کمرہ عدالت سے باہر جانے پر وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے وضاحت طلب

لاہور: (محمد اشفاق) وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو عدالتی سماعت کے دوران فون سننے کیلئے کمرہ عدالت سے باہر جانا مہنگا پڑ گیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے ڈی آئی جی ناصر عمر ورک کو اگلے گریڈ میں ترقی نہ دینے کے خلاف کیس کی سماعت کی، سماعت سے چند منٹ قبل وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان فون سننے کیلئے کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔

اس دوران سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی عدم پیشی پر استفسار کیا کہ کدھر ہیں وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ؟ کب بادشاہ سلامت تشریف لا رہے ہیں؟ کیس کو کیوں انتظار میں رکھا جائے؟

سینئر افسران نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ فون سننے کیلئے عدالت سے باہر گئے ہیں جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ عدالت آ رہے ہیں، شوکاز نوٹس جاری نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ آپ عدالتی کارروائی میں مداخلت نہ کریں، چیف جسٹس نے وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے 23 ستمبر تک وضاحت طلب کر لی۔

یاد رہے کہ ڈی آئی جی احمد ناصر عمر ورک نے اگلے گریڈ میں ترقی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...