سوسی وائلز برطرف، اسٹیفن ملر نئے وائٹ ہاؤس چیف آف سٹاف مقرر
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بدترین شکست پر ٹرمپ ناراض ہیں، سخت گیر امیگریشن پالیسی کے معمار اسٹیفن ملر کو اہم ذمہ داری سونپ دی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت کھونے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے چیف آف سٹاف سوسی وائلز کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جبکہ ان کی جگہ طویل عرصے سے ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور سخت گیر امیگریشن پالیسی کے معمار اسٹیفن ملر کو نیا چیف آف سٹاف مقرر کر دیا ہے۔
یہ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں اعلیٰ سطح پر پہلی بڑی انتظامی تبدیلی ہے، سوسی وائلز پیر سے اپنے عہدے سے سبکدوش ہوں گی اور ٹرمپ کی سیاسی ٹیم میں ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق انتخابی نتائج پر ٹرمپ کی ناراضی مسلسل بڑھ رہی تھی اور وہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کا ذمہ دار اپنی سیاسی ٹیم کی حکمت عملی کو قرار دے رہے تھے۔
اسٹیفن ملر اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں نائب چیف آف سٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور ٹرمپ کی پہلی صدارتی مہم 2015 سے ان کے ساتھ ہیں، انہیں ٹرمپ کی متنازع امیگریشن پالیسیوں کا مرکزی معمار سمجھا جاتا ہے۔
سوسی وائلز وائٹ ہاؤس کی پہلی خاتون چیف آف سٹاف تھیں اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کی سربراہ بھی رہ چکی تھیں، انہوں نے حال ہی میں چھاتی کے سرطان کا علاج مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے کہ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت میں 4 چیف آف سٹاف تبدیل ہوئے تھے، تاہم وائلز ان سب سے زیادہ عرصے تک اس عہدے پر فائز رہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments