لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ، جس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے پِی ٹو پِی (P2P) لین دین سے متعلق ایک اہم مقدمے میں ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ صرف یہ حقیقت کہ کسی شخص نے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کا لین دین کیا یا اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوئی، اسے ازخود دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایک مقدمہ درج کیا جس میں درخواست گزار حماد علی، اسد امجد اور محمد اطہر پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 13 اور 14 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا، الزام تھا کہ وہ پِی ٹو پِی مرچنٹس کے طور پر کام کرتے ہوئے شکایت کنندہ سے رقوم وصول کرنے والے افراد میں شامل تھے اور ان کے بینک اکاؤنٹس میں مختلف اوقات میں رقوم منتقل کی گئیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ محمد فرحان نے ایف آئی اے کو بتایا کہ اسے ایک جاننے والے نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، اس نے ابتدا میں 25 ہزار یو ایس ڈی ٹی خریدے، بعد ازاں مسلسل نقصانات کے باعث مزید سرمایہ کاری کرتا رہا اور مجموعی طور پر 2 لاکھ 70 ہزار یو ایس ڈی ٹی خریدنے کیلئے تقریباً 6 کروڑ 86 لاکھ روپے مختلف افراد کو منتقل کیے۔
اس کا کہنا تھا کہ اس نے اس مقصد کیلئے اپنا گھر، گاڑیاں، کاروباری اثاثے اور سونا تک فروخت کیا، تاہم بعد میں کرپٹو پلیٹ فارم نے اس کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ورچوئل اثاثوں تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اپنے فیصلے میں ایک اہم قانونی اصول طے کیا کہ صرف آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کی منتقلی یا کسی شخص کے اکاؤنٹ میں رقم آنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس نے دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کیا ہے، استغاثہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ ملزمان نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، جعلی ڈیٹا یا جعلی الیکٹرانک ریکارڈ تیار کیا، یا پلیٹ فارم کے اکاؤنٹ منجمد ہونے میں ان کا کوئی کردار تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ورچوئل اثاثے یا کرپٹو کرنسی پاکستان میں قانونی زرِ مبادلہ (Legal Tender) نہیں، تاہم صرف اس بنیاد پر انہیں غیر قانونی یا ممنوعہ قرار نہیں دیا جا سکتا، 2018 میں سٹیٹ بینک کا سرکلر نجی افراد کے لیے فوجداری جرم پیدا نہیں کرتا تھا بلکہ صرف بینکوں اور دیگر ریگولیٹڈ اداروں کے لیے ہدایات تھیں، صرف اس وجہ سے کہ کسی نے یو ایس ڈی ٹی کی خرید و فروخت کی، اسے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک بیرون ملک ادائیگی یا غیر قانونی زرمبادلہ کا واضح تعلق ثابت نہ ہو۔
فیصلے کے مطابق ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ درخواست گزاروں نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دیا، جعلی الیکٹرانک ریکارڈ بنایا، الیکٹرانک فراڈ کیا یا اس پلیٹ فارم کو کنٹرول کیا جس نے شکایت کنندہ کا اکاؤنٹ منجمد کیا، مزید برآں تمام شواہد دستاویزی نوعیت کے ہیں، درخواست گزار تحقیقات میں شامل ہو چکے ہیں اور ان کی جسمانی تحویل میں تفتیش کی ضرورت بھی ثابت نہیں ہوئی۔
عدالت نے ان وجوہات کی بنا پر درخواست گزاروں کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے ایک، ایک ملین روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments