نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 2333 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 24 ہزار 701،سندھ میں 4 لاکھ 52 ہزار 267 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 71 ہزار 874،بلوچستان میں 32 ہزار 796 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 4 ہزار 472،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 264 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 33 ہزار 864 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.56 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 30 ہزار 238 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 61 ہزار 947 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 47 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 374 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3261 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 40 ہزار 917 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 51 ہزار 139 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 90 لاکھ ایک ہزار 178 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 4641 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
Coronavirus Updates

امریکا کا عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کرنے کا اعلان

دنیا

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر جوزف بائیڈن نے رواں سال کے آخر تک عراق میں عسکری مشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنا تعاون جاری رہے گا۔

وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیر اعظم مصطفی القدیمی سے ملاقات کے بعد جوزف بائیڈن کا کہنا تھا کہ عراق میں اب بھی موجود 2500 امریکی فوجیوں کے لیے یہ ایک نیا مرحلہ ہوگا۔ عراق میں اب ہمارا کردار دستیابی، تربیت جاری رکھنے، امداد پہنچانے، مدد کرنے اور جب کبھی بھی اسلامک اسٹیٹ اپنا سر اٹھائے اس سے نمٹنا ہو گا لیکن اس برس کے اواخر تک ہم لڑائی کے میدان میں نہیں ہوں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق میں اسلامی شدت پسند تنظیم داعش سے نمٹنے میں امریکی افواج نے فعال کردار ادا کیا ہے۔ امریکا نے جس نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے اس میں عراق سے فوجی انخلا کی بات نہیں کی گئی ہے بلکہ وہ موجود رہے گی تاہم جنگی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے عراقی فورسز کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ لاجیسٹکس اور صلاح و مشورہ فراہم کرے گی۔

عراق میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کا وزیر اعظم مصطفی القدیمی پر زبردست دباؤ رہا ہے کہ عراقی سر زمین پر امریکی افواج کی موجودگی جلد از جلد ختم ہونی چاہیے۔ عراق میں عام انتخابات سے تین ماہ قبل یہ اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔

امریکا نے عراق میں عسکری سرگرمیوں کو بند کرنے کا اعلان ایسے وقت کیا ہے جب افغانستان میں جاری 20 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے مکمل فوجی انخلا کا عمل جاری ہے۔ تاہم مکمل انخلا سے قبل ہی طالبان جنگجوؤں نے کافی پیش قدمی کر لی ہے۔

ایک سینیئر افسر کا کہنا تھا کا عراقی فوجی جنگی امتحان سے گزر چکے ہیں اور وہ اپنے ملک کا دفاع کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم القدیمی بھی یہی کہتے رہے ہیں کہ عراقی فورسز بذات خود ملک کی سکیورٹی سنبھالنے کے لائق ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں