عوام پر ایک اور بوجھ، بجلی فی یونٹ 2 روپے 36 پیسے مہنگی
اسلام آباد: (دنیا نیوز) نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی فی یونٹ 2 روپے 36 پیسے مہنگی کر دی۔
نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا، بجلی ستمبر کے فیول کاسٹ کی مد میں مہنگی ہوئی۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کےاضافےکا اطلاق نومبرکے بلوں میں ہوگا، اس کا اطلاق کے الیکٹرک پر بھی ہوگا۔
واضح رہے کہ سی پی پی اے نے ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ میں 2 روپے56 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا۔
دوسری طرف نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے متعارف کرائے گئے بجلی کے خصوصی ٹیرف میں متنازع تبدیلی کا اعلان کر دیا، جبکہ نومبر کے مہینے کے لیے بجلی صارفین پر 2.37 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ ڈالنے کی بھی منظوری دے دی۔
صنعتی شعبے کی مخالفت کے باوجود کیے گئے اس فیصلے کے منفی اثرات کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین پر پڑنے کا امکان ہے۔
نیپرا کے چاروں ارکان نے متفقہ طور پر پاور ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کو مقررہ قانونی مدت میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا، ان کے مطابق اداروں کی اس ناکامی کے باعث نیپرا کو ایک غیر معمولی تعطل کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ملک بھر میں بجلی صارفین کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
تنازع کا بنیادی مرکز صنعتی صارفین کے لیے دسمبر گزشتہ سال متعارف کرایا گیا انکریمنٹل سپورٹ پیکیج (آئی ایس پی) تھا، جس کے تحت فی یونٹ 22.98 روپے کا خصوصی نرخ مقرر کیا گیا تھا۔
صنعت کار مئی سے اس پیکیج کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، ان کا مؤقف تھا کہ اس پیکیج سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس کے باعث بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے نیپرا کو بار بار یاد دہانی کے باوجود تاخیر سے درخواست جمع کرانے کے بعد نیپرا نے خصوصی ٹیرف 22.98 روپے سے بڑھا کر 25.30 روپے فی یونٹ کرنے کی منظوری دے دی۔
اس فیصلے کی نیپرا کے دو اہم ترین ارکان، یعنی ممبر ٹیرف اور ممبر ڈویلپمنٹ نے سخت مخالفت کی، دلچسپ امر یہ ہے کہ نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے اپنے تحریری مؤقف میں اختلاف کرنے والے دونوں ارکان کے دلائل اور اعتراضات کی مکمل تائید کی۔
بعد ازاں اپنا خصوصی فیصلہ کن ووٹ استعمال کرتے ہوئے موجودہ نرخ 22.98 روپے برقرار رکھنے کے بجائے اسے بڑھا کر 25.30 روپے فی یونٹ کرنے کی منظوری دے دی، اس معاملے پر اتھارٹی کے ارکان میں 2-2 کی تقسیم ہوگئی تھی۔
ممبر ٹیرف آمنہ احمد اور ممبر ڈیولپمنٹ مقصود انور نے اپنے مشترکہ اختلافی نوٹ میں کہا کہ مجوزہ نظرثانی شدہ نرخ 25.30 روپے فی یونٹ بھی ایک من مانا عدد ہے، جس کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
دونوں ارکان نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ وزارت توانائی کی جانب سے تجویز کردہ اور چیئرمین و ممبر قانون کی جانب سے منظور شدہ 25.30 روپے فی یونٹ کا نظرثانی شدہ انکریمنٹل ریٹ بظاہر پیکیج کے ابتدائی ڈیزائن کے وقت فرض کیے گئے پیداواری نظام اور تازہ ترین ایندھن کی قیمتوں کی بنیاد پر مقرر کیا گیا ہے۔
اپنا فیصلہ کن ووٹ استعمال کرتے ہوئے نیپرا چیئرمین وسیم مختار نے تسلیم کیا کہ اختلافی ارکان کے نتائج اور سفارشات سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں تاہم موجودہ مرحلے پر اس پیکیج کو معطل کرنا مناسب نہیں ہوگا، وزارت توانائی کو ایک اور موقع دیا جانا چاہئے تاکہ وہ وہ معلومات فراہم کر سکے جن کا نیپرا بار بار مطالبہ کرتا رہا ہے، حتیٰ کہ اپنے تازہ ترین فیصلے میں بھی یہ معلومات طلب کی گئی ہیں۔
نیپرا کے چاروں ارکان اس بات پر متفق تھے کہ پاور ڈویژن کو چھ ماہ قبل نظرثانی شدہ حسابات جمع کرانے تھے، لیکن بار بار یاد دہانی کے باوجود ایسا نہیں کیا گیا، ارکان نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ وزارت نے نیپرا کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments