لاہور ہائیکورٹ نے براہ راست اپیلٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا حق تسلیم کرلیا
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکس دہندگان کے حق میں اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس کے معاملات میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیلز) سے رجوع کیے بغیر براہ راست اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے خالد نذیر اسپننگ لمیٹڈ کی جانب سے دائر ٹیکس ریفرنس منظور کرتے ہوئے اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو کا اپیل ناقابل سماعت قرار دینے کا فیصلہ کالعدم کردیا۔ جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس محمد عثمان غنی راشد چیمہ پر مشتمل بینچ کا 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 45-B میں شامل دوسرے پرووائزو کے تحت رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کو کمشنر اپیلز کا فورم اختیار کیے بغیر براہ راست اپیلٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ دفعہ 46 میں بھی اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے، اس لیے دونوں دفعات کو باہم ملا کر پڑھنا ضروری ہے۔
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کسی ٹیکس دہندہ کی اپیل محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کی جاسکتی کہ متعلقہ افسر نے فیصلہ دفعہ 45-B میں درج مخصوص قانونی دفعات کے بجائے کسی دوسری قانونی شق کے تحت کیا ہے۔ اگر ان لینڈ ریونیو کا افسر کسی رجسٹرڈ ٹیکس دہندہ کی شکایت پر حتمی فیصلہ دے اور اس کے مالی حقوق متاثر ہوں تو اس کے خلاف براہ راست اپیل کا حق موجود ہے۔
درخواست گزار کمپنی نے موقف اختیار کیا تھا کہ مارچ 2026 کے بجلی کے بل میں اس پر 12 لاکھ 87 ہزار 314 روپے اضافی ٹیکس اور 3 لاکھ 2 ہزار 897 روپے مزید ٹیکس عائد کیا گیا، حالانکہ متعلقہ وقت میں کمپنی کا نام ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل تھا۔
کمپنی کے مطابق کمشنر ان لینڈ ریونیو نے اس کا موقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ جنوری اور فروری 2026 کے سیلز ٹیکس گوشوارے مقررہ وقت کے بعد جمع کرانے کے باعث مارچ 2026 میں اسے غیر فعال ٹیکس دہندہ تصور کیا گیا، لہٰذا بجلی کے بل میں اضافی ٹیکس اور مزید ٹیکس عائد کرنا درست تھا۔
کمپنی نے کمشنر کے فیصلے کے خلاف براہ راست اپیلٹ ٹربیونل سے رجوع کیا، تاہم ٹربیونل نے دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر اپیل ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کردی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کا فیصلہ محض انتظامی خط یا مشاورتی رائے نہیں تھا بلکہ اس نے کمپنی کی شکایت کا حتمی فیصلہ کرتے ہوئے اس پر عائد مالی بوجھ برقرار رکھا تھا، اس لیے اسے قانونی طور پر قابل اپیل فیصلہ تصور کیا جائے گا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اپیل کا حق محض طریقہ کار کی سہولت نہیں بلکہ ایک قانونی حق ہے، جسے ایسی تشریح کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا جس سے ٹیکس دہندہ انصاف کے حصول سے محروم ہوجائے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپیلٹ ٹربیونل کا 2 جولائی 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کمپنی کی اپیل بحال کردی اور ہدایت کی کہ ٹربیونل فریقین کو مناسب موقع سماعت فراہم کرنے کے بعد ٹیکس کے معاملے کا میرٹ پر ازسرنو فیصلہ کرے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments