خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی، صوبائی حکومت پر سوالات اٹھنے لگے
پشاور: (دنیا نیوز) خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی پر صوبائی حکومت کی کارکردگی اورغیرسنجیدہ رویہ پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔
وزیر اطلاعات و نشریات کے مطابق خیبرپختونخوا میں رواں سال دہشتگردی کے 2,456 واقعات رونما ہوئے، جو اوسطاً روزانہ 10 بنتے ہیں، ان دہشتگردی کے واقعات میں سولین اور سکیورٹی فورسز بشمول 472 افراد شہید ہوئے جواوسطاً یومیہ 2 شہادتیں بنتی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے نتیجے میں 1,584 افراد زخمی و معذور ہوئے، جواوسطاً یومیہ 7 بنتے ہیں، جبکہ رواں سال خیبرپختونخوا میں رونما ہونے والے 19 خودکش دھماکوں میں ملوث حملہ آور افغان باشندے تھے۔
افغان سرزمین سے سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور ڈرون حملوں نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان سے مذاکرات پر اصرار جبکہ دہشتگردوں کیخلاف آپریشنز کی مسلسل کی جا رہی ہے۔
دہشتگردی کی روک تھام کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث خیبرپختونخوا کو بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اورکرائم ٹیرر نیکسز جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
خیبر پختونخواہ حکومت کی تسلسل سے دہشتگردی سمیت افغان دراندازی پر خاموشی، جنازوں میں عدم شرکت ، اپیکس کمیٹی کے اجلاس نہ کرنا اور پولیس و سی ٹی ڈی کی استعداد کار نہ بڑھانا دہشتگردی کی سہولت کاری ثابت ہو رہی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments