15 فٹ لمبے اژدھے کا انسانوں میں استعمال ہونے والے طریقے سے کینسر کا علاج
لندن: (ویب ڈیسک) برطانیہ کے چیسٹر چڑیا گھر میں 15 فٹ لمبے اژدھے کا کینسر کا جدید طریقے سے کامیاب علاج کیا گیا ہے، جسے ماہرین اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا کیس قرار دے رہے ہیں۔
چڑیا گھر میں موجود 23 سالہ مادہ سانپ کا نام ہالی ووڈ اداکارہ جوڈی فوسٹر کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس کا وزن تقریباً 50 کلوگرام ہے، عملے کو اس وقت اس کی صحت کے حوالے سے تشویش ہوئی جب اس نے خوراک کم کردی اور معمول سے زیادہ دیر تک بے حرکت رہنے لگی۔
طبی معائنے کے بعد سانپ کے جبڑے میں فائبروسارکوما نامی خطرناک کینسر کی تشخیص ہوئی، ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر سرجری کے ذریعے ٹیومر نکال دیا، تاہم کچھ عرصے بعد کینسر دوبارہ نمودار ہوگیا اور جبڑے کی ہڈی کو بھی متاثر کرنے لگا۔
سانپ کی جان بچانے کے لیے ماہرین نے الیکٹروکیموتھراپی کا استعمال کیا، اس طریقہ علاج میں کینسر کے خلاف استعمال ہونے والی دوا کے ساتھ مخصوص برقی لہروں کی مدد سے کینسر کے خلیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ تکنیک انسانوں کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
جوڈی فوسٹر کا حجم اتنا زیادہ تھا کہ آپریشن کے لیے دو آپریٹنگ ٹیبلز کو آپس میں جوڑنا پڑا، جبکہ مکمل طبی عمل تقریباً 90 منٹ تک جاری رہا۔
علاج کے کئی ماہ بعد سانپ نے دوبارہ معمول کے مطابق خوراک لینا شروع کردی ہے، چڑیا گھر کے عملے کے مطابق وہ اپنی سابقہ چستی اور جارحانہ رویے کی جانب بھی واپس آچکی ہے۔
حالیہ طبی معائنے میں بھی کینسر کی دوبارہ واپسی کے کوئی آثار سامنے نہیں آئے، ماہرین اب اس منفرد علاج کی تفصیلات شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ دنیا بھر میں ویٹرنری ڈاکٹر اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments