گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے سے سیلاب، شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بند
گلگت: (دنیا نیوز) گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچادی، جس کے باعث شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بند ہوگئیں، زرعی اراضی، فصلوں اور مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
شدید بارش کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے غذر کے مختلف علاقوں میں گھروں اور فصلوں کو نقصان پہنچایا، نوبہار گاؤں میں سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتے ہوئے گش گش جماعت خانہ کو بھی نقصان پہنچایا، جبکہ فصلیں، پھل دار درخت اور زرعی اراضی بھی تباہ ہوگئی۔
مختلف علاقوں میں سیلاب کے باعث امیٹ سے برجنگل جانے والی سڑک بند ہوگئی جبکہ راستے میں بجلی کی ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سڑک کی بندش کے باعث مقامی آبادی کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ سڑک کو ٹریفک کے لیے بحال کیا جائے اور سیلاب متاثرین کو فوری امداد فراہم کرتے ہوئے ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سوست سے خنجراب ٹاپ تک شاہراہ قراقرم مکمل طور پر بند ہے، متعلقہ ادارے شاہراہ کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
حکام نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
دوسری جانب ٹورازم پولیس کے مطابق ہنزہ میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد گاؤں کے درمیان شاہراہ قراقرم کا وہ حصہ جو لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگیا تھا، ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں یوں تو یکم اگست سے وقفے وقفے سے بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس قدر شدید بارش پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
گلگت کے رہائشی وسیم بیگل نے بتایا کہ شدید بارش اور گرج چمک کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس نوعیت کی شدید بارش اور گرج چمک کا مشاہدہ نہیں کیا، تاہم ان کے علاقے میں بارش سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
مسلسل بارش کے باعث گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت بھی گر گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ دیامر کے مطابق بابوسر ٹاپ پر ہفتے کی صبح رواں سیزن کی پہلی برف باری ہوئی، تاہم بابوسر روڈ پر ٹریفک بدستور جاری رہی۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق رواں سال جون سے اگست کے دوران خطے میں بادل پھٹنے اور گلیشیئرز پگھلنے کے نتیجے میں 120 سیلابی واقعات پیش آئے۔
ان سیلابوں کے باعث درجنوں مکانات، زرعی اراضی، باغات، درخت، آب پاشی کی نہریں اور سڑکیں تباہ ہوئیں جبکہ بجلی کے نظام کو بھی نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں کے مکین کئی روز تک دیگر علاقوں سے منقطع رہے۔
ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں موسمی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، جس کے نتیجے میں بار بار سیلاب، بادل پھٹنے کے واقعات، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور غیر معمولی درجہ حرارت جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کے پہلے ہی نازک ماحولیاتی نظام کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔ 8 ہزار سے زائد گلیشیئرز، تقریباً 300 گلیشیائی جھیلوں اور بلند و بالا پہاڑوں پر مشتمل اس خطے میں رہنے والی آبادی کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید قدرتی آفات کا سامنا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments