گیسی غبارے میں پرواز، امریکی ٹیم بحرِ اوقیانوس عبور کرکے یورپ پہنچ گئی

برسلز: (ویب ڈیسک) اٹلانٹک ایکسپلورر کی اب تک کی سب سے بڑی اور تاریخ ساز کامیابی ریکارڈ ہوئی ہے، جہاں 3 رکنی ٹیم ہائیڈروجن گیس غبارے میں پرواز کرکے بحرِ اوقیانوس عبور کرکے 3 دن تک مسلسل پرواز کرتے ہوئے یورپ پہنچ گئی۔

کھلی ٹوکری والے غبارے نے امریکا سے یورپ تک کا سفر کامیابی سے طے کیا، اس تاریخی کامیابی کے پائلٹ برٹ پیڈلٹ ہیں جبکہ پیٹر کیونیو اور ایلیسیا ہیمپلمین ایڈمز معاون ہم سفر ہیں۔

تین رکنی ٹیم نے امریکی ریاست میئن کے شہر پریسک آئل سے گیس ہائیڈروجن بھرے غبارے میں 4 جون کو اڑان بھری تھی، گیس غبارے نے سمندر پر اوسط 24 ہزار فٹ کی بلندی سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا، یہ ٹیم اس سے قبل 2024 اور 2025 میں بھی یہ کوشش کر چکی ہے۔

موسم کی خرابی یا گیس لیک ہونے کی وجہ سے دو بار سفر روکنا پڑا تھا، گیس غباروں میں بحر اوقیانوس کو پار کرنے کی کامیاب مہمات کا پہلے ریکارڈ نہیں ہے۔

کھلی ٹوکری میں ہائیڈروجن گیس سے کھلے کھٹولے میں سمندر کو پار کرنا بڑی کامیابی اور نیا ریکارڈ ہے، امریکی ٹیم کے مشن کا بنیادی مقصد محض پرواز کرنا نہیں تھا بلکہ ٹیم کا بنیادی ہدف 8ہزار فٹ کی بلندی سے ہوا کے نمونے جمع کرنا بھی تھا۔

ٹیم نے نئے مائیکرو بایوز اور قدرتی پروٹینز دریافت کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی اور کہا جارہا ہے کہ ٹیم کے حالیہ تجربات ادویات، بائیو فیوز اور زراعت میں مددگار ثابت ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں