طلبہ کی مدد کیلئے مصنوعی ذہانت سے چلنے والا انسانی روبوٹ متعارف

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی ریاست نیویارک کے ایک سکول میں تدریسی معاون کے طور پر مصنوعی ذہانت سے چلنے والا انسانی روبوٹ متعارف کروا دیا گیا، جس کی قیمت تقریباً 57,600 ڈالرز ہے۔

روبوٹ ابتداء میں جماعت 11 اور 12 کے طلبہ کو کوڈنگ، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے مضامین میں اساتذہ کے ساتھ مل کر معاونت فراہم کرے گا۔

حکام کے مطابق اس کا مقصد اساتذہ کی جگہ لینا نہیں بلکہ تدریسی عمل کو بہتر بنانا اور طلبہ کے درمیان نئی ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کرنا ہے۔

روبوٹ انسانی شکل، مصنوعی جِلد، لمبے بھورے بال اور حرکت کرنے والے ہاتھ رکھتا ہے تاہم وہ چل نہیں سکتا کیونکہ اس کی ٹانگیں مستقل طور پر ایک ہی جگہ نصب ہیں۔

سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روبوٹ طلبہ کو براہِ راست جواب دینے کے بجائے سوچنے اور مسئلہ خود حل کرنے کی ترغیب دے گا، یہ نظام انٹرنیٹ سے منسلک نہیں، طلبہ کی ذاتی معلومات جمع نہیں کرتا اور نہ ہی آواز یا ویڈیو ریکارڈ کرتا ہے۔

اس منصوبے پر سوشل میڈیا پر تنقید بھی کی جا رہی ہے تاہم سکول انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ انسانی اساتذہ اور براہِ راست تدریسی تعلق ہی تعلیم کا بنیادی حصہ رہے گا جبکہ روبوٹ صرف ایک اضافی تعلیمی معاون کے طور پر استعمال ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...