غزہ جنگ میں وسیع پیمانے پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں: یواین

جینیوا: (ویب ڈیسک ) اقوام متحدہ نے ایک بار پھر یہ کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران اسرائیل کی طرف سے ممکنہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کمشنر وولکر ترک نے ایک رپورٹ میں کہی ہے ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی یہ رپورٹ سال 2023 میں فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق ہے اور اس کا دورانیہ 31 اکتوبر 2023 تک ہے۔

رپورٹ میں اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے علاوہ جنگی جرائم کے  ممکنہ  ارتکاب کی بھی بات کی گئی ہے ، تاہم اقوام متحدہ نے ان جنگی جرائم کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ تمام فریقوں کی طرف سے کیے گئے ہیں۔

وولکت ٹرک نے اس رپورٹ کے ساتھ کہا ہے کہ  ہمارے دفتر کی طرف سے رپورٹ کیے گئے استثنا کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے، اس لیے 56 سال سے مغربی کنارے میں اور پچھلے 16 سال سے غزہ کے محاصرے کے دوران کی گئی خلاف ورزیوں کی ہر طرف سے جوابدہی کی جانا چاہیے۔ 

ترک نے اس موقع پر انصاف سے متعلق اپنے شعور کا بھی اظہار کیا ہے کہ  اس تشدد سے بچنے کے لیے انصاف کے لیے با معنی اقدامات کیے جانے چاہییں۔  رپورٹ میں غیر قانونی ہلاکتوں، یرغمال بنانے کی کوششوں شہریوں کی املاک کی مسماری و تباہی کرنے اور انہیں بے گھر کر کے نقل مکانی پر مجبور کرنے وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں غزہ کا زیادہ تر حصہ تباہ کر کے ہموار ملبے میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کی 24 لاکھ کی آبادی قحط کے دہانے پر لے آنا بھی جنگی جرائم میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ پراسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری ، مزید 24 فلسطینی شہید

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے مسلح ونگ اور دیگر فلسطینی مسلح گروپوں نے 7 اور 8 اکتوبر کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔

جنگی جرائم کا ذکر کرتے ہوئے ان میں وسیع پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت، وسیع پیمانے پر بار بار نقل مکانی، گھروں کی تباہی کو شامل کرنے کے علاوہ محاصرے کے ذریعے مناسب خوراک اور دیگر ضروریات زندگی سے انکار بھی جنگی جرائم میں شامل بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ پر مسلط کردہ ناکہ بندی اور محاصرہ اجتماعی سزا کے مترادف ہے اور جنگ کے طریقہ کار کے طور پر شہریوں کو بھوکوں مارنا جنگی جرائم ہیں۔

رپورٹ میں جن تین اسرائیلی حملوں کو بطور مثال پیش کیا گیا ان میں دو جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اور ایک غزہ شہر پر حملہ شامل کیا گیا کہ ان سے بہت زیادہ تباہی کی گئی۔

انسانی حقوق کے کمشنر نے کہا کہ اندھا دھند حملہ کرنا جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوں یا وہ زخمی ہوں،غیر معمولی شہری نقصان ہو، یہ سب جنگی جرائم میں شامل ہے۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے نتیجے میں اب تک 29 ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے گئے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے جبکہ زخمی  69ہزار سے زائد اور بے گھر کیے گئے فلسطینیوں کی نئی تعداد 23 لاکھ کے قریب ہے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں