عوام کو ریلیف دلانے کیلئے جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی: لیاقت بلوچ
اسلام آباد: (دنیا نیوز) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے، حکومت کو عوام کو مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی نے دھرنے دیے اور کراچی سے ملتان تک ٹرین مارچ بھی کیا، ملتان پہنچنے پر وزیراعظم نے رابطہ کیا، جس کے بعد وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ موخر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ وزیراعظم کی امیر جماعت اسلامی سے ملاقات سے پہلے دونوں مذاکراتی کمیٹیاں بعض معاملات پر اتفاق رائے پیدا کریں، جماعت اسلامی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے اپنی تجاویز رکھ دی ہیں، جن پر پیش رفت ضروری ہے۔
نائب امیر جامعت اسلامی کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت پٹرول کی قیمت 242 روپے 66 پیسے فی لٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 246 روپے 80 پیسے فی لٹر ہے، حکومت فی لٹر پٹرول پر ٹیکسوں کی مد میں 162 روپے اضافی جبکہ ڈیزل پر 148 روپے وصول کر رہی ہے۔
لیاقت بلوچ نے الزام عائد کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی آڑ میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو دھوکہ دے رہی ہے اور عوام کو لوٹ رہی ہے، حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کو تیار نہیں جب کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔
اُنہوں نے کہا کہ آئی پی پیز (آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں) اور آئل ریفائنری کے معاملات میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے، ہماری جماعت چاہتی ہے کہ ان معاملات پر عملی پیش رفت ہو تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ وزیراعظم حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، تاہم یہ ملاقات محض فوٹوشوٹ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں عوامی مسائل کے حل کے لیے ٹھوس فیصلے ہونے چاہئیں، آج ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کو بھی بریف کیا جائے گا۔
لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دلانے کی جدوجہد جاری رکھے گی اور حکومت سے مطالبہ کرے گی کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی اور عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments