شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں
ابوظہبی: (سید مدثر خوشنود) او بی ایس گلوبل ون بزنس سیزن کے چیف بزنس سیویئر ڈاکٹر میک منیر احمد چوہدری نے متحدہ عرب امارات کے وزیرِ رواداری و بقائے باہمی ہز ایکسی لینسی شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان کی مجلس میں شرکت کو قیادت، انسانیت، رواداری اور باہمی احترام کا ایک یادگار تجربہ قرار دیا ہے۔
اپنے مضمون میں ڈاکٹر میک منیر احمد چوہدری نے لکھا کہ بعض اجتماعات اپنی گرمجوشی، باوقار ماحول اور لوگوں کو احترام کے ساتھ ملانے کی خوبی کے باعث دیرپا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان کی مجلس میں شرکت ان کے لیے ایک اعزاز تھا، جہاں ممتاز شخصیات، رہنماؤں اور مہمانوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس مجلس نے قیادت کی انسانی بنیادوں کو مزید واضح کیا، جن میں مہمان نوازی، توجہ، گفتگو اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا جذبہ شامل ہے۔
مضمون میں اماراتی مجلس کی روایت کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا گیا کہ مجلس صرف ایک سماجی نشست نہیں بلکہ گفتگو، خیالات کے تبادلے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر میک منیر احمد چوہدری نے لکھا کہ لوگ ایک دوسرے کو بہتر طور پر اس وقت سمجھتے ہیں جب انہیں بیٹھنے، سننے اور مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے رواداری اور بقائے باہمی کو روزمرہ زندگی کی عملی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدار اس بات سے جھلکتی ہیں کہ ہم مہمانوں کا استقبال کیسے کرتے ہیں، مختلف خیالات کو کیسے سنتے ہیں اور مختلف تجربات رکھنے والے لوگوں کے ساتھ کیسے کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تعاون صرف کاروباری مفادات سے نہیں بلکہ باہمی احترام، ثقافتوں کی سمجھ، اعتماد اور مسلسل رابطے سے مضبوط ہوتا ہے۔
ڈاکٹر میک منیر احمد چوہدری نے کہا کہ شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان کی مجلس سے حاصل ہونے والا پیغام او بی ایس گلوبل — ون بزنس سیزن کے مشن سے گہری مطابقت رکھتا ہے، کیونکہ ادارے کا مقصد مختلف ممالک، کاروباروں اور مواقع کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ ان کے مطابق مضبوط بین الاقوامی بزنس ایکو سسٹم اسی وقت قائم ہوتا ہے جب تعلقات اعتماد، احترام، گفتگو اور عملی تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھیں۔
ڈاکٹر میک منیر احمد چوہدری نے ہز ایکسی لینسی شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے اعزاز بھی تھا اور حوصلہ افزائی بھی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جوڑنا ایک ذمہ داری ہے، جس کے لیے عاجزی، صبر اور احترام ضروری ہیں، جبکہ مضبوط پل وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو ایک دوسرے کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments