دہشت گردی کا خطرہ صرف خیبر پختونخوا نہیں، پورے پاکستان کو ہے: رانا ثناء اللہ
لاہور: (دنیا نیوز) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خطرات واضح ہیں، ایسے حالات میں ثبوت مانگنے کا کیا مطلب ہے؟ اگر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صرف خیبر پختونخوا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق سوالات کے جواب دیے، ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت صوبے میں دہشت گردی کے ثبوت دینے میں ناکام رہی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جو چیز سورج کی طرح عیاں ہو، اس کا ثبوت مانگنے کے کیا معنی ہیں؟ کیا پورے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی نہیں ہو رہی؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 40 سال سے دہشت گردی کا شکار ہے، تاہم اس عرصے میں ملک کو اس نوعیت کی دہشت گردی کا سامنا نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سندور آپریشن میں ناکامی کے بعد بھارت نے پراکسیز کا سہارا لیا۔ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد بھارت افغانستان میں بیٹھا ہوا ہے، اب ڈرونز کے ذریعے بھی حملے کیے جا رہے ہیں اور اسرائیل کی تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے اس خطرے کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو اس کے نتائج پورے پاکستان کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن اس نے انکار کیا، جس کے بعد وفاق نے صوبے کا انتظام سنبھالا۔ اب جو خلا موجود تھا اسے پُر کیا جائے گا، ان کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گے۔
مذاکرات کے حوالے سے سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے آنا چاہتی ہے تو اسے موجودہ نظام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روز روز نظام میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments