیں دی گئی۔ انہوں نے کوٹا سسٹم کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں نوجوانوں کو مختلف واقعات میں جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں، کہیں ٹریفک حادثات میں لوگ مارے جاتے ہیں اور کہیں معمولی رقم یا موبائل فون چھیننے کے دوران انہیں گولی مار دی جاتی ہے۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو پینے کا پانی، بہتر سڑکیں اور بنیادی شہری سہولتیں میسر نہیں، شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے جبکہ مختلف سرکاری محکموں میں رشوت کا مسئلہ موجود ہے اور کاروباری افراد سے بھی رشوت طلب کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان مسائل کی وجہ سے فساد ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا۔ ان کے بقول، سندھ کے مختلف علاقوں میں صحت عامہ کے مسائل اور بچوں میں ایڈز پھیلنے کے واقعات بھی سامنے آئے لیکن اس پر بھی کوئی ایسا فساد نہیں ہوا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں سیوریج کے مسائل، بجلی اور گیس کی عدم فراہمی، سڑکوں کی خراب صورتحال اور پینے کے پانی کی قلت جیسے مسائل موجود ہیں، جبکہ کے فور منصوبہ بھی طویل عرصے سے مکمل نہیں ہوسکا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں سیاسی مفادات کے لیے سندھیوں کو مہاجروں، مہاجروں کو پختونوں، بلوچوں کو پختونوں اور لیاری والوں کو رنچھوڑ لائن کے رہائشیوں سے لڑانے کی سیاست کی گئی، جس کے نتیجے میں شہری اپنے بنیادی مسائل، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے متعلق مطالبات بھول گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو آپس میں لڑوا کر سیاست کی جاتی رہی، تاکہ لوگوں کو اپنی جان و مال کی فکر لاحق رہے اور وہ پانی، نوکری، دوا اور اسکول جیسے بنیادی مسائل بھول جائیں۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کی بات کسی قوم یا زبان کے خلاف نہیں بلکہ انتظامی معاملات بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایسے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر قوم کو ضرورت پڑی تو وہ اور ان کے ساتھی ہر وقت اور ہر جگہ قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...