عرب اسلامی ممالک کا ایران سے ہمسایہ ملکوں کے خلاف حملے فوری روکنے کا مطالبہ

ریاض: (دنیا نیوز) مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال پر عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا سعودی دارالحکومت ریاض میں اجلاس ہوا جہاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو سپورٹ کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ ‏سعودی عرب ایران حملوں کے بعد فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

خطاب کے دوران سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے، ایران ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ رویہ اپنا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت جاری رکھیں گے۔

وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے شرکت کی، دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان تمام ممالک پر حملوں کے خاتمے پر زور دے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، سعودی عرب کا ایران کو انتباہ

اجلاس میں آذربائجان، بحرین، شام، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات نے شرکت کی، کویت، اردن، اور مصر کے وزرائے خارجہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اعلامیہ

عرب اور اسلامی ممالک کے مشاورتی اجلاس کے اعلامیے میں خطے پر ایرانی حملوں کی پُرزور مذمت کی گئی۔

اعلامیہ کے مطابق ایران خلیجی ممالک کے سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے، ایران ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات،سفارتخانوں اورعوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ حملے کسی صورت جائز نہیں، اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق خلیجی ریاستوں کو دفاع کا حق حاصل ہے۔

اعلامیے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اورہمسایہ ممالک کا احترام کرے اورفوری طور پر حملے روکے۔

اعلامیے میں کہا گیا ایران خطے کے امن اور استحکام کو یقینی بنائے، اعلامیے میں ایران سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل پیدا نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں