پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی سے حملے نہ کرنے کا استثنیٰ لیا ہوا ہے: عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی سے حملے نہ کرنے کا استثنیٰ لیا ہوا ہے، یہ ٹی ٹی پی سے ڈرتے ہیں، وہ ان پر حملے نہیں کرتی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک غیرت مند، بہادر اور باوقار عوام کے حامل صوبے پر ایسی حکومت مسلط ہے جس کی سوچ محدود اور رویہ افسوسناک ہے، سیاسی اختلاف کی آڑ میں خواتین کو نشانہ بنانا نہ صرف شرمناک بلکہ بزدلی کی واضح علامت ہے، اور یہ طرزِ عمل کسی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نعرہ لگاتے ہیں عشق بانی پی ٹی آئی میں ماراجاؤں گا، آپ کا کوئی سرکاری وزیر بھی خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں علاج نہیں کراتا، راولپنڈی کارڈیالوجی ہسپتال چلیں اکثریت کے پی سے آئے مریضوں کی ہوگی، ٹانک ضلع میں انسان اورجانور ایک تالاب سے پانی پیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی درجنوں یونیورسٹیوں میں عملہ موجود نہیں، کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں خواتین کیلئے ایک بھی کالج موجود نہیں، کوہستان سے اربوں روپے کی کرپشن کے اسکینڈل آتے ہیں، ان سے پوچھ لیں صحت اورتعلیم کے شعبوں میں کیا اصلاحات کیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گرد ان کے مائی باپ ہیں، دہشت گرد ان کو پیسے کماکردیتے ہیں، یہ دہشتگردی کو فروغ دیتے ہیں، ہم صحت،تعلیم کے بجٹ پر آپ سے جواب ضرور مانگیں گے، آپ کے پاس کوئی جواب نہیں، آپ کا سارافوکس ہے کہ دہشتگردوں کو کچھ نہ کہو، دہشتگردوں کے بارے کہتے ہیں کوئی پتھر سے نہ مارےمیرے دیوانے کو۔۔۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک خوبصورت صوبہ ہے جہاں کے عوام اپنی غیرت، بہادری اور مشکلات کے مقابل کھڑے رہنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں، مگر بدقسمتی سے وہاں ایسی حکومت قائم ہے جس کی سوچ چھوٹی اور طرزِ سیاست نفرت انگیز ہے، پورا پاکستان سب کا ہے، کوئی بھی لاہور یا کراچی جا سکتا ہے، لیکن لاہور جا کر خواتین پر ذاتی اور تضحیک آمیز حملے کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔

انہوں نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے حوالے سے استعمال کیے گئے الفاظ پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی مرد کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خواتین کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کرے، خواتین کو نشانہ بنانا دراصل معاشرے میں موجود میسوجنی کی عکاسی ہے، جہاں کسی پر حملہ کرنے کے لیے سب سے پہلے عورت کو ہدف بنایا جاتا ہے، جو کہ نہایت شرمناک رویہ ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات کی جانب سے ایک خاتون وزیر کے بارے میں غیر مناسب گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگ اپنی ہی بہنوں اور بیٹیوں کے احترام کا تصور بھی نہیں کرتے، عورتوں پر حملہ کرنے والے دراصل اندر سے کھوکھلے اور بزدل ہوتے ہیں، اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بزدلی کا اظہار اکثر خواتین کو نشانہ بنا کر کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر واقعی کسی میں جرات ہے تو وہ دہشت گردی جیسے اصل مسائل پر کھل کر بات کرے، بطور وفاقی وزیر اطلاعات وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے، اور ریاست ان کا آخری دم تک تعاقب کرے گی، یہ حوصلہ اور اعتماد افواجِ پاکستان، سکیورٹی اداروں اور ان جوانوں پر مکمل یقین کی وجہ سے ہے جو ہر روز جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کے دفاع کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی اپیل کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں نے نہ صرف وطن سے وابستگی کا ثبوت دیا بلکہ ریکارڈ توڑ ترسیلات زر بھیج کر ملکی معیشت کو مضبوط کیا، وزیراعظم اور حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں، اس وقت پاکستان کے پاس کئی ماہ کی درآمدات کے لیے امپورٹ کور موجود ہے، جو معاشی استحکام کی واضح علامت ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں پر تنقید کرنے والوں کو معیشت پر ان دوروں کے اثرات کو سمجھنا چاہئے، جہاں وزیراعظم جاتے ہیں وہاں پاکستان کی مصنوعات، تجارت اور سرمایہ کاری کی بات ہوتی ہے، ملائیشیا نے پاکستان کے لیے حلال گوشت اور چاول کے کوٹے میں اضافہ کیا، جو براہ راست سفارتی روابط کا نتیجہ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جب کسی ملک کی جانب سے پاکستان کو سرکاری دعوت دی جاتی ہے، گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے اور جہازوں کے ذریعے اسکارٹ کیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی عزت اور عالمی اعتماد کا اظہار ہوتا ہے، ایسے روابط کے نتیجے میں دفاع، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھتا ہے، جو بالآخر ملکی معیشت کے استحکام کا سبب بنتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر یہ کہا جاتا تھا کہ تمہاری ثقافت، تمہاری تاریخ اور تمہارے معاملات ہم تم سے بہتر جانتے ہیں، لیکن اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرق بھی ناراض ہوا اور مغرب بھی، لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کا رویہ اختیار کیا گیا اور پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو گیا، یہ سب ایک شخص کی انا کی وجہ سے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے بڑے عالمی فورمز پر پاکستان کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا جا رہا ہے، چاہے وہ عالمی کانفرنسیں ہوں یا بڑے عالمی اجلاس۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ہر پاکستانی کے لیے عزت اور فخر کی بات ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ جن لوگوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اپنی انا کی نذر کیا، آج انہی کی جماعت کے افراد تنقید کر رہے ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ بتائیں کہ خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کی کیا کامیابیاں ہیں، اور خود ہی جواب دیا کہ ان کی کارکردگی صفر بٹا صفر ہے، ماضی میں ایک بھی بڑا عالمی معاہدہ کرنے میں ناکامی رہی، جبکہ آج پاکستان کے ساتھ اہم دفاعی اور معاشی معاہدے طے پا رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں