نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ جاری کردیا۔

12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا، فیصلے کے مطابق مجرم کی استدعا تھی کہ ذہنی مریض ہونے پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے، مجرم نے ایسے شواہد پیش نہیں کیے کہ عدالت فیصلے پر نظرثانی کرے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ مجرم انتہائی سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہے، مجرم کا جرم ایسا نہیں تھا کہ اس کی سزا میں کمی کی جا سکے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نظرثانی میں عدالت کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے، نظرثانی کی درخواست کو اپیل کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے مطابق سال 2026 میں 50 ہزار خواتین آشنا یا اہل خانہ کے ہاتھوں قتل ہوئیں، اسلام نے خواتین کو بے حد تحفظ اور احترام دیا ہے۔

فیصلے کے مطابق خواتین پر تشدد، مثلاً عدم تحفظ کا شکار کرنا شرعی اور دنیاوی قوانین کے خلاف ہے۔

ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو نور مقدم کو زیادتی اور قتل پر سزائے موت دی تھی، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...